جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ پہلی قسط

جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ پہلی قسط
جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ پہلی قسط

  


میں کئی دن سے محسوس کر رہا تھا کوئی نادیدہ وجود ہے جوہر وقت میرے آس پاس رہتا ہے خاص کر تنہائی میں۔ چلتے ہوئے لگتا کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے۔ اکثر میرے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ، مڑ کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ گھر سے باہر یہ احساس مزید قوی ہو جاتا۔ رات کے کسی پہر اچانک میری آنکھ کھل جاتی، کمرے سے باہر قدموں کی چاپ سنائی دیتی جیسے کوئی چل پھر رہا ہے۔ دروازہ کھول کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ ایک اور تبدیلی بھی میں نے محسوس کی۔ ہر وقت میرے اردگرد گلاب کی مہک موجود رہا کرتی۔ آفس میں۔۔۔گھر میں۔۔۔راہ چلتے ہوئے مسلسل گلاب کی مسحور کن خوشبو میرے آس پاس رہا کرتی۔

یہ سب میرے ملتان سے واپس آنے کے بعد شروع ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ ہیڈ آفس نے مجھے ملتان بھیجا۔ وہاں کا ایک بھاری زمیندار ہمارے بینک کی برانچ میں اکاؤنٹ کھولنا چاہتا تھا لیکن اس کے کچھ تحفظات تھے۔ مجھے اسے مطمئن کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ضلع خانیوال کے نواح میں اس کی سینکڑوں ایکڑ اراضی تھی۔ دیہات کے لوگ علی الصبح جاگنے کے عادی ہوتے ہیں اسی لیے ان کا ہر کام بہت صبح شروع ہو جاتا ہے۔ مذکورہ زمیندار علی نواز ڈاھا نے صبح چھ بجے کا ٹائم دیا تھا۔ اسی لیے میں رات ہی کو روانہ ہوگیا۔ بس فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ آدھی رات کا وقت تھا ۔تقریباً سارے مسافر سو رہے تھے ۔کئی تو باقاعدہ خراٹے نشر کر رہے تھے۔ میری سیٹ ڈرائیور کے بالکل پیچھے تھی۔ دوران سفر مجھے نیند نہیں آتی لیکن نہ جانے اس دن کیسے مجھ پر غنودگی چھا گئی۔

اچانک ڈرائیور نے بریک لگائے ،سو میل فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتار سے چلنے والی بس تقریباً الٹتے الٹتے بچی۔ میرا سر زور سے ڈرائیور کی سیٹ کی پشت سے ٹکرایا اور آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے۔ جو مسافر سو رہے تھے وہ سیٹوں سے نیچے آرہے۔ ٹائروں کے زمین کے ساتھ رگڑ کھانے کی زوردار آواز کے ساتھ ربڑ کے جلنے کی بو بھی محسوس ہوئی۔

مسافر ڈرائیور کو برا بھلا کہنے لگے۔ بس سڑک کے بیچوں بیچ آڑھی ترچھی رکی ہوئی تھی۔ رات کا اندھیرا ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ بس کا انجن بند ہونے کی وجہ سے اس کی لائٹس بھی آف ہو چکی تھیں۔ ڈرائیور دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے یوں ساکت بیٹھا تھا جسے انسان نہیں پتھر کا مجسمہ ہو۔

’’کیا بات ہے استاد! نیند آگئی تھی۔۔۔؟‘‘ میرے ساتھ بیٹھا مسافر جو سیٹ سے لڑھک کے نیچے جا گرا تھا اٹھتے ہوئے بولا۔‘‘یا نشہ کررکھا ہے، ابھی بس الٹ جاتی تو ایک بھی زندہ نہ بچتا۔‘‘ اس نے ڈرائیور کو ڈانٹا۔

دیگر مسافربھی ڈرائیور کو کوس رہے تھے۔ لیکن وہ سب سے بے نیاز سڑک کوگھور رہا تھا۔ بس کا مالک پچھلی سیٹ پر سو رہا تھا۔ جلدی سے لنگڑاتا ہوا آگے آیا شاید اسے بھی چوٹ لگی تھی۔ اس نے جھک کر ڈرائیور کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ یوں اچھلا جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔ پھر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

’’کیا بات ہے استاد کیا ہوا؟‘‘ اسنے ڈرائیور کی حالت کے پیش نظر آہستہ سے پوچھا۔

’’وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔وہاں سامنے ‘‘ ڈرائیور کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔

’’وہاں کیا۔۔۔شاید تجھے نیند آگئی ہوگی‘‘ اس نے ناگواری سے کہا ’’چل پیچھے آجا۔۔۔میں چلاتا ہوں۔ کئی بار کہا ہے نیند آئے تو بتا دیا کر شرمایا نہ کر۔۔۔چل پیچھے۔ اللہ کا شکر ہے بچت ہوگئی ورنہ تو نے تو مروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔‘‘

’’سائیں رمضان! میں اللہ پاک کی قسم کھاتا ہوں میں جاگ رہا تھا۔ نیند آئے تومیں کبھی ڈرائیورنگ سیٹ پر نہیں بیٹھتا۔ وہاں سڑک کے درمیان ایک جوان لڑکی کھڑی تھی۔ روشنی پڑی تو میں نے بریک لگائے۔ پر میرے خیال وہ۔۔۔وہ بس کے نیچے آگئی ہے۔‘‘ وہ بری طرح گھبرایا ہوا تھا۔

’’اللہ خیر ۔۔۔رمضان جلدی سے نیچے اتر گیا۔ اس کی دیکھا دیکھی کئی مسافر بھی اتر گئے۔ میں بھی نیچے آگیا۔ رات کی تاریکی میں کچھ دیکھنا مشکل تھا۔ سڑک کی دونوں طرف شاید کھیت تھے کیونکہ دور دور تک کسی عمارت کا ہیولہ تک نظر نہ آرہا تھا۔

اچانک مجھے گلاب کی خوشبو محسوس ہوئی میرا وجود جیسے معطر ہوگیا۔’’شاید قریب ہی گلاب کے پودوں کا فارم ہوگا۔‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔

رمضان بس سے ٹارچ نکال لایا تھا اور اس کی روشنی سڑک پر ڈال رہا تھا۔ وہ تھوڑی دور چل کر گیا پھر واپس آگیا۔’’چلو۔۔۔چلو بیٹھوکچھ بھی نہیں ہوا‘‘ اس نے مسافروں سے کہا اورسب پر چڑھ گیا۔ جن میں سے کئی موقع سے فائدہ اٹھا کر رفع حاجت کے لیے سڑک کے کنارے بیٹھ گئے تھے۔ خیر ان کے آنے پر رمضان نے ’’چلو استاد‘‘ کا نعرہ لگایا، ڈرائیور نے بس سٹارٹ کی تو گھر رررگھرررکی آواز آئی لیکن انجن سٹارٹ نہ ہوا۔ کئی بار کوشش کرنے پر بھی نتیجہ وہی رہا۔ ’’ستیاناس۔۔۔‘‘ رمضان بڑبڑایا اور نچیے اتر کر اس نے بونٹ اٹھا دیا کافی دیر ٹارچ کی روشنی میں جائزہ لیتا رہا کچھ پرزوں کو اس نے ٹھوک بجا کر دیکھا۔’’چل استاد! سلف مار‘‘ اس کی چیختی آواز باہر سے سنائی دی۔ لیکن ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔‘‘ نیچے آکر خود ہی دیکھ اس مصیبت کو‘‘ اس نے ڈرائیور کی کھڑکی کے پاس آکر کہا۔ دسمبر کا مہینہ تھا یخ بستہ موسم میں ا س بے چارے کی قلفی جم گئی تھی۔

’’نن۔۔۔نہیں میں نیچے نہیں اتروں گا۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ سڑک کے درمیان ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ بریگ لگانے کے باوجود بس اس کے اوپر سے گزر گئی۔‘‘ اس کی گھبراہٹ کسی طور کم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔ اس بار رمضان بھی پریشان ہوگیا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی میں بس کے آگے والے حصے کوغور سے دیکھا، جھک کر بمپر کو دیکھنے کے بعد اس کا منہ بن گیا۔‘‘تو پاگل تو نہیں ہوگیا استاد! اگرکوئی لڑکی بس سے ٹکرائی ہوتی تو اس کا خون بس کے باڈی پر ضرور لگتا سمجھ میں آئی بات۔۔۔چل نیچے اتر کر انجن دیکھ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔‘‘ اسنے ڈرائیور کو برا بھلا کہتے ہوئے نیچے آنے کو کہا۔ مسافروں کے اصرار پر وہ کپکپاتا ہوا نیچے اتر تو گیا لیکن خوفزدہ نظروں سے دائیں بائیں دیکھا رہا تھا جیسے اس لڑکی کی روح اسے بھی کھا جائے گی۔ مالک کے ڈانٹنے پر وہ چلا تو گیا تھا پر خوف کی اس حالت میں اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہتا تو ممکن نہ تھا۔

رمضان نے اس کی سیٹ سنبھال کر انجن سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن لا حاصل۔ مسافر بھی پریشان ہوگئے۔ آدھی رات کا وقت ۔۔۔ویران سڑک۔۔۔کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ خاص کر وہ مسافرجن کے ساتھ خواتین تھیں بری طرح ڈرے ہوئے تھے۔

اچانک بجلی زور سے چمکی اورایک لمحے کے لیے آنکھوں کو خیرہ کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔’’مصیبت پر مصیبت‘‘ رمضان بڑبڑایا۔ ڈرائیور جلدی سے بھاگتا ہوا اندر آیا اور ڈرائیونگ سیٹ کے پاس سٹول نما سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کھڑکیاں دروازے بند ہونے کے باوجود یخ بستہ ہوا نے کپکپا کر رکھ دیا۔ بس خاص نئی اور آرام دہ تھی انجن کی خرابی سمجھ سے باہر تھی۔ شاید ڈیڈ بریک لگانے کی وجہ سے کوئی تار وغیرہ اکھڑ گئی تھی۔ میں نے جب سے سگریٹ نکال کر سلگایا جس سے سردی کا احساس کچھ کم ہوگیا۔ بجلی کی کڑک سے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہورہے تھے۔

’’وہ دیکھو۔۔۔سامنے‘‘ اچانک ڈرائیور زور سے چلایا۔ سب چونک گئے۔ وہ انگلی سے سامنے سڑک کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔

’’کیا ہے سامنے۔۔۔کیا پاگل ہوگیا ہے؟‘‘ رمضان جو پہلے ہی جھنجھلایا ہواتھا ڈرائیور پر برس پڑا۔

’’میں سچ کہہ رہاہوں بجلی چمکی تو میں نے خود دیکھا سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی،‘‘ وہ خوفزدہ ہو کر سیٹ سے اٹھ کر پیچھے آنے لگا۔

’’یہ نشہ تونہیں کرتا ۔۔۔؟‘‘ ایک مسافرنے ناگوار لہجے میں پوچھا۔

’’نہیں بھائی! نشہ تو دور کی بات یہ تو سگریٹ اور چائے بھی نہیں پیتا۔ پانچ وقت مسجد میں نماز پڑھتا ہے۔‘‘ رمضان کہنے گا۔ ڈرائیور کو نہ جانے کیا دکھائی دیتا تھا کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہو چکا تھا۔ جبکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ سامنے یا پیچھے سے آنے والی کوئی اور گاڑی اندھیرے کی وجہ سے ہماری بس سے ٹکرا نہ جائے۔ میں نے اسکا اظہار رمضان سے کیا تو وہ ٹارچ جلا کر بس کی پچھلی سیٹ پر اس طرح رکھ آیا کہ اس کا رخ باہر کی طرف تھا۔ پیچھے کا مسئلہ تو حل ہوگیا پر سامنے سے ٹکرانے کا خدشہ ابھی بھی موجود تھا۔ (جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا


loading...