جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سات سوالات

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سات سوالات

عدالتِ عظمیٰ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو عوامی عہدے کے لئے اہل قرار دے دیا ہے اور اِس سلسلے میں مسلم لیگ(ن) کے رہنما ملک شکیل اعوان کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے،جو انہوں نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی اس فیصلے کی روشنی میں شیخ رشید اب جولائی کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم تین رکنی بنچ کے ایک فاضل رُکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے27 صفحات پر مشتمل اپنے اختلافی نوٹ میں سات ایسے سوالات اُٹھا دیئے ہیں،جو قابلِ غور ہیں انہوں نے رائے دی ہے کہ اِن سوالات کے جوابات آنے تک یہ اپیل موخر کی جائے،بنچ کے سربراہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا، جس سے جسٹس سجاد علی شاہ نے اتفاق کیا۔اکثریتی فیصلے میں جسٹس شیخ عظمت سعید نے لکھا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر دستخط کرنے سے قاصر ہوں۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر فل کورٹ کی تجویز مان لی جائے تو یہ عمل انتخابات سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا،جبکہ اعلیٰ عدلیہ سیاسی و قانونی طور پر انتخابی عمل کا لازمی جزو ہے۔انتخابی عمل کے دوران کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال سے لے کر الیکشن ٹریبونل،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک آنے والے تنازعات فل کورٹ کے کیس کے فیصلہ ہونے تک طے نہیں ہو سکیں گے ان حالات میں2018ء کے انتخابات پر سوالات اُٹھیں گے اور نتائج کو تسلیم کرنا بھی مشکل ہو گا۔

سپریم کورٹ میں مقدمات کے فیصلے متفقہ بھی ہوتے ہیں اور اکثریتی بھی، دونوں قسم کے فیصلے ایک ہی طرح نافذ ہو جاتے ہیں،تاہم بنچ کا کوئی فاضل رُکن اگر دوسرے برادر ججوں کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہے تو اس کی وجوہ بھی تحریر کرتا ہے، اِس مقدمے کی سماعت تین رکنی بنچ کر رہا تھا دو ججوں نے جو فیصلہ کیا وہ نافذ ہو گیا۔ البتہ تیسرے رکن نے جو اختلافی نوٹ لکھا ہے اس میں جو سات سوالات اٹھائے ہیں وہ ہر لحاظ سے قابلِ غور ہیں اور کسی نہ کسی انداز میں ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہو گا،کیونکہ موجودہ مقدمہ نہ تو اپنی نوعیت کا آخری مقدمہ تھا اور نہ ہی آئندہ ایسے مقدمات فاضل عدالت کے سامنے آنے کا سلسلہ رُک جائے گا،چونکہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نااہلیت کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین کو بھی عمر بھر کے لئے نااہل کیا، دونوں حضرات نہ صرف اپنی نشستوں سے محروم ہوئے،بلکہ آئندہ الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ محمد آصف کو بھی عمر بھر کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا،خواجہ آصف کی اپیل میں سپریم کورٹ نے اُن کی رکنیت کے بارے میں فیصلہ تو برقرار رکھا،لیکن آئندہ کے لئے نااہلی ختم کر دی اور انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، شیخ رشید کے مقدمے کا فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب وہ اسمبلی ہی ختم ہو گئی جس کی رکنیت زیر بحث چلی آ رہی تھی اور جس کے لئے دائر کئے گئے کاغذات کی بنیاد پر یہ مقدمہ دائر ہوا تھا،اِس لئے اُن کے متعلق یہ فیصلہ آیا ہے کہ وہ انتخاب لڑنے کے اہل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں جو سوالات اُٹھائے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ کیا کاغذات نامزدگی میں ہر غلط بیانی کا نتیجہ نااہلی ہے،کیا آرٹیکل225 کے انتخابی تنازعات میں آرٹیکل3/184 کا اطلاق ہو سکتا ہے، کیا3/184 میں آرٹیکل/62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جا سکتا ہے، کیا آرٹیکل62ون ایف کے متن میں کورٹ آف لا کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے،کیا عدالتی کارروائی کے دوران ظاہر ہونے والی غلط بیانی کو نااہلی کے لئے زیر غور لایا جا سکتا ہے، کیا کسی شخص کی انتخابی عذر داری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے،کیا جب معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو اس صورت میں بھی شواہد فراہمی کے متعلق قوانین کا اطلاق ہو گا، کیا غلط بیانی پر نااہلی کی مدت تاحیات ہو گی یا آئندہ الیکشن تک؟یہی سوالات اسحاق خان خاکوانی کیس کے فیصلے میں بھی اُٹھائے گئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنے فیصلے میں شیخ رشید کو نااہل قرار نہیں دیا،بلکہ اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ فل کورٹ بنا کر ان سوالات کا جواب تلاش کیا جائے،باقی دو ججوں نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا،لیکن سوال یہ ہے کہ جولائی کے انتخابات کے بعد جب نئی عذر داریاں دائر ہوں گی اور اُن میں اسی طرح کے الزامات سامنے آئیں گے جو شیخ رشید کے خلاف اپیل کنندہ نے اٹھائے اور جن سے اکثریتی فیصلے میں اتفاق نہیں کیا گیا تو کیا صورتِ حال ہو گی؟ سپریم کورٹ کے حکم پر جو حلف نامہ کاغذاتِ نامزدگی کا حصہ بنایا گیا ہے اس کی حیثیت تو اس بیان حلفی کی طرح قرار دی گئی ہے، جو عدالت میں داخل کیا جاتا ہے اور اگر اس بیانِ حلفی میں کوئی خلاف واقعہ بات ہو گی تو نہ صرف اس پر کارروائی ہو گی،بلکہ بیان دینے والے کو توہین عدالت کے مقدمے کا بھی سامنا ہو گا۔اب اگر وقت کی کمی یا انتخابی عمل کے تاخیر کا شکار ہونے کے خدشے کے پیش نظر اِن سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے فل کورٹ بنانے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا گیا تو بھی آئندہ اس معاملے کو زیادہ عرصے تک بغیر غور کئے موخر کرنا آسان نہیں ہو گا،کیونکہ آج جو سوالات ایک فاضل جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں اُٹھا دیئے ہیں کل کو دوسرے قانونی ماہرین بھی اُٹھائیں گے اور جو لوگ اپنا مقدمہ لے کر عدالت جائیں گے یہ سوالات وہ بھی اُٹھا سکتے ہیں،اِس لئے اگر اب نہیں تو جلد یا بدیر ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہو گا،نئے انتخابات زیادہ دور نہیں ہیں ان کے بعد انتخابی عذر دایاں ہوں گی تو نہ صرف یہ سوالات اُٹھیں گے،بلکہ ملتے جلتے مزید سوالات بھی سامنے آتے رہیں گے۔ تاحیات نااہلی کے فیصلوں کی جو نظیریں قائم ہوئی ہیں انہیں زیادہ عرصے تک نظر انداز کرنا سپریم کورٹ کے لئے ممکن نہ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ