رمضان المبارک میں گراں فروشی اور مہنگائی جاری رہی

رمضان المبارک میں گراں فروشی اور مہنگائی جاری رہی

رمضان المبارک کا مہینہ بھی اختتام کو پہنچا، جس میں تاجروں نے خوب کمائیاں کیں۔ گراں فروشی اور مہنگائی کے خلاف عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوتی رہی کہ عوام کو اس لوٹ مار اور ناجائز کمائی سے بچایا جائے۔ حکومتی سطح پر روایتی انداز میں مجسٹریٹوں کی ڈیوٹیاں لگا دی گئیں، چھاپوں کا سلسلہ روایتی انداز میں شروع کر دیا گیا۔ بعض دکانداروں کو گراں فروشی کے الزام میں گرفتار بھی کیا جاتا رہا مگر مہنگائی اور گراں فروشی پھر بھی جاری رہی وفاقی حکومت نے لوگوں کو اشیائے ضرورت سستے داموں مہیا کرنے کے لئے یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کی سبسڈی دی لیکن حکمت عملی درست نہ ہونے کی وجہ سے رمضان المبارک کے آغاز کی بجائے دس رمضان المبارک کو سستی اشیاء فراہم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ چند دنوں ہی میں چینی اور دیگر اشیاء کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو گیا۔ یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ اشیاء کی کوالٹی اچھی نہیں اور کئی اشیاء بازار میں سستے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ اسی طرح پنجاب حکومت کی طرف سے سستے رمضان بازاروں کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ وہاں بھی گراں فروشی کی شکایت تھی جبکہ اشیاء کا معیار بھی ناقص تھا۔ انتظامیہ کی طرف سے ایسی شکایات کا خاتمہ کرنے کے لئے جو بھی اقدامات کئے گئے، وہ ناقص تھے چنانچہ صارفین سراپا احتجاج دکھائی دیئے۔ہمارے ہاں یہ افسوسناک روایت پختہ ہو چکی ہے کہ نیکیوں کے مہینے میں تاجروں کی طرف سے ناجائز منافع خوری اور ناقص مال کی فروخت کی جاتی ہے۔ حالانکہ اس مقدس مہینے میں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کو تاجر نمائندوں کے تعاون سے اس روایت کا یکسر خاتمہ کرنے کے لئے مہم چلانی چاہئے۔ تاجروں کا ایک کردار تو یہ ہے کہ وہ غریبوں اور مستحق افراد کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ رفاعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جب اسی تاجر برادری میں سے اکثریت ذخیرہ اندوزی کرتی ہے۔ ناقص مال فروخت کیا جاتا ہے اور بلا وجہ قیمتیں بڑھا کر عام لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں تو بڑی حیرت ہوتی ہے۔ تاجر برادری کو ناجائز منافع خوری کے خاتمے کی مہم میں شریک کرنے کی کوششیں کی جائیں تو قوی امید ہے کہ رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر تاجروں کی بھاری اکثریت راہ راست پر آ سکتی ہے اس کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ