فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر121

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر121
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر121

  

حسنہ ایک بے حد دلچسپ اور رنگین کردار تھیں۔ یوں تو وہ بہت ہنس مکھ تھیں مگر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کب کس بات پر ناراض ہوجائیں گی۔ ان کے مزاج میں لاابالی پن اور بچپن بہت زیادہ تھا۔ گھر میں انہیں بے بی کے روپ میں ہی دیکھا تھا اس لئے آج بھی انہیں بے بی ہی کہتے ہیں حالانکہ وہ بڑے بڑے بچوں کی ماں بن چکی ہیں مگر وہ بالکل مائنڈ نہیں کرتیں۔ وہ بے حد دلچسپ شخصیت ہیں مگر صرف اس وقت تک جب ان کا دماغ نہ پھر جائے اور وہ کس بات پر ناراض ہوجائیں گی یہ کوئی نہیں جانتا۔ ایک بار فلم ’’نیلا پربت‘‘ کی شوٹنگ کے دوران میں انہوں نے انڈے کی فرمائش کی۔ اسسٹنٹ فوراً ابلا ہوا انڈا اور کافی لے کر حاضر ہوگیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر120 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بے بی بگڑ گئیں ’’یہ کیا طریقہ ہے۔ فقیروں کی طرح ایک انڈا لے کر آگئے۔ ہیروئن کی یہی عزت ہے تمہارے یونٹ میں؟ اٹھا کر لے جاؤ‘‘۔وہ چیخ کر بولیں تو سب ڈر کر اور منہ چھپا کر بھاگ گئے۔

اسسٹنٹ نے جاکر فلمساز اور ہدایتکار احمد بشیر کو بتایا۔ اس فلم کی شوٹنگ کراچی کے اسٹوڈیو میں ہو رہی تھی۔ احمد بشیر فلم میں درپیش مسائل کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ یہ ان کی پہلی پہلی فلم تھی۔ سرمایہ بھی خود ان کا اور ان کے رشتے داروں کا تھا۔ فلم کا موضوع بھی نفسیاتی اور جنسیاتی تھا۔ دراصل وہ ایک نیا تجربہ کرنا چاہتے تھے مگر عام روش سے ہٹ کر کوئی قدم اٹھائے تو تنقید کا نشانہ بن جاتا ہے۔ ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ہر سین کی وضاحت کیلئے ہیرو محمد علی، ہیروئن حسنہ اور طالش کو سمجھانا پڑتا تھا تب کہیں جاکر وہ منظر فلمایا جاتا تھا کیونکہ کہانی کی ضروریات قدرے مختلف تھیں اور احمد بشیر ایک عام ڈگر سے ہٹ کر فلم بنا رہے تھے اس لئے اداکاروں کو ان کی بات سمجھنے میں مشکل پیش آتی تھی خصوصاً حسنہ اکثر بحث کیاکرتی تھیں اور ان کو منانے کیلئے احمد بشیر مختلف طریقے استعمال کرتے تھے۔

اسسٹنٹ نے ایک انڈے کی فراہمی پر حسنہ کی ناراضگی کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ’’بھئی فوراً ایک درجن انڈے ابال کر حسنہ بیگم کے پاس لے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ ان کا موڈ خراب ہوجائے، مجھے بہت اہم سین فلمانا ہے‘‘۔

حسنہ میک اپ روم میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسسٹنٹ ایک درجن ابلے ہوئے انڈے لے کر ان کے پاس پہنچ گئے ’’میڈم انڈے‘‘۔

حسنہ نے انڈے اٹھا کر پھینک دیے اور غصے سے چلائیں ’’کیا سمجھ رکھا ہے تم لوگوں نے میں کوئی جنات ہوں جو ایک درجن انڈے کھاؤں گی، اتنی بدتمیزی؟‘‘

حسنہ غصے میں بل کھائی ہوئی اٹھیں اور کار میں بیٹھ کر گھر چلی گئیں۔ دوسرے دن فلم ساز نے بڑی مشکل سے انہیں منایا اور شوٹنگ کیلئے آمادہ کیا۔

حسنہ کے ایسے اور بھی بے شمار واقعات ہیں جو بہت دلچسپ ہیں۔ ان پر گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ کی مثل صادق آتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کس وقت، کس بات پر وہ مہربان ہوجائیں اور یکایک کس بات پر قہر و غضب کا نمونہ بن جائیں گی۔وہ انڈے کیوں کھاتی تھیں ،اس کا جواب ہوتاوہ خود کو فٹ رکھنے کے لئے کھاتی ہیں۔

’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کی فلم بندی میں حسنہ نے بہت دلچسپی سے حصہ لیا۔ ایک تو انہیں فلم کی کہانی اور اپنا کردار بہت پسند آیا تھا۔ دوسرے شوکت شیخ ان کے منہ بولے ’’ڈیڈی‘‘ تھے۔ شوکت صاحب کی بیگم بھی اکثر سیٹ پر موجود رہتی تھیں۔ جس کی وجہ سے گھریلو اور اپنائیت کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ ایک کے بعد ایک سیٹ لگتے رہے اور زور شور سے شوٹنگ ہوتی رہی۔ جب رش پرنٹ نکلے تو سبھی نے تعریف کی۔ تقدیر شوکت شیخ پر بہت مہربان تھی۔ فلمی دنیا میں ان کی خوش بختی کے چرچے عام ہو رہے تھے۔ خیال تھا کہ آئندہ مہینے یہ فلم مکمل ہوجائے گی اور بہت کامیاب رہے گی۔ مگر تقدیر کو کروٹ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ایسا ہی شوکت شیخ کے ساتھ بھی ہوا۔

اس زمانے میں فلم والے آپس میں بہت میل جول رکھتے تھے۔ تقریبت اور پارٹیاں ہوتی رہتی تھیں۔ محفلیں سجائی جاتی تھیں۔ خوب رونق رہا کرتی تھی۔ ایک ایسی ہی پر رونق تقریب میں شوکت شیخ کی بیگم کی ملاقات شمیم آرا سے ہوگئی اور وہ انہیں ایسی بھائیں کہ انہوں نے شمیم آرا سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔ شمیم آرا اس وقت بھی اسٹار تھیں۔ بے حد مصروف تھیں مگر مسز شوکت کی پارٹیوں میں شریک ہونے کیلئے وہ بھی وقت نکالنے لگیں۔ ملاقاتیں بڑھیں تو شمیم آرا نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا۔ مسز شوکت نے بھی شمیم آرا کو اپنی کوٹھی پر دعوت دی اور بہت اچھی محفل جمی۔ مگر شوکت صاحب کچھ پریشان تھے۔ ہم نے دریافت کیا تو بولے ’’آفاقی! تم جانتے ہو کہ بے بی (یعنی حسنہ) شمیم آرا کو پسند نہیں کرتی بلکہ اسے اپنا حریف سمجھتی ہے اس کے مزاج سے بھی تم واقف ہو۔ ایسا نہ ہو کہ شمیم آرا سے ہمارے تعلقات کی وجہ سے وہ ناراض ہوجائے‘‘۔

ہماری صحافت کے دنوں ہی کا ذکر ہے کہ ہم نے ایورنیو اسٹوڈیو کے دروازے کے باہر ایک متوسط قد و قامت کے مضبوط نوجوان کو دیکھا۔ صورت شکل معمولی، لیکن آنکھوں میں بے پناہ چمک اور چہرے پر اعتماد، ہمارا اسٹوڈیوز میں آنا جانا لگا ہی رہتا تھا۔یہ نوجوان کبھی شاہ نور اسٹوڈیو تو کبھی ایورنیو اسٹوڈیوز کے باہر نظر آجاتا تھا۔ کبھی توجہ سے دیکھنے یا اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ایک ایکسٹرا اداکار یا فائٹر کو غور سے دیکھنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ یہ گمنام، بے چہرہ لوگ فلمی نگارخانوں میں گھومتے ہی پھرتے ہیں اور پھر سلطان کا تو یہ بالکل ابتدائی زمانہ تھا۔ اس وقت اسے صرف سلطان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ابھی وہ سلطان راہی نہیں بنا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز ایکسٹرا اور فائٹر کی حیثیت سے کیا تھا۔ اس لئے نامور اور دولت مند ہونے کے بعد بھی وہ ایکسٹرا اور فائٹرز کے ساتھ پیار کرتا تھا۔ ان ہی کے درمیان رہنا پسند کرتا تھا۔ان ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ آؤٹ ڈور شوٹنگ کے زمانے میں وہ ان ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا تھا۔ ان ہی کے ساتھ آرام کے لمحات گزارتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے چہروں میں وہ اپنے ابتدائی جدوجہد کے ایام تلاش کرتا رہتا تھا۔ جنہیں وہ پاکستان کا سب سے بڑا، مقبول اور سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والا ہونے کے بعد بھی نہیں بھولا تھا۔ یہ سلطان بعد میں سلطان راہی کے نام سے پاکستان کی فلمی دنیا میں چھاگیا۔ پنجابی فلموں میں اس کی حیثیت شہ رگ جیسی تھی۔ اس کے بغیر پنجابی فلم بنانے اور کامیاب کرانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ پنجابی فلموں کا بے تاج سلطان بن چکا تھا۔ ایسا وقت بھی آیا جب وہ بیک وقت چالیس پینتالیس فلموں میں کام کرتا تھا۔ اگر فلمسازوں کا بس چلتا تو اس سے زیادہ فلموں میں بھی اسے کاسٹ کرتے لیکن یہ جسمانی طور پر ممکن نہ تھا۔ وہ چوبیس گھنٹوں میں سے بیس بیس گھنٹے بھی مصروف رہا۔ کبھی مسلسل چوبیس گھنٹے بھی اس نے کام کیا۔ اٹھارہ گھنٹے کام کرنا تو اس کے معمول میں داخل تھا۔ وہ ایک ہی وقت میں ان گنت فلموں میں کام کرتا تھا۔ ان کے ناموں سے اسے کوئی سروکار نہ تھا۔ لیکن ان میں سے تمام تر فلموں میں وہ مرکزی کردار ہوا کرتا تھا۔ کرداروں کی نوعیت سے بھی اسے کوئی مطلب نہیں تھا۔ اس لئے کہ وہ اکثر ایک ہی کردار کرتا رہا۔ نہ وہ اس کردار سے کبھی اکتایا، نہ ہی اس کے پرستار فلم بین اسے ایک ہی کردار میں، ایک ہی قسم کے مکالمے ادا کرتے دیکھ کر اس سے بیزار ہوئے۔ نقاد حیران تھے کہ آخر لوگ اس کی فلمیں دیکھنے جاتے ہی کیوں ہیں جب کہ ہر فلم میں اس کا کردار، لباس، مکالمے، اداکاری کا انداز اور آغاز و انجام قریب قریب ایک ہی جیسا ہوتا تھا مگر ایسا لگتا تھا جیسے اس نے فلم دیکھنے والوں پر جادو کردیا ہے۔ کوئی سحر پڑھ کر پھونک دیا ہے۔ یا پھر ہپنائزم کے زور پر انہیں اپنا معمول بنالیا ہے۔ اس قدر والہانہ عقیدت، ایسی چاہت اور اتنے طویل عرصے تک، کسی اور اداکار کے حصے میں بھلا کہاں آئی ہوگی۔ دنیا کی فلمی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس نے لگ بھگ ۲۸ سال قبل ایک پنجابی فلم ’’بابل‘‘ میں مرکزی کردار کرکے جو مقام، مرتبہ اور قبول عام حاصل کیا تھا آخر دم تک اس مقام پر فائز رہا۔ اتنے طویل عرصے تک ہیرو کے مقام کو برقرار رکھنے کی مثالیں تو اور ملکوں میں بھی مل جائیں گی مگر ان اداکاروں کی ہر سال بیس پچیس فلمیں ریلیز نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مختلف قسم کے کرداروں اور نت نئے روپ میں فلم بینوں کے سامنے بھیس بدل بدل کر آیا کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی سال میں ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین چار فلموں میں کام کیا ہوگا۔ مگر سلطان راہی ان سے بالکل مختلف اور منفرد ہیرو تھا۔ وہ اتنے لمبے عرصے تک، سالہا سال ایک ہی قسم کے کرداروں میں نمودار ہوتا رہا۔ ان کرداروں میں ناموں کے سوا کوئی اور فرق نہیں تھا۔ بلکہ اکثر اوقات اس کے فلمی نام بھی وہی ہوتے تھے جو اس سے پہلے والی فلموں میں ہوا کرتے تھے۔ کبھی اس کی سال میں بارہ چودہ فلمیں ریلیز ہوتی تھیں تو حیرت ہوتی تھی اس لئے کہ لوگ سال میں اس کی درجنوں فلمیں دیکھنے کے عادی ہوچکے تھے۔ وہ سال کے گیارہ مہینے شب و روز کام کرتا تھا۔ صبح چھ سات بجے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو بارہ ایک اور کبھی دو بجے واپس گھر لوٹتا تھا۔ برسوں اس کا یہی معمول تھا۔ وہ ان اٹھارہ بیس گھنٹوں میں مسلسل ایک اسٹوڈیو سے دوسرے اسٹوڈیو، ایک سیٹ سے دوسرے سیٹ اور ایک آؤٹ ڈور لوکیشن سے دوسری آؤٹ ڈور لوکیشن تک سفر کرتا رہتا تھا۔ وہ سارے دن سفر کرتا تھا۔ دن رات کام کرتا تھا، اس کی مصروفیات کی تفصیل سن کر لوگ حیران و پریشان ہوجاتے تھے لیکن سلطان راہی ایک ان تھک اداکار تھا۔ وہ انسان کے روپ میں ایک جن تھا۔ گرمی، سردی، برسات، بہار ہو کہ خزاں ہر موسم میں اس کا یہی معمول تھا۔ سال میں ایک ماہ وہ مکمل چھٹی کرتا تھا۔ یہ عموماً مئی یا جون کا مہینہ ہوتا تھا۔ اس ایک مہینے میں وہ بیرون ملک جاکر مکمل آرام کرتا تھا۔ عمرہ کرتا تھا، گھومتا پھرتا تھا۔ ایک جیسے فلمی ملبوسات کی جگہ من پسند مشرقی اور مغربی لباس پہن کر، ہیٹ لگا کر تفریح کرتا تھا۔ اور ایک ماہ کے بعد واپس آکر پھر اسی مشین کا پرزہ بن کر رہ جاتا تھا۔ کسی نے اسے کبھی تھکا ہوا نہیں دیکھا۔ صبح چھ بجے والی شوٹنگ میں وہ جس قدر تروتازہ اور شگفتہ مزاج نظر آتا تھا، رات کے بارہ بجے والی شوٹنگ پر بھی وہ اتنا ہی تازہ دم، ہنس مکھ اور زندگی کی حرارت سے بھرپور دکھائی دیتا تھا۔ بدمزاجی، چڑچڑاپن، غصہ، لڑائی جھگڑا، ان میں سے کوئی لفظ اس کی لغت میں نہیں تھا۔ جب دیکھئے ہنستا بولتا نظر آتا تھا۔ فلموں میں انتہائی خونخوار، بدمزاج، غصیل اور تند و خو نظر آنے والا یہ اداکار حقیقی زندگی میں ایک نرم خو، نرم دل اور خوش گفتار انسان تھا۔ کسی نے اسے کبھی کسی کے ساتھ لڑتے جھگڑتے، غصہ کرتے یہاں تک کہ بلند آواز سے بولتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ کئی سال سے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں اس پر کوئی اظہار ناراضگی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ پھر بھی بعض پرانے ہدایتکاروں یا اداکاروں کا موڈ خراب دیکھتا تو وہ فوراً ان سے دیر سے آنے پر معذرت کرلیتا۔ ہنس بول کر انہیں منانے اور خوش کرنے کی کوشش کرتا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر122 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -