ہے  گاہِ عالم میں لگا ایک تماشا

ہے  گاہِ عالم میں لگا ایک تماشا
ہے  گاہِ عالم میں لگا ایک تماشا

  

دیکھتا جا  ،  شرماتا جا- حالات تو ایسے ہی ہیں ملک پاکستان کے- دو الگ الگ طبقات ،دو الگ الگ  توجیہات  لیکن مسئلہ ایک – کہیں ایک ہی  افتاد میں پروٹو کول اور کہیں پہ چھترول – کبھی کسی  ناکردہ   بھول کی سزا  رسے کی ایک جھول  تو کبھی دستاویزات کا ردو بدل  منافع بخش اور قابل ِقبول - کہیں پہ  راہوں میں بچھے کلیا ں و گلاب توکہیں  پہ مخلوقِ خدا آبلہ پا   اک ماہی ءبے تاب  - کہیں استحقاق  کے دعوے اور کہیں پہ  یہ  بنیادی مراعات ناپید اور  بے نام و نشان- ایسا ہی  مجروح ایک استحقاق  ابھی قومی اسمبلی میں ہوا اور حزبِ اختلاف واک آؤٹ کر گئی –

 وزیرِ خزانہ  بجٹ کی  اختتامیہ تقریر  فرما رہے تھے  لیکن اسمبلی کے ایوانوں میں اس کی مخالفت میں آواز اٹھانے والی  اپوزیشن باہر اپنے رونے رو رہی تھی – جس کا فائدہ حکومت کو ہوا اور نقصان اس عوام کا جس کا استحقاق کوئی معنی نہیں رکھتا – اپوزیشن راہنما  خورشید شاہ صاحب کی تقریر کو حکومتی ٹیلی ویژن  پہ جو پذیرائی نہیں ملی تو صاحب ہو گئے آگ بگولہ اور دوسری حکومت  مخالف  جماعتوں کو ساتھ لیا اور یہ جا وہ جا- وزیر اطلاعات جو کہ خود  قومی اسمبلی کی چار دیواری  میں  اس وقت موجود  نہیں تھیں ان کو بھی جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے  بھی سعیء بسیار کے بعد انکار میں سر ہلا دیا کہ اس وقت قومی ٹیلیویژن  پہ اشتہارات کا وقت ہے - اس  گھڑی  حزب ِ اختلاف  کو پی ٹی وی پہ نہیں دکھایا جا سکتا-

 درست ہی تو ہے یہ سب کچھ  ،جب  ضرورت ہو ، کوئی دھرنہ ہو ، کسی پہ کوئی الزام ہو  یا  حکومتی بنچوں پہ بیٹھے محترم ارکانِ اسمبلی  کا کوئی دشنام بھرا پیغام ہو تو سارا دن بھی  بغیر  اشتہارات کے یہی ٹیلیویژن وہ خدمات انجام دیتا ہے کہ  سرکاری ذرائع ابلاغ کا حصہ ایک رکن و خادم ہی  لگتا ہے- سارا دن خبر نامہ کے نام پہ حکومت نامہ  پیش کرتے نہ تھکنے والا یہ ادارہ کون چلاتا ہے سب کو ہی تو پتہ ہے –  کون کون کس کس حکم کی بجا آوری پہ کتنے لاکھ اور مراعات سے جھولی بھرتا ہے   کون نہیں جانتا- یہ حقیقت ہے کہ جس گھر کا سائیں ہی اس کے  بدن کو نوچ رہا ہو تو بیگانہ بھی بہتی گنگا میں کیوں نہ ہاتھ دھوئےگا- یہی کچھ اب دوسرے نجی چینلز کے ساتھ بھی  ہو رہا ہے – کہیں سے بکنے اور لفافہ پکڑنے کی صدائیں بلند ہورہی ہیں تو کہیں  پہ اسلام آباد کے پلاٹ ،جہازوں کے سفر اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے قیام زیرِ بحث ہیں –ان حالات میں ہر سوچ اور بحث پہ ایک حکمرانوں کے زاویہ ءنگاہ کی تشہیر کرتا یہ پی ٹی وی کبھی تو ہم سب کو ایک مظلوم بیوہ ہی لگتا ہے جس پہ یہ کہاوت خوب صادق آتی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس- ابھی حکومت بدلو ابھی منظر نامہ بدل جائے گا- دوست کو دشمن اور دشمن کو دوستی کی چادر اوڑھتے دیر ہی کتنی لگتی ہے – لاوارث کے بدلتے وارث اس بے زبان کے منہ میں جو مرضی زبان رکھ دیں  یہ کب  حرف ِ شکایت بلند کرتا ہے- قومی ادارہ شروع ہی سے وہ سرکاری ادارہ ہے جس کا رویہ بھی حکومتی رجحانات کے ساتھ بدلتا ہے – قدامت پرست حاکم ہو تو سر پہ دوپٹہ– نگاہ نیچی اور اسلام دوست کی تصویر بنا  سکہ بندمومن  و مومنات کی آماجگاہ –  دنیاوی جدت پسندی کی حکومت  بر سرِ اقتدار آئے تو کہاں دوپٹہ ، کھلے بال ، دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ سے لے کر کھلے عام خوب رُو  کے جمال کو کمال تک پہنچاتا سرکاری  ٹیلویژن –  حکومتی  قواعد و ضوابط کی پابندی میں مصروف اداروں کی نگاہ ِ نازنیں پہ سجے پردہ ء سیمیں پہ ماہِ صیام کی عقیدت میں عوام  کی بہن بیٹیوں کی تذلیل اور اس کے عوض سونا چاندی بانٹتا  پاکستان  رمضان میں ایسا ایمان تازہ کرتا ہے   کہ خاموشی تماشائی  بنا  علم و دانش کا کیمیا دان  تازیانوں کے ڈر سے صرف سر ہی دھنتا ہے-                                                                                      پاکستان ٹیلیویژن شاید دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے جو آپ کی مالی حالت اور  ضرورت سے مبراء ہے – ادھر لگوایا بجلی کا میٹر اور ادھر لگا آپ پہ  پی ٹی وی  کا سرچارج  - ٹی و ی اپنا   گھر تعمیر کراتے  ہوئے آپ نے ابھی خریدا  ہے یا نہیں بس  گمان یہی غالب ہے کہ آپ  پی ٹی وی دیکھ رہے ہیں- حکومت نامہ سن رہے ہیں اور اس کی فیس بھر رہے ہیں- آج کل  کرکٹ  اپنے زور  پہ ہے – پی ٹی وی سپورٹس  نے یہ بھی کرکٹ عام عوام کی پہنچ سے دور کردی ہے – اب تو اس قوم میں اگر کوئی جوش یا ولولہ دیکھنے کو ملتا ہے تو اس کی وجہ یہی کھیل ہے- خوشی و غم سے بے نیاز یہ قوم جب  ٹیم  کی ہار جیت پہ تبصرہ کرتی ہے تو ایک زندہ قوم دکھائی دیتی ہے – اس پہ بھی لگا روپے پیسے کا  یہ قفل بہت سے سوالات اٹھاتا ہے – ایک عمر کا دیا جانے والا پی ٹی وی کا یہ سرچارج کس مد میں وصول کیا جاتا ہے قوم پوچھنا چاہتی ہے- کیا یہ حکومت کے توصیفی کلمات کا ہی واحد ذریعہ ہے یا اس پہ اس قوم کا بھی  کوئی حق ہے – اگر یہ ایک قومی ٹیلیویژن ہے تو ایک فیس لے کر آپ اس  کے تفریحی پروگرامز پہ تالے کیسے لگا سکتے ہیں- قوم اربوں روپے آپ کی جیب میں ہر ماہ   بجلی کے بل کے ساتھ اپنا پیٹ کاٹ کے بھرتی ہے  لیکن اگر اس میں بھی آپ کا گذارہ نہیں اور آپ لوٹ مار کا ایک اور  نیا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں تو غریب عوام  اپنی محرومی پہ صرف ہنس ہی سکتے ہیں کیونکہ اس بے بسی اور لاچاری کا آپ پہ کیا اثر  آپ کو تو ایک غلام  قوم چاہئے جو تازیانے کھا کر بھی شکایت نہ کرے- میرا حکومتی عدلیہ اور  کنزیومر کورٹس کے جج صاحبان سے التجا ہے کہ اس قوم کو حاکمِ وقت کے ظلم و استبداد سے چھٹکارا دلایا جائے نہیں تو  ملک کے امراء مل کر ایک نیم مردہ قوم کی اب روح پہ بھی حملہ آور ہیں اور اسے بھی موت کی نیند سلانا چاہتے ہیں-

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -