تھانہ وحدت کالونی کی کرائے کی عمارت کھنڈرات میں تبدیل،حدود میں چوری ڈکیتی اور دیگر وارداتیں عروج پر

تھانہ وحدت کالونی کی کرائے کی عمارت کھنڈرات میں تبدیل،حدود میں چوری ڈکیتی ...

لاہور(خبر نگار) تھانہ وحدت کالونی جس کی عمارت انتہائی خستہ، کئی سالوں سے تھانہ اپنی سرکاری عمارت سے محروم، تھانہ کی حدود میں راہزنوں اور ڈاکوؤں کی لوٹ مار، چھینا جھپٹی عروج پر،سرکاری کوارٹرز میں آئے روز نقب زنی کی وارداتیں، رحمان پورہ چوک، نقشہ سٹاپ، بنک سٹاپ اور رمضان بازار کے قریب ناکہ بندی کے باوجود کرائم کی شرح عروج پر۔روزنامہ پاکستان کے سروے کے دوران تھانہ میں موجود شہریوں نے شکایات کے ڈھیر لگا دئے۔ شہری سلطان نے بتایا کہ 26دسمبر2016ء کو اس کو موٹر سائیکل چوری ہوئی، پولیس نے 5روز بعد 31دسمبر کو سال کا آخری مقدمہ درج کیا، لیکن6ماہ گزر نے کے باوجود پولیس موٹر سائیکل چوروں کا سراغ نہیں لگا سکی ہے،اس موقع پر تھانہ میں آئے ہوئے شہری افضال اور کوثر بی بی نے بتایا کہ ان کے کوارٹروں میں چوری ہو گئی۔ پولیس چار روز سے چکر لگوا رہی ہے۔ شہری اکبر علی اور حق نواز نے بتایا کہ رمضان بازار سے ان کی موٹر سائیکلیں چوری ہو گئیں، فرنٹ ڈیسک پر نیٹ خراب ہونے پر مینول شکایت درج کروا رکھی ہے۔ پولیس کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ شہری غلام علی، زبیدہ بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کے قریب ایک خاتون کئی سال سے بد اخلاقی کا اڈہ چلا رہی ہے ،پولیس اہلکار مبینہ طور پر شراب نوشی مین مصروف پائے گئے ہیں۔ شہری اقبال نے بتایا کہ علاقہ میں ہر قسم کا کرائم ہے۔ یہاں ڈکیتی بھی ہے راہزنی بھی ہے۔ نوسر بازی اور نقب زنی کے واقعات بھی ہیں۔ منشیات اور قمار بازی کے اڈے بھی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ ڈولفن فورس والے گشت بھی کرتے نظر آتے ہیں اس کے باوجود وارداتیں عام ہیں۔ تھانہ کی حدود میں دو ہزار سے سرکاری کوارٹرز میں رہائش پذیر افسران اور اہلکاروں کی شکایات کا جائزہ لیا گیا تو اس موقع پر کوارٹرز میں رہائش پذیر علی شاہ، حسن ناز، اکرام خان، طاہر شاہ اور قادر علی، اسلم چوہدری اورابوبکر نے بتایا کہ کوارٹرز نقب زنوں کی آماجگاہ بن کر رہ گئے ہیں، ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی واردات ہو رہی ہے، دو منٹ کیلئے دروازہ کھلا چھوڑ کر دکان پر جائیں تو پیچھے سے موٹر سائیکل، گاڑی کا قیمتی پرزہ، پنکھا یا گھر سے قیمتی اشیاء غائب ہو جاتی ہیں، نقب زنوں نے موٹر سائیکل یا رکشہ کھڑا کر کے رکھا ہوتا ہے اور لوٹ مار کر کے فرار ہو جاتے ہیں،اس حوالے سے ایس ایچ او نشاط چیمہ نے بتایا کہ وہ حال ہی میں تعینات ہوئے ہیں، سنگین واقعات کی روک تھام پہلی ترجیح ہے۔ نفری کی کمی کے باوجود علاقہ میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...