حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کر کے منحرف ہوئی ،صوبے کے مفادات داؤ پر ہیں:میاں افتخار

حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کر کے منحرف ہوئی ،صوبے کے مفادات داؤ پر ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے پشاور میں ڈاکٹر برادری کے احتجاج پر پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں پر تشدد کر کے آمرانہ دور کی یاد تازہ کر دی ہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جمہوری دور میں اپنے جائز حقوق کیلئے پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے جسے حکومت زور و جبر کے ذریعے نہیں دبا سکتی ،تاہم انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز بھی اپنی ہڑتال اور احتجاج کے دوران ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے غریب مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹروں کی ہڑتال کو غیر قانونی کہنے والے بتائیں کہ اگر ان کے مطالبات جائز نہیں ہیں تو حکومت نے پہلے ان کے مطالبات تسلیم کیوں کئے تھے ،؟ جن سے بعد ازاں کپتان کے چہیتے کی وجہ سے انحراف کیا گیا ، میاں افتخار نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک بارپہلے ڈاکٹر برادری کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر نے کا اعلان کیا اور اس حوالے سے تفصیل محکمے کی ویب سائٹ پر بھی موجود تھی تاہم بیرون ملک مقیم نوشیروان برکی کے کہنے پر تمام وعدوں سے انحراف کیا گیا اور ڈاکٹروں کو پھر سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ نوشیروان برکی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلا رہا ہے جو اس صوبے کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے ،حالانکہ یہ تمام اختیارات رولز کے مطابق محکمے کے سیکرٹری اور وزیر کے پاس ہونے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہڈاکٹر برادری کا مسئلہ حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خراب ہوا ہے ، یہی ہڑتال جب پنجاب میں ہو تو عمران خان ڈاکٹروں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے پیش پیش ہوتے ہیں لیکن اپنے صوبے میں اسی طرح کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دے انہیں اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے اور یہی تحریک انصاف کا دوہرا معیار ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم شخص صوبے کی قیمتی ادارے کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہا ہے اور صوبائی حکومت نے اپنے لیڈر کی خوشی کیلئے پورا ڈیپارٹمنٹ اس کی جیب میں ڈال دیا ہے ، انہوں نے پولیس کو غیر سیاسی بنانے کے دعوے پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا حکومت اپنے تمام غیر قانونی کاموں کیلئے پولیس کو استعمال کر رہی ہے اور اسے مزید اب سیاسی بنا دیا گیا ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ڈاکٹر برادری ، وزیر اور سیکرٹری کے درمیان جو مذاکرات میں جو مطالبات تسلیم کئے گئے تھے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ایک شخص کو خوش کرنے کی خاطر صوبے بھر کے مفادات کو داؤ پر لگانے سے گریز کیا جائے ۔، انہوں نے کہا کہ بظاہر ایل آر ایچ کی حد تک محدود نوشیروان برکی صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں پر قابض ہے اور غریبوں پر مفت علاج کے دروازے بند کر تا جا رہا ہے ، اور صوبے کے تمام معاملات بنی گالہ کے اشارے پر چلائے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کپتان کے چہیتے کو نوازنے کیلئے غریب عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس سے انتشار پھیلے گا، جس کا نقصان مفت علاج سے محروم عوام کو ہو گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تاہم محکمہ صحت کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ڈاکٹر برادری کے مطالبات کے حل کیلئے ان کے ساتھ ہیں اور صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف میدان میں ہونگے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...