بلوچی سجی جو بھی کھائے، اسکے ہی گُن گائے

بلوچی سجی جو بھی کھائے، اسکے ہی گُن گائے
بلوچی سجی جو بھی کھائے، اسکے ہی گُن گائے

  

دنیا میں بلوچستان کی ’’سجی‘‘ اپنے ذائقے اور لذت کی وجہ سے پوری دنیا میں شہرت رکھتی ہے۔ سجی اگرچہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی تیار کی جاتی ہے، لیکن بلوچستان میں تیار کی جانے والی سجی اپنی مثال آپ ہے۔ سجی کو تیار کرنے کیلئے بڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کو تیار کرنے کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سجی کو سجانے کیلئے مسلسل آگ پہ پانچ گھنٹے تک باورچی آگ کی تپش میں جلتا رہتا ہے۔ باورچی بے چارہ سجی جو خود تیار کرتا ہے اس میں نمک سے لیکر تمام مسالوں کو برابر کرتا ہے۔اس آگ کی تپش کو برابر رکھا جاتا ہے ۔ سجی کو سجانے کیلئے تین سے چار باورچی ہوتے ہیں ۔لمحہ بہ لمحہ سجی کو مختلف اطراف سے آگ کی حدتکی طرف کیا جاتا ہے۔ تاکہ گوشت کچا نہ رہ جائے۔ 

بلوچستان میں رمضان المبارک کے مہینہ میں رات کو افطاری کے بعد سجی بہت شوق سے کھائی جاتی ہے ۔حتٰی کہ رمضان کے مہینے میں سجی ناپید ہوجاتی ہے۔لوگ بڑے شہروں میں سجی کو ایسے ڈھونڈتے ہیں جیسے پیاسا پانی کو اور بھوکا روٹی کو۔ رمضان میں سجی کی دوکانوں میں انتہائی رش ہوتا ہے۔اس وقت سجی کی قیمت میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے ۔ مرغی کی سجی 600 اور بکرے یا دْنبے کی ران کی سجی 1000 روپے تک فروخت کی جاتی ہے ۔ یہ ریٹ چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کے ہیں ۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں یہ قیمت ڈبل سے ٹرپل ہو جاتی ہے۔

مْرغی کی سجی گھنٹے سے ڈیڑھ گھنٹے میں تیار ہوجاتی ہے ، جبکہ دْنبہ یا بکرا دو یا ڈھائی گھنٹے میں تیار ہو تا ہے۔سجی بنانے والے سب سے پہلے لکڑیاں ایک دائرے میں لگا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان لکڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ جب لکڑی کا زیادہ حصہ جل کر انگارے بن جاتا ہے تو اس کے بعد ذبح کئے گئے نازک دْنبے یا بکرے کی ران، دستہ یا مْرغی کو مسالہ جات لگا کر ایک سیخ کو گوشت کے درمیان سے گزار کر اس کو انگاروں کے چاروں طرف لگادیا جاتا ہے۔

بلوچستان اپنے لذیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور مہمان نوازی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ سجی کو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک سمیت خلیجی ممالک میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ صدیوں پہلے سجی صرف پہاڑی علاقوں میں کھائی جاتی تھی مگر اب شہری علاقوں میں بھی اس ڈش کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے ان روایتی کھانوں کی ترکیب نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ آج بھی سجی کی لذت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اسے آج بھی قدیم طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ملک بھر میں جو سجی عام ہے یہ حقیقی بلوچ سجی کے ذائقہ سے بہت دور ہے۔

سجی نہ صرف ایک بہترین روایتی ڈش ہے بلکہ یہ بلوچستان کی پہچان بھی بن چکی ہے،جو بھی اسے ایک مرتبہ کھاتا ہے ، بار بار کھانے کی خواہش کرتا ہے۔افطار کے موقع پر روزہ داروں کیلیے دسترخوان مختلف انواع واقسام کے کھانوں سے سج جاتے ہیں،مگر کوئٹہ میں اگردسترخوان پرروایتی بلوچی ڈش سجی نہ سجی ہوئی ہو تو اسکو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کے دورہ پہ مختلف ممالک کے سربراہان کو بلوچی سجی کا کھانہ ضرور کھلایا جاتا ہے ۔حکومت پاکستان کے اعلٰی عہدوں پر فائز لوگ بلوچستان میں آ کے سجی ضرور کھاتے ہیں ۔سجی واحد خوراک ہے جو دنیا میں گھی کے بغیر تیار ہوتی ہیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -