سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار

سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار
سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک میں گیارویں عام قومی انتخابات کے باضابطہ مراحل کا آغاز ہو گیا ہے۔ امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی داخل کر دئے ہیں جو جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اعتراضات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن یہ اعتراضات اس لئے ادھورے ہیں کہ امیدواروں کے مکمل کوائف سے لوگ آگاہ نہیں ہیں۔

اپنی مرضی تھونپنے والے الیکشن کمیشن نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ امیدواروں نے جو حلف نامے داخل کئے ہیں انہیں ویب سائٹ پر نہیں دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں کوئی کس طرح امیدوار کی اہلیت، صداقت، اور امین ہونے کے خلاف اعتراض کر سکے گا۔

الیکشن کمیشن نے تو ایک اور بھی کھیل خاموشی سے کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے امیدوار سے اسکروٹنی کے نام پر تیس ہزار روپے جب کہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار سے بیس ہزار روپے وصول کئے گئے ہیں۔

یہ کیسا کمیشن ہے جو قومی انتخابات کو بھی کاروبار کی طرح کر رہا ہے۔ وسائل سے محروم کوئی شخص امیدوار ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے لفظوں میں اسے اس کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا ہے۔

آج بے ہنگم طریقے سے انتخابی مراحل کو سر انجام دیا جارہا ہے اس کے پیش نظر اندیشہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں بھی 2013ء کے انتخابات کا رنگ شامل ہوگا۔ بہر حال مراحل طے کئے جارہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ بس سفر کرنا ہے جیسا بھی گزرے۔ ن لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے جس بھونڈے انداز میں اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے وہ خاندانی جا ئیدادوں کا بٹوارہ لگتا ہے۔ تحریک انصاف نے تو ماضی کے چار سالوں کے دوران اپنے کہے سنے کا بیڑا غرق کر لیا ہے۔

تجربہ کار باورچی کہتے ہیں کہ دیگ کا ایک چاول دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے کہ دیگ کیسی ہوگی۔ یہ بات ایسی ہی ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کی فہرست دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے کے علاوہ کسی اور معاملہ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ جیسے تیسے وہ اکثریت حاصل کریں اور حکومت سازی کر سکیں۔

نیا پاکستان وہ کیا خاک بنا سکیں گے بلکہ پرانا پاکستان بھی ان کے ہاتھوں محفوظ رہ جائے تو بڑی بات ہوگی۔ بھلا تحریک انصاف نے جو امیدوار نامزد کئے ہیں انہوں نے ماضی میں کیا کارکردگی دکھائی ہے۔ وہ سارے کے سارے خاموش تماشائی ہوتے ہیں یا پھر ڈیسک پیٹ کر اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ خود عمران خان پانچ حلقوں سے امید وار ہیں۔

ایسا تو نہیں کہ انہیں اپنی کامیابی کا کسی ایک حلقے سے یقین نہیں تھا۔

پیپلز پارٹی نے سندھ میں زیادہ تر آزمودہ امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ اس نے بھی زیادہ تر ٹکٹ خاندانوں کے درمیاں تقسیم کئے ہیں۔ البتہ صوبائی اسمبلی کے لئے وفادار قسم کے مضبوط امیدوار نامزد کئے گئے ہیں۔

آصف زرداری کی دو بہنیں فریال تالپور اور عذرا جو گزشتہ دور میں قومی اسمبلی کی اراکین تھیں، اس دفعہ صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔ آصفہ کو قومی اسمبلی کی نشست پر لڑنا تھا لیکن اسے امیدوار بننے سے ہی اچانک روک دیا گیا۔

یہ اچانک اس لئے ہوا کہ پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتاؤں کا خیال تھا کہ حلف نامہ داخل نہیں کرنا ہوگا۔ اس طرح آصفہ کے نام جائیدادوں کی تفصیل عام ہونے سے محفوظ رہ سکے گی۔

پارٹی نے بعض خاندانوں کو ٹکٹ اس طرح دئے ہیں کہ پورا ضلع ہی ان خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ن لیگ بھی ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ میں کوئی بہتر رویہ نہیں دکھا سکی۔ایسا لگتا ہے اس نے تو ٹکٹ وفاداری کی بنیاد پر جاری کئے ہیں تاکہ قیادت کے خیال میں منتخب اراکین کی وفاداری تبدیل نہیں کرائی جاسکے۔

بلاول نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو حلف نامے داخل کئے ہیں، انہیں دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عوام کے رہنماء کس قدر امیر و کبیر ہیں۔ بلاول کے حلف نامہ میں جائیدادوں کی جو قیمت دکھائی گئی ہے، اس کے مقابلے میں اصل قیمت بہت زیادہ ہے، اگر بلاول کو شک ہے تو کوئی بھی جائیداد برائے فروخت کر کے قیمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

عام انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں کے کل اثاثوں کو یکجا کیا جائے تو پاکستان پر آئی ایم ایف کے قرضوں کو دو سے زائد بار ادا کیا جا سکتا ہے۔

جس ملک میں عوام کی بھاری اکثیریت کی سالانہ آمدنی بارہ لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی ہو، جس ملک کے عوام کی بھاری اکثریت غربت کی لکیر کے نیچے ہو وہاں امیدواروں کی اکثریت امیر و کبیر ہو، یہ ہی دھوکہ اور دوغلاپن ہے، جس کی قیمت تو انہیں کبھی نہ کبھی ادا تو کرنا ہوگی۔

سندھ میں تو ن لیگ نہ ہونے کے برابر، تحریک انصاف آٹے میں نمک کے برابر امیدوار نامزد کر سکی ہے۔

رہ گیا جی ڈی اے جس کا بڑا دعوی تھا اور چرچا بھی تھا کہ پیپلز پارٹی کو ڈھیر کردے گی۔ پیپلز پارٹی کی ماضی کی تواتر کے ساتھ قائم ہونے والی دونوں حکومتوں کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیوں کہ حکومت سازی جی ڈی اے کرے گی۔

جی ڈی اے کا بس دعوی ہی رہا۔ پاک سرزمین پارٹی بھی بلند بانگ دعوی کر رہی ہے لیکن حیدرآباد، میرپور خاص میں تو امیدوار بس ایویں ہی ہیں۔ ایم کیو ایم بھی شاہد ہی کسی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے گی۔ متحدہ مجلس عمل نے امیدوار تو نامزد کئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کے پاس تو پولنگ اسٹیشنوں پر بٹھانے کے لئے پولنگ ایجنٹ بھی نظر نہیں آتے۔ 2013ء جیسا حشر ہوتا نظر آتا ہے۔

سن تیرہ میں یہ ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے ڈبے بھرے تھے ۔ گنتی کے بعد ریٹرنگ افسران نے پیپلز پارٹی مخالف امیدواروں کے ایجنٹوں کو تمام امیدواروں کے ووٹوں کی گنتی کا سرٹی فیکیٹ جاری نہیں کیا تھا جو جاری کرنا قانونی تقاضہ تھا۔ ایجنٹ اتنی عجلت میں تھے کہ انہوں نے پولنگ افسران سے تقاضہ ہی نہیں کیا۔

اور یہ عمل ہی پیپلز پارٹی کی کامیابی کی بڑی وجہ بنا۔ ووٹر تو بہت سارے معاملات سے لا علم ہی رہتا ہے۔ یہ تو امیدوار یا پھر پارٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کیا کرتی ہیں اور انتخابات کو حقیقی معنوں میں صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ رہنے دیتی ہیں یا نہیں ۔ پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات ہی کیا ، کوئی بھی کام شفاف نہیں کیا جاتا ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف عناصر کے پاس ابھی بھی وقت ہے ، آپس میں اتحاد کریں ، براہ راست مقابلوں کا انتظام کریں ۔ پی ٹی آئی، ن لیگ، جی ڈی اے، ایم ایم اے، پی ایس پی، ایم کیو ایم، وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے امیدوار کھڑے رکھنے پر بضد رہے تو پھر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیابی حاصل کرنے سے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائت سے 1977ء کے بعد ہونے والے تمام قومی انتخابات کے نتائج غائب کر دیئے ہیں اور پھر 2008ء کے نتائج دئے گئے ہیں۔ کون عقلمند بیٹھے ہیں جواہم قومی ریکارڈ کے ساتھ بھی کھیل کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن سے کون پوچھے کہ 1985ء، 1988ء، 1990ء، 1993ء، 1996ء، 2002ء کے انتخابات کی تفصیل کس کے اشارے یا کہنے پر غائب کی گئی ہیں اور غائب کرنے سے کیا حاصل کرنا مقصد ہے۔ کیا تاریخی قومی ریکارڈ کے ساتھ ایسا مذاق کیا جانا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم