ٹوبیکوبورڈ کی نام نہاد کمیٹی اور 5فیصد نئے ٹیکس کا فیصلہ غیر آئینی

ٹوبیکوبورڈ کی نام نہاد کمیٹی اور 5فیصد نئے ٹیکس کا فیصلہ غیر آئینی

  

یارحسین(نمائندہ پاکستان)انجمن کاشتکاران خیبرپختونخواکے صوبائی صدر حاجی عبدالحلیم خان معیار نے ٹوبیکوبورڈ کی نام نہاد کمیٹی اوروفاقی حکومت کی طرف سے 5 فیصدنئے ٹیکس کافیصلہ غیرآئینی اورغیرمنصفانہ قرار دیکرمسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ تمباکو صوبہ پختونخواکے اضلاع صوابی،مردان، چارسدہ،بونیر اورمانسہرہ میں سب سے زیادہ کاشت ہونے والی نقدآورفصل ہے جس سے ایک طرف لاکھوں افراد کاروزگاروابستہ ہے تو دوسری طرف اس صنعت سے وفاقی حکومت کو سالانہ 48 ارب روپے سنٹرل ایکسائزڈیوٹی کی مدمیں پہلے سے مل رہے ہیں اورصوبائی حکومت اورٹوبیکو بورڈ کو سالانہ کروڑوں روپے بھی وصول ہوتے ہیں جبکہ تمباکو وافرمقدارمیں بیرون ممالک بھی برآمد کیا جاتا ہے جس سے کافی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے وہ گزشتہ روز تنظیم کے زیراہتمام حجرہ ملک حاجی شادمحمد یارحسین میں ایک بڑے احتجاجی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری عالم شیرخان گوہاٹی، سینئرنائب صدر حاجی نعمت شاہ روغانی، مردان کے ضلعی صدر محمدامین خان اور قمرزمان خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اجلاس میں علاقہ کے تمباکوکاشتکاران نے کثیرتعدادمیں شرکت کی مقررین کا کہنا تھا کہ تمباکوپر دوقسم کے ٹیکس پہلے سے لاگوہیں جسمیں1 روپیہ80 پیسہ مرکزی حکومت کو بذریعہPTBٹوبیکوسیس اور2 روپیہ50 پیسہ فی کلوگرام صوبائی حکومت الگ وصول کر رہی ہے اب ستم بالائے ستم یہ کہ وفاقی حکومت نے فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کی شکل میں 5 فیصد فی کلوگرام تیسرا ٹیکس بھی عائد کردیاہے جسکے نتیجہ میں خیبرپختونخواکے تمباکوکاشتکاران سیگریٹ سازاد اروں کے رحم وکرم پر رہ جائیں گے اورصوبہ میں روزگار کا ایک بہت بڑاذریعہ ختم ہوجائیگاجوتمباکو صنعت کا دیوالیہ نکالنے کے مترادف ہوگامقررین نے اس اَمر پر نہایت افسوس کااظہار کرتے ہوئے انکامزید کہنا تھا کہ 90 فیصد تمباکو خیبرپختونخواپیداکررہا ہے اوربدقسمتی سے پی ٹی بی کااختیار وفاق کے پاس ہے جبکہ اسمیں بھی تمباکوکے حقیقی کاشتکاران کی نمائندگی تک نہیں ہے مقررین نے وفاقی حکومت سے پرزورمطالبہ کیا کہ صوبے کو تمباکوکی اپنی فصل پر اختیار دلایاجائے اور موجودہ تمباکوبورڈ سے نجات دلاکر خیبرپختونخواتمباکو بورڈ قائم کیا جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -