جب تک زندہ ہیں سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے،نثارکھوڑو

جب تک زندہ ہیں سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے،نثارکھوڑو

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ کراچی اور سندھ کا لفظ استعمال کرنے والوں پر اعتراض ہے اور ہمیشہ رہے گا، سندھ نے اپنا دل بڑھا کرکے مہاجرین کو دل سے قبول کیا اس لیے نفرت پھیلانے کی باتیں نہ کی جائیں ، سندھ کی تقسیم کسی کے خواب میں ہوسکتی ہے مگر جب تک ہم زندہ ہیں تب تک سند ھ کی تقسیم کسی صورت مین نہیں ہونگی ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے کیا ۔نثار کھوڑو نے کہا کہ ماضی میں جب ہندوسندھ سے زمینیں اور گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے تب اس وقت تین سالوں کے لیئے یہ پابندی عائد کی گئی تھی کہ مقامی لوگ وہ گھر اور زمینیں خرید نہیں کرسکیں گے تاکہ سندھ میں آئے ہوئے لوگ یہاں کے ہوکر رہ سکیں مگرآج سندھ کے دیہی علاقوں اور گوٹھوں کی ترقی ان سے ہضم نہیں ہو رہی ، کیا سندھ کے دیہی علاقے اور گوٹھ سندھ کا حصہ نہیں ہیں جو اعتراض کیا جارہا ہے کہ سندھ کے ان علاقوں کی ترقی کے لیے اتنی بجٹ کیوں رکھی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اربنائزیشن زیادہ نہ ہو اور سندھ کے دیہی علاقے اور گوٹھ ترقی کریں تاکہ بڑے شہروں پر زیادہ بوجھ نہ پڑھے ۔انھوں نے کہاکہ سندھ صوبہ 70فیصد زراعت پر منحصر کرتا ہے اور دیہی علاقوں کے لوگ بجلی نہ ہوتے ہوئے بھی کما کر دیتے ہیں اسلیئے سندھ کے لوگوں کی عزت کرنا سیکھیں ۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایک آمر پرویز مشرف نے یہ کہا تھا کہ سندھ کے لوگ اہل ہی نہیں ہیں اور آج ان کے حامی اسی آمر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سندھ کے لوگوں کے لیئے وہی سوچ رکھتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ہم بھوک پر رہیں گے مگر سندھ کے دارالحکومت کو دارلحکومت ہی رہنے دینگے ۔نثار کھوڑو نے کہاکہ سندھ پاکستان کا گیٹ وے ہے اور کراچی پورٹ سندھ صوبے کا ہے اور پورٹ کی کمائی پورے سندھ کی کمائی ہے اسلیئے پورٹ کی کمائی کو صرف کراچی کی کمائی گنوائی جارہی ہے جس پر افسوس ہے ۔انھوں نے کہا کہ سندھ وفاق کو کما کر دیتا ہے مگر تقسیم میں سندھ کے ذیادتی کی جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 43فیصداوروفاق کا حصہ 57فیصد تھا مگر پیپلز پارٹی نے قومی مالیاتی ایوارڈمیں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57فیصد اوروفاق کا حصہ 43فیصد کرانے کا اتفاق کرایا ۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں قومی مالیاتی ایوارڈمیں صوبوں کو حصہ نہ دینے والے آمر پرویز مشرف ہی تھے جس کے ساتھ ایم کیو ایم شامل تھی جو اس وقت سندھ کے ساتھ نا انصافیوں پر خاموش تماشائی بنے رہے اور آج بھی وہ کراچی اور سندھ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس پر ہمیں ہمیشہ اعتراض رہے گا اور سندھ کے خلاف کوئی بھی بات برادشت نہیں کرینگے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -