صحافی کا قتل صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے ،سبز علی

صحافی کا قتل صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے ،سبز علی

  

چارسدہ(بیورو رپورٹ) ہری پور میں صحافی بخشش الٰہی کی شہادت آزادی صحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ حق اور باطل کی اس جنگ میں ہم اپنے درجنوں ساتھی کھو بیٹھے مزید بے گناہ صحافیوں کی میتیں نہیں اٹھا سکتے۔ صحافت اور صحافیوں کی تحفظ کیلئے ملک بھر کے صحافی برادری کو میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار چارسدہ پریس کلب کے صدر سبز علی خان ترین نے ہری پور کے صحافی بخشش الٰہی کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرین نے صحافی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ،قاتلوں کے خلاف اور آزادی صحافت کے حق میں نعرہ بازی کی۔ سبزعلی خان ترین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان صحافیوں کیلئے خطرناک ملک بن چکاہے، پاکستان میں صحافی قتل ہو رہے ہیں لیکن ملزمان گرفتار ہو رہے ہیں نا ہی انکو سزاہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافی بخشش الٰہی نے صحیح معنوں میں معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کیلئے آواز اٹھائی تھی اور انکے حقوق کیلئے قلم کے زریعے جہاد کیا تھا لیکن قوم و ملک کے دشمنوں نے دلیل کے بجائے گولی سے وار کر کے انکی آواز کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کی ناکام کوشش کی۔ سبزعلی خان ترین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اپنے سروں کی قیمت پرآزادی صحافت کا شمع روشن رکھیں گے، ہم سے جھوٹ بولنے پر مجبور کرنے والے جابروں کے ناپاک عزائم پورے نہیں ہونگے ، حق اور سچ کیلئے پاکستان کا ہر صحافی بخشش الٰہی کی طرح خون کی قربانی کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بخشش الٰہی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -