عید کا چاند اور پاکستانی مسلمان؟

عید کا چاند اور پاکستانی مسلمان؟
عید کا چاند اور پاکستانی مسلمان؟

  

الحمد للہ،آج رمضان المبارک کی انتیس تاریخ ہو گئی اور اسلامیان پاکستان نے سخت گرمی اور تپتی دوپہروں میں فریضہ اور29 روزے پورے کئے، ابھی افطار میں کافی وقت ہے اور یہ کالم بروقت اشاعت کے لئے جانا ہے، اِس لئے چاند ہونے یا نہ ہونے کے اعلان سے پہلے ہی اسے اشاعت پذیر ہونا ہے،لہٰذا ہم انتیس کی گنتی پوری کرتے ہوئے اس اطمینان کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ اس مرتبہ روزے 30ہوں گے اور عیدالفطر ہفتہ کو ہو گی۔ یہ اطلاع تو محکمہ موسمیات اور ماہرین کی بھی ہے کہ آج چاند نظر آنے کے امکانات بہت کم ہیں اور یوں تیس روزے مکمل ہوں گے اور چاند کل (جمعتہ المبارک) کو نظر آئے گا،جس کی رو سے عید ہفتہ کو ہو گی۔

پاکستان کی تاریخ میں اس مرتبہ یاد گار دن تھا جب رمضان المبارک کے چاند پر صاد کیا گیا اور یکم رمضان المبارک پرکوئی اختلاف نہیں ہوا، پورے مُلک میں روزہ ایک ہی دن رکھا گیا۔

اس سلسلے میں ہم اتحاد والی خوش فہمی میں زیادہ مبتلا نہیں ہوئے، کیونکہ اس اتفاق کی سب سے اہم بات سعودی عرب میں رمضان کے آغاز کی تھی کہ وہاں بھی رمضان اسی دن شروع ہوا تھا، چنانچہ ہمارے افغان(مہاجر) بھائی اور قبائلی دوست بھی معترض نہ ہوئے، تاہم خدشہ ہے کہ آج شاید مکمل اتفاق نہ ہو پائے کہ ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں آج روئت ہلال کا قوی امکان ہے اور وہاں عیدالفطر جمعہ کو ہو گی، جبکہ ایسے ہی ماہرین نے پاکستان میں چاند نہ دکھائی دینے کی بات کی ہے اور عید ہفتہ کی قرار دی گئی ہے،چنانچہ اور کوئی مانے نہ مانے افغان مہاجر کیمپوں میں سعودی حکومت کی پیروی کی جائے گی۔

اس عدم اتفاق کو ختم کرنے ہی کے لئے قانون منظور کیا گیا تھا کہ منظور شدہ ریاستی روئت ہلال کمیٹی کے سوا کسی کو چاند ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم اس قانون پر کبھی عمل نہیں ہوا،ہمیشہ پشاور اور قبائلی علاقوں سے اختلاف کیا گیا۔

جہاں تک روئت ہلال کا تعلق ہے تو ہم اکثر اس کا ذکر کر کے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جس کے مطابق قدامت ترک کر کے روئت کے پس منظر اور اس کی افادیت پر نظر ر کھی جائے کہ آج کے جدید دور میں سائنس جو ثابت کر رہی ہے کہ وہ چودہ سال سے بھی پہلے ہمارے پیغمبر محمد رسولؐ اللہ نے بتا دی تھی، چنانچہ روئت ہلال کمیٹی کو انہی معنوں میں لینا چاہئے، روئت ہلال کمیٹی کا مقصد و مطلب یہ ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھ لو اور چاند دیکھ کر عید کر لو، اس سلسلے میں وضع کردہ قواعد و ضوابط پرتمام علماء کرام کو اتفاق ہے،لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ روئت کی روح اور اتنا عرصہ پہلے آج کے دور کو پیشِ نظر رکھ کر غور اور فیصلہ نہیں کیا جاتا،یہ حقیقت ہے کہ دُنیا میں مختلف براعظموں اور خطوں میں طلوع و غروبِ آفتاب و مہتاب کے اوقات کار میں بہت فرق ہے۔

یہ دو گھنٹوں سے دس اور چودہ گھنٹے تک بھی ہے،چنانچہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں دن کا آغاز ہو تو ہمارے ملک میں رات ہوتی ہے، اسی طرح ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان دو گھنٹے کا فرق ہے اور اِسی حساب سے روئت میں بھی فرق لازم ہے، چنانچہ غور فرمائیں تو روئت کی حکمت صاف سمجھ آ جاتی ہے کہ حکم یا ہدایت یہ ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور عید کرو، اب یہ تو ممکن نہیں کہ کسی ایک مُلک یا اس کے شہر میں جو وقت ہو وہی دوسرے ممالک اور شہروں میں بھی ہو،اِس لئے یہی بہتر جانا گیا کہ ہدایت کر دی جائے اور یہ ہدایت سب کے لئے ہے،لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس حکمت و دانائی والی ہدایت کو اپنے حوالے سے دیکھا جائے۔آج کے دور میں ناسا یا کسی اور مُلک کے خلائی پروگرام والے علم کی مدد سے یہ بتا سکتے ہیں کہ کب اور کس روز چاند کی کیا پوزیشن ہو گی،ان کے پاس آلات اور سائنسی ایجاد کی رو سے یہ دیکھنے کے لئے اسباب ہیں کہ کس مُلک اور شہر میں چاند کب نظر آئے گا،اِسی لئے اُن سے تعاون لینا بری بات نہیں اور اب ایسا کیا بھی جا رہا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان کی خوشی میں ہم یہ تسلیم کر بیٹھے کہ عید کے چاند پر بھی اتفاق ہو گا اور ایک ہی عید بھی ہو گی،لیکن ایسا نہیں ہوا،بلکہ آج بھی شمالی سرحدی قبائل کے درمیان فیصلہ جرگہ ہی سے ہوتا ہے اِس لئے ہمیںیہ فکر لاحق ہے کہ آج روئت کے اعلان میں تاخیر ہو گی اور نمازِ تراویح پڑھی جائے گی۔

رمضان المبارک اور عیدالفطر کے چاند کے حوالے سے ہمارے تجربات بہت تلخ ہیں، ماضی میں جب روئت ہلال کمیٹی کے لئے آج جیسی سہولیات نہیں تھیں تو کئی بار روزہ رکھنا پڑا اور پھر اسی روز دن چڑھے توڑنا اور عید کی نماز پڑھنا پڑی، ایسا تو کئی بار ہوا کہ آدھی رات کو عید کا اعلان ہوا اور صبح نماز کے لئے بھاگ دوڑ کرنا پڑی کہ اعلان ہماری نیند کے دوران ہوا اور صبح اُٹھتے ہی معلوم ہوا کہ آج عید ہے۔

اسی طرح اکثر روئت کی شہادت پر اختلاف ہوا اور ایک ہی شہر میں دو دو عیدیں ہوئیں، اب تو پھر بھی ایک مرکزی روئت ہلال کمیٹی ہے جو اعلان کرتی ہے، اسے تسلیم کرنا چاہئے کہ اب ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں اور قوم بھی تسلم کرنے کو تیار ہے، ہمیں تو اپنے پاکستانی ماہرین پر اعتماد ہے کہ وہ بھی مسلمان ہی ہیں، اسی لئے مرکزی روئت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر ہی عمل ہونا چاہئے۔ ہم اس آس کے ساتھ یہ سطور لکھ چکے اور اب اسی توقع کے ساتھ اختتام کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ عید بھی ایک ہی روز ہو گی۔

مزید : رائے /کالم