جذباتی نہیں ہونا

جذباتی نہیں ہونا
 جذباتی نہیں ہونا

  

مجھے یہ دلیل بڑی مضبوط لگتی ہے کیونکہ کرپشن نے ملک کو گردن تک دبوچ رکھا ہے اور ایک بے پناہ وسائل کا حامل ملک آزادی کے ستر برس گذرنے کے باوجو د خود کو اقتصادی لحاظ سے اسی لئے خود کفیل نہیں بنا سکا کہ اس کا ہر شعبہ بدعنوانی سے عبارت ہے۔ ملکی اقتصادیات چلانے والے ٹیکنو کریٹ ہوں ، بیوروکریٹ یا پالیسی ساز سیاستدان اشرافیہ، ان کے ذاتی مفادات ہمیشہ قومی مفادات پر غالب آجاتے ہیں اور وہ ہمیشہ قوم اور ملک کو اپنی ذات پر قربان کر دیتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ ( conflict of interest ) کو آج کی مہذب دنیا میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور دنیا بھر میں ان سیاستدانوں اور دیگر پالیسی سازوں کو ایسے شعبوں کی پالیسی کی تشکیل سے دور رکھا جاتا ہے جہاں ان کے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی مفادات وابستہ ہوں لیکن ہمارے ہاں یہ گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں نجی شعبے میں ٹرانسپورٹ کا بزنس کرنے والا وزیرٹرانسپورٹ بن جاتا ہے۔ تعلیم کا کاروبار کرنے والا وزیر تعلیم ہوتا ہے اور فارماسیوٹیکل کمپنی کے مالک کو ایک بہتر وزیر صحت تصور کیا جاتا ہے۔ تو لا محالہ پالیسی سازی کے وقت ان کے ذاتی مفادات کا اجتماعی بہبود اور ترقی پر غالب آجانا ایک فطری امر ہے۔ معاشرے میں جب اس قسم کی پریکٹس عام ہوتی ہے تو یہ معاشرتی اور سیاسی روایات کی شکل اختیار کرکے ریاستی سطح پر بدعنوانی کا ایک قومی چلن بن جاتی ہیں۔ اس سے اگلی سٹیج پھر انتہائی خوفناک ہوتی ہے جس میں ایک معاشرتی وسیاسی کلچر تشکیل پاجاتا ہے جس میں کرپٹ ہونا ڈس کوالیفیکیشن کی بجائے ایک طرہ امتیاز بن جاتا ہے۔

مجھے اس بیانئے میں بھی بڑی جان نظر آتی ہے کہ کرپشن ایک ایسا زہریلا پودا ہے جس کی جڑیں نیچے نہیں اوپر ہیں۔ اس لئے کرپشن میں ملوث ٹاپ آرڈر کو اگرمثالی سزائیں دے دی جائیں تو نچلی سطح پر یہ ناسور خود بخود ختم ہوجائے گا۔

مجھے کرپشن کے خاتمے کے لئے عمران خان سمیت دیگر حلقوں کی طرف سے پیش کی جانے والی اس دلیل سے بھی اتفاق ہے کہ اگریہ آپریشن اوپر کی سطح سے شروع کیا جائے،کرپٹ لوگوں کو پالیسی ساز اداروں سے نکال باہر کیا جائے۔اور دوبارہ ان کی وہاں رسائی کو ناممکن بنا دیا جائے۔تو کرپشن کے چیلنج سے نمٹنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے عمران خا ں دو محاذوں پر جدوجہد کررہے ہیں۔ ایک تو وہ اس معاملے پر سالہا سال سے مسلسل گفتگو کرکے رائے عامہ کو ہموار کررہے ہیں پچھلے پانچ سال کے دوران وہ ملک بھر میں سینکڑوں عظیم الشان عوامی جلسے اور ریلیاں منعقدکرچکے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نظیر ہے ۔ دوسرے وہ عدالتی محاذ پر بھی سرگرم ہیں اور پانامہ سکینڈل سامنے آنے پر انہوں نے نئے سرے سے جو ایک ملک گیر مہم شروع کی تو اسلام آباد لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتحال سے قوم کو نکالنے کے لئے سپریم کورٹ نے اس پر سوموٹو لیا ، یہ ازخود نوٹس ایک باضابطہ تحقیقات میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں سپریم کورٹ کی یدایت پر تشکیل کردہ جوائینٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے ملک کے وزیراعظم کو ان پر مبینہ کرپشن کے الزامات کا دفاع کرنے کے لئے آ ج طلب کر لیا ہے۔ جے آئی ٹی کی طرف سے ملک کے وزیراعظم کو طلب کرنا ایک اہم واقعہ ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے اپنے ماتحت افسران کے سامنے خود کو تحقیقات کے لئے سرنڈر کرنے کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس سے وزیر اعظم کی رٹ کمزور ہوجائے گی تو اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے ادارے مضبوط ہوں گے، قانون کی عملداری ہوگی اوراس عمل کے مکمل ہونے سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج ابھرے گا کہ یہاں کوئی انفرادی شخص قانون آئین اور اداروں سے بالاتر نہیں اور میرٹ موجود ہے اور آج دنیا میں کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے لئے یہ ایک آئیڈیل ماحول ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیرونی دنیا میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے مہنگی ترین لابنگ سے وہ ثمرات حاصل نہیں ہوسکتے جو آج کے دن وزیر اعظم کی ایک پیشی سے حاصل ہوسکتے ہیں۔

یہ ہے تصویر کا ایک رخ ۔

لیکن۔۔۔۔

اس قومی سیاسی منظر نامے کاایک دوسرا رخ بھی ہے، کہ کیا یہ سب ایسا ہی ہے ، کیا واقعی ملک میں احتساب کا ایک ایسابے رحم سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے جس کا آ غاز ملک کی طاقتور ترین شخصیت سے ہورہا ہے ؟۔ کیا واقعی اس کے بعد نیب، ایف آئی اے اینٹی کرپشن سمیت تمام اداروں میں زیرالتوا کرپشن کے تمام کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جانے والا ہے ؟ کیا قانون کی عملداری صرف کرپشن کیسز کی حد تک ہوگی یا آئین سے روگردانی والے زیرالتوا کیسز بھی نمٹائے جائیں گے۔ اب تک کا تجربہ تو بڑا تلخ ہے، اگر ہم نئے پاکستان یعنی 1971 کے بعد والے پاکستان کی بات کر لیں تو اس کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوپر قتل کا مقدمہ چلا، اسے پابند سلاسل رکھا گیا عدالتوں میں پیشیاں ہوئیں اور پھر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس کے بعد اسی آمر نے اپنی ہینڈ پکڈ اسمبلی میں ہینڈ پکڈ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ لیکن اس اسمبلی اور اس حکومت کے کسی ذمہ دار کے خلاف ضیا الحق نے کوئی کرپشن کا کیس نہ چلایا۔ گویا مقصد صرف حکومت ہٹانا تھا نہ کہ کرپشن کا خاتمہ۔ بلکہ اگرتاریخ کو اچھی طرح کھنگالیں تو پتہ چلے گا کہ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے نام پرروپے پیسے کی لت اس اسمبلی میں پہلی بار ضیاالحق نے ہی لگائی۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے اسی دھڑے کو پذیرائی بخشی گئی جس کے سربراہ میاں نوازشریف بنے اور جن کے خلاف آج اسی دور میں کی گئی مبینہ کرپشن کے کیسز چلائے جارہے ہیں جب وہ آنکھ کے تارے تھے۔ پھر غلام اسحاق خان نے بھی بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے لئے کرپشن کے پاپولر الزام کا سہارا لیا۔ اور پھر فاروق لغاری نے بھی بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو انہی الزامات پر چلتا کیا۔ نواز شریف کی دو حکومتوں پر بھی اداروں کے ساتھ تصادم کے ساتھ ساتھ کرپشن کا الزام کامن تھا۔ بینظیر بھٹو حکومت کی تمام تر کرپشن کے مقدمات خود ان پر اور ان کے شوہر آصف زرداری پر قائم کئے گئے ، ان کیسز کا انجام بھی ہمارے ایک محبوب صدر جنرل پرویز مشرف نے این آر او کے ذریعہ پولیٹیکل بارگیننگ کی صورت میں ہوا۔ جبکہ بینظیر کے جن ساتھیوں پر کرپشن کے کیسز تھے انہیں پی پی پیٹریاٹ بنا کر اپنے ساتھ ملا لیا گیا۔ نواز شریف کے خلاف مشرف دور میں بنائے گئے کیسز کہاں گئے؟ وہ نہ صرف ختم ہوئے بلکہ نواز شریف ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بھی بن گئے۔یوسف رضا گیلانی کو بھی سوئس کیسز کا تحفظ کرنے کے الزام پر عدالت میں طلب کیا گیا اور پھر نااہل کر دیا گیا۔

جناب ! اس مختصر تاریخ نوردی کا مقصد محض یہ یاد دلانا تھا کہ پاکستان میں منتخب حکومتوں اور وزرا ء اعظموں پر کرپشن کے الزامات اور طلبیاں نئی بات نہیں ۔ سیاست اور سیاستدانوں کو بے وقار کرنے اور قوم کے جذبات سے کھیلنے کا یہ کھیل پرانا ہے ، یہ سیاست ہے چلتی رہے گی ۔اس لئے وزیراعظم کی آج پیشی کے موقع پر جذباتی ہوکرفیض صاحب کی نظم گنگنانے کی کوئی جلد بازی نہ کرے کہ ۔۔۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔

مزید :

کالم -