منصفانہ انتخابات کے تقاضے؟

منصفانہ انتخابات کے تقاضے؟
منصفانہ انتخابات کے تقاضے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وطنِ عزیز میں ان دنوں نگران سیٹ اپ کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اسے کسی طرح بھی خوش آئند یا قابلِ رشک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئینی طو ر پر اس نوع کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا تاکہ انتخابی شفافیت پر اعتراضات کی گنجائش نہ رہے، لیکن تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس تمام تر کاوش کے باوجود دھاندلی کے الزامات لگانے والوں کے منہ بند نہیں کیے جا سکے۔

ہمارے یہاں جتنے چاہے منصفانہ انتخابات کروا لئے جائیں ان میں شکست کھانے والے اپنی شکست کو کھلے بندوں تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کے الزامات عائد کرنا، اپنی جھوٹی ساکھ کے لئے ضروری خیال کرتے ہیں بلاشبہ یہاں دھاندلیاں ہوتی بھی رہی ہیں اور ایک نوع کی دھاندلی جسے پری پول رکنگ کہا جاتا ہے آج بھی ہو رہی ہے، لیکن جب تک کسی منظم دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کئے جاتے بحیثیت مجموعی ایسے الزامات سے احتراز کیا جانا چاہئے بصورتِ دیگر یہاں جمہوریت کبھی استحکام حاصل نہیں کر سکے گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو مضبوط بناتے ہوئے یہ اہتمام کیا جائے کہ انتخابات منصفانہ و شفاف ہونے ہی نہیں چاہیں ہوتے ہوئے نظر بھی آنے چاہیں۔

ہمارے یہاں ایک مفروضہ بنا لیا گیا ہے کہ ہماری طاقتور ایسٹیبلشمنٹ جب کسی جمہوری حکومت کے خلاف ہو جاتی ہے اور اُسے گرانا چاہتی ہے تو تمام تر عوامی حمایت کے باوجود اُس حکومت کو دوبارہ جیتنے نہیں دیتی۔

عوامی سطح پر یہ نظریہ پھیلایا گیا ہے کہ جنہیں نکالا گیا ہے انہیں اِس لئے تو نہیں نکالا گیا کہ دوبارہ آنے بھی دیا جائے اگر انہی لوگوں نے دوبارہ آنا ہے تو پھر کسی کو اپنا منہ کالا کرنے کی کیا ضرورت تھی،ہمارے عوام کی نفسیات بھی یہ ہے کہ وہ بالعموم ہارنے والوں کے ساتھ نہیں جاتے جن لوگوں کے بارے میں یہ پھیلا دیا جائے کہ اب ان کو نہیں آنے دیا جائے گا تو سمجھ دار عوام انہیں ووٹ دینا اپنے ووٹ کا ضیاع خیال کرتے ہیں ۔

نفسیاتی طور پر یہ بڑی عجیب صورت حال ہوتی ہے ۔ اِسی وجہ سے جن لوگوں کے متعلق یہ پروپیگنڈہ پھیل جاتا ہے کہ اب کی بار انہوں نے جیتنا ہے تو فصلی بیڑے کہیں یا موقع پرست وہ پرندے ان کمزور ٹہنیوں سے اڑنا اور جیت کی شہرت رکھنے والی پارٹی میں شامل ہونا شروع کر دیتے ہیں 90ء کی دہائی میں اور مابعد منعقد ہونے والے انتخابات میں یہ عمومی وتیرہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، مگر یہ پوری سچائی نہیں ہے ۔

پور ی سچائی یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی عوامی قیادت اتنی پاپولیرٹی پکڑ جاتی ہے کہ خود ایسٹیبلشمنٹ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے تمام تر یکطرفہ منفی پروپیگنڈے کے باوجود رائے عامہ مخالفت میں بالمقابل کھڑی ہو جاتی ہے اس صورت حال میں کیفیت یہ ہوتی ہے کہ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ ’’جعلی پروپیگنڈے‘‘نے کام کیا۔

اسٹیبلشمنٹ کو منہ کی کھانی پڑتی ہے فیس سیونگ کے لئے وہ اپنی غیر جانبداری کے اعلانات بھی کرتی ہے، لیکن اپنی منفی حرکات سے با ز پھر بھی نہیں آتی عوامی شعور کی بلندی یا اصل عظمت اس دن کھل کر سامنے آئے گی جب ایسٹیبلشمنٹ کو عوامی سطح پر منہ چھپانے کے لئے کہیں جگہ نہ مل سکے۔

عوامی شعور کو اس سطح تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہی تو ہم نے مطالعہ پاکستان وغیرہ کے نام پر اپنا سلیبس بالجبر اس نوعیت کا بنا رکھا ہے تاکہ ہما ری نسلوں میں تخلیقی سوچ کی بجائے دولے شاہ کے چوہے پیدا ہوتے رہیں جو حب الوطنی اور پاک جہادیوں کو سلامیوں کے نام پر، ایسا تنگ نظر اور کند ذہن ماحول بنائے رکھیں جس میں حریت فکر کے ہر علمبردار کو ملک دشمن او ر غدار قرار دینا آسان ہو جائے۔

بہرحال تمام تر اہتمام کے باوجود بعض اوقات کسی شخصیت کی حق گوئی و بیباکی اتنی بلند ہو جاتی ہے، جس سے عوام میں یہ لہر اٹھتی ہے کہ ہم اپنے پاپولر لیڈر کے ساتھ ہیں کیو نکہ اس کی سابقہ کارکردگی آزمودہ ہے لہٰذا اس کی آواز ہماری آواز ہے۔

متحدہ پاکستا ن میں محترمہ فاطمہ جناح اور شیخ مجیب الرحمن کو بنگال جیسی بھر پور آبادی والے خطے میں جو پاپولیرٹی کامیابی کے ساتھ ملی تھی وہ روایتی اسٹیبلشمنٹ کے منہ پر ڈینٹ کی طرح تھی ۔

اسی طرح ملک دو لخت ہونے کے بعد ایک وقت وہ آیا کہ اسٹیبلشمنٹ کا خود کاشت کردہ پودا اتنا تناور ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے ’’منصفانہ ،آزادانہ، اور شفاف انتخابات کا انعقاد مشکل ہو گیا 90دن کا وعدہ گیارہ سالوں پر محیط ہو گیا۔ ہمارے تجزیہ نگاروں کو اس صورتِ حال کا تنقیدی جائز ہ لینا چاہئے کہ ضیاء الحق کی کیا مجبوریاں تھیں پاپولر قیادت کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے اُنھوں نے کیا کیا جتن نہیں کئے، مگر جس سال وہ رخصت ہوئے اُسی سال جو انتخابات منعقد ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی تمام منفی چالوں اور زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود محترمہ 88ء کے انتخابات جیت گئیں۔

اگر ہر معرکے میں ایسٹیبلشمنٹ کامیابی حاصل کرتی ہے تو پھر 88ء میں بی بی کیسے جیتی؟ یہ بھر پور عوامی اعتماد کی طاقت تھی، جس کا مظاہرہ ہوا لیکن افسوس اسٹیبلشمنٹ کے کڑے شکنجے نے عوامی شعور کو جبری گھٹن میں دبا ئے رکھنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تا وقتیکہ دونوں عوامی قائدین ان کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بعد چارٹر آف ڈیمو کریسی تک جا پہنچے۔ اگرچہ عمل اس پر بھی نداور ہے۔

مشر ف انتظامیہ کی ڈارلنگ ق لیگ تھی، پی پی کی جیت کو با امر مجبوری قبول کیا گیا۔ پی پی میں موجود صاحب فکر لوگوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس طرح رو کر اسٹیبلشمنٹ کے قدموں میں گر کر انہوں نے 2008ء سے 2013ء تک حکومت کی اس کا پاکستانی عوام بی بی کی سوچ یا خود پی پی کو کیا فائد ہ پہنچا؟ اس نوع کا لولی پوپ اگر وہ اب بھی اپنے منہ میں لئے ہوئے ہیں تو اس میں پارٹی ، عوام یا بی بی کے افکار کا کتنا مفاد ہے؟یہ درویش یہاں پوری ذ مہ داری سے لکھے دے رہا ہے کہ اگر اگلا وزیراعظم نواز شریف نہیں ہے تو بلاول یا سابق کھلاڑی بھی نہیں ہے۔

نواز شریف صحیح کہتے ہیں کہ ان کی لڑائی زرداری سے ہے نہ کھلاڑی سے، جس خلائی مخلوق کا وہ ذکر کرتے ہیں وہ خلائی مخلوق بلوچستان تجربے کو ماڈل خیال کرتے ہوئے وزا رتِ عظمیٰ کے لئے اسی کو اپنانا چاہے گی انہوں نے اپنے سارے انڈے کسی ایک مرغی کے نیچے رکھے ہیں اور نہ رکھنے کی پوزیشن میں ہیں، جبکہ اُن کے اصل مخالف کے لئے اصل چیلنج سادہ اکثر یت یا جوڑ توڑ کی کامیابی نہیں دو تہائی اکثریت کا حصول ہے۔ وہ اگر اپنے ٹارگٹ کی منزل حاصل نہ کر سکے تب بھی اگلی حکومت اگر اُن کی مرضی سے بن نہ سکی تو چل وہ بھی نہیں سکے گی۔یہی رویہ اسٹیبلشمنٹ کا ہو گا۔ عدم استحکام ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔

آپ نواز شریف پر جتنا گند پھینک سکتے ہیں اتنا اور بھی پھینک دیں جیل یاترا پر بھی بھیج دیں مگر وہ عوام کے اندر جتنی گہری جڑیں بنا چکا ہے ان کا ادراک نہ رکھنے والوں کی اپنی بھول ہے ۔

یہ نام نہاد اینکرز چینلز پر بیٹھ کر اپنے آ پ کو جس طرح ارسطو سمجھ کر جھوٹ پھیلا رہے ہوتے ہیں کھلاڑی کے متعلق یہی پروپیگنڈہ انہوں نے 2013میں بھی کر کے دیکھ لیا اب کے بھی نتائج مختلف نہ ہوں گے، لہٰذا خواہشات کو حقائق کا نام دینے سے ا حترار کیا جاناچاہئے۔

نگران سیٹ اپ کا تصور جس مقصد کے لئے پیش کیا گیا تھا وہ حاصل ہو رہا ہے نہ جمہوریت کی نیک نامی،بلکہ وہ پارٹی جسے پریشر گروپ کہا جانا چاہئے مس یوز کرتے ہوئے اسے مذاق بنا رہی ہے عزت دار انسان کو اپنی کہی بات کا کچھ پاس یا لحاظ ہو تا ہے یہ کیسا وتیرہ ہے کہ ساتھ مل کر آپ پوری جرح کے ساتھ ایک نام طے کرتے ہیں اور پھر وہ دو روز بعد مکر جاتے ہیں کیسے کیسے لال بجھکڑ ہیں جو ان کہہ مکرنیوں کو جواز بخشنے کے لئے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے ہوتے ہیں شبنم ریپ اور ڈکیٹی کیس والوں کو نئے پاکستان کی تعمیر کا ٹھیکہ دیتے ہیں اور پھر نکالتے ہیں۔ کیا سیاست آپ کی نظر میں ایک مذاق ہے؟ ایسے مذاق آپ اپنے گھر تک محدود رکھیں وطنِ عزیز پاکستان کو بخش دیں۔

مزید : رائے /کالم