جے آئی ٹی کی درخواست ، ایف بی آر نے جواب ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھجوادیا

جے آئی ٹی کی درخواست ، ایف بی آر نے جواب ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھجوادیا

  

اسلام آباد (آن لائن ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) جے آئی ٹی کے کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر اپنا جواب ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو جواب بھجوا دیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے آٹھ،پچیس،انتیس مئی اور آٹھ جون کو مراسلے موصول ہوئے ،جے آئی ٹی نے آٹھ مئی کوچھ افراد کی1985کے بعدکی انکم،ویلتھ ٹیکس ریٹرن مانگے، دو افراد کا1985سے اب تک کا ریکارڈسات دن میں فراہم کر دیا، باقی چار افراد نے بعد سے ریٹرن فائل کیں، ان کا ریکارڈ بعد کے سالوں سے فراہم کیا ، جے آئی ٹی نے25مئی کومزید دس افراد کا ریکارڈ مانگااور ان دس افراد کا ریکارڈ پانچ دن کے اندر فراہم کر دیا گیا تھا، جے آئی ٹی نے 29مئی کو 6افراد کا ریکارڈ دوبارہ بھجوانے کی ہدایت کی، چھ افراد کا ریکارڈ تین دن کے اندر دوبارہ بھجوایا ،ایف بی آر کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے8جون کو مزید ایک شخص کا ریکارڈ مانگا، جے آئی ٹی نے آٹھ جون کو 1974سے بعد کا ٹیکس ریکارڈ دینے کی ہدایت کی،8جون کو مانگا گیا ریکارڈ12جون کو جے آئی ٹی تک پہنچا دیا،جے آئی ٹی نے ریکارڈ مختلف اوقات میں مانگا اس لئے ٹکڑوں میں فراہم کیا گیا،کچھ ریکارڈ ایف بی آر میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پیش نہ کیا جا سکا،بعض اداروں میں انفرادی طور پر ویلتھ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا قانون ہی نہیں تھا، بعض ادوار میں کچھ افراد بطور ٹیکس دہندہ رجسٹرڈ ہی نہیں تھے،بعض افراد نے کچھ سالوں میں ریٹرن فائل نہیں کیں،دوہزار ایک کے بعد ویلتھ ٹیکس کا قانون ہی ختم ہو گیا،ایف بی آر پہلے دن سے جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کر رہا ہے،ایف بی آر کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت ٹیکس دہندگان صرف چھ سال کا ریکارڈ رکھنے کے پابند ہیں،ایف بی آر نے ذیلی دفاتر کو کئی مرتبہ پرانا ریکارڈ تلف کرنے کی ہدایت کی ،ایف بی آر نے جے آئی ٹی کوجواب میں یہ نکتہ نہیں اٹھایا،ایف بی آر نے پرانا ریکارڈ تلاش کرنے کیلئے خصوصی افسران نامزد کیے ،ایف بی آر کے سینئر کمشنر نے خود جا کر جے آئی ٹی کو ریکارڈ پیش کیا،ایف بی آر کے کمشنر نے جے آئی ٹی کے ریکارڈ سے متعلق تمام سوالوں کے جواب دیئے ،جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایف بی آر سے متعلق مؤقف درست نہیں ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -