اسلامیہ کالج پروفیسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ،طاہر خان

اسلامیہ کالج پروفیسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ،طاہر خان

  

پشاور(کرائمز رپورٹر)پشاور پولیس کے سربراہ طاہر خان نے گزشتہ روز اسلامیہ کالج پشاورکے اسسٹنٹ پروفیسر کی منشیات کیس میں گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا میں واقعہ سے متعلق متضاد بیانات پر نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسراورمتعلقہ ایس ایچ او کے مابین کوئی ایکسیڈنٹ تنازعہ نہیں تھا بلکہ اسے منشیات اوراسلحہ سمیت گرفتار کرکے اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی گئی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ ریگی ماڈل ٹاؤن کے ایس ایچ او شہنشاہ خان کیکرانوں سٹاپ کے قریب ناکہ بندی پر موجود تھا اس دوران انہوں نے گاڑی نمبر UA-247 فیلڈز کو روک کر تلاشی لینے کیلئے روک کر اسکی چیکنگ کرنے پر گاڑی سے 20 گرام آئس ٗ150 گرام چرس اور30 بور کے دو عدد پستول برآمد کرکے گاڑی میں سوار ملزم بشیر احمد ولد محمد خان سکنہ مردان کو گرفتار کرلیا ملزم کے گاڑی سے منشیات اوراسلحہ کی برآمدگی کے بعد مکمل طور پر قانونی کاروائی کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تاہم بعد میں ملزم کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبریں آنے شروع ہوگئیں کہ ملزم کا کچھ عرصہ قبل مذکورہ تھانہ کے ایس ایچ او کیساتھ گاڑی کے ایکسیڈنٹ کا تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ایس ایچ او نے پروفیسر کے خلاف غلط ایف آئی ار کی ۔یاد رہے کہ ملزم بشیر مقدمہ علت 14مورخہ 22/3/2001کو تھانہ کیمپس میں سنگین مقدمات 16mpo اور مقدمہ علت 15مورخہ22/3/2001 جرم 16MPO ,290,427,148,149, میں گرفتار ہو چکا ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -