عام انتخابات: کیا سرکاری افسران تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟

عام انتخابات: کیا سرکاری افسران تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟
عام انتخابات: کیا سرکاری افسران تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چاروں صوبوں کے آئی جیز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ ایسا الیکشن کمیشن کے حکم پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔

ٹی وی چینل پر ایک معروف مبصر فرما رہے تھے کہ کتنابڑا المیہ ہے کہ ہم نے اپنی بیوروکریسی پر اعتماد کرنا بھی چھوڑ دیا ہے، حالانکہ وہ تو ریاست کی وفادار ہوتی ہے۔

پتہ نہیں یہ صاحب کس زمانے اور کس بیوروکریسی کی بات کررہے تھے۔ پاکستان میں افسروں نے خود کو غلامی کے آخری درجے تک اتار رکھا ہے، اپنی پوسٹنگ بچانے یا پوسٹنگ لینے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ شہباز شریف کے سینکڑوں پیارے مشہور ہو چکے ہیں، یہ 56کمپنیوں والا سکینڈل بھی ایسے ہی وفاداروں سے بھرا پڑا ہے۔

غیر جانبداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک محاورہ ہے: ’’منہ کھائے تے اُکھ شرمائے‘‘۔۔۔ اس محاورے کو بیوروکریسی پر سو فیصد منطبق کیا جاسکتا ہے۔

ایک ہی حکمران کے ساتھ برسوں کام کرنے والے افسران بھلا کیسے اس کے سامنے آنکھ اٹھا سکتے ہیں، اگر سپریم کورٹ کا حکم نہ ہوتا تو کس بیوروکریٹ یا پولیس افسر میں اتنی جرأت تھی کہ شہباز شریف کی رہائش گاہ کے سامنے لگے بنکرز اور رکاوٹیں ختم کرسکتا۔ یہ کہنا تو کسی بھی طرح درست نہیں کہ ہماری بیوروکریسی آزاد ہے اور حکمران آئے یا جائے، اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

یہ محاورہ تو برطانیہ کا ہے کہ بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ ہے، یعنی بادشاہت کے تخت پر جو بھی بیٹھے ،نیچے جو نظام ہے، وہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے اسی لئے سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں، کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے آلہ کار نہ بنیں۔

جو کچھ آئین اور قانون کہتا ہے، سختی سے اس پر کار بند رہیں، مگر اس فرمان پر بیوروکریسی نے آج تک عمل نہیں کیا۔ پاکستان میں آمروں نے حکمرانی کی، تو یہ بیوروکریسی اُن کی کاسہ لیس بن گئی، اگر سول حکمرانوں نے قانون اور ضابطوں کی دھجیاں اڑائیں تو یہی بیوروکریسی ان کی معاون بن گئی، یہ بے اعتباری اسی لئے پیدا ہوئی ہے کہ سرکاری افسروں نے چھوٹے چھوٹے مفادات اور پوسٹوں کے لئے اپنے آپ کو بیچا ہے۔ ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے، پہلے اپنے اور پھر حکمرانوں کے مفادات پر پہرہ دیا ہے۔

اب یہ وہ پس منظر ہے جس میں الیکشن سے پہلے بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ ضروری ہو جاتی ہے۔ اس پر بھی ایک سوال تو یہی بنتا ہے کہ افسران تو وہی ہوتے ہیں، بس ان کی جگہ بدل دی جاتی ہے۔ وہ پہلے کہیں اور کام کررہا ہوتا ہے اور نظریۂ ضرورت کے تحت کسی اور جگہ پوسٹ کرکے یہ تصور کرلیا جاتا ہے کہ وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے گا۔

ایک خیال یہ بھی ہوتا ہے کہ نئی جگہ پر جائے گا تو اپنے روابط بڑھاتے بڑھاتے اس کی نگرانی کی مدت پوری ہو جائے گی، اس لئے وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔۔۔ مثلاً سندھ کا چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کو بنایا گیا ہے، ان کی تمام سروس پنجاب میں رہی ہے، یہاں ان کی گہری جڑیں ہیں، شہباز شریف کے ساتھ طویل عرصہ رہے ہیں، ان سے گہرا تعلق بھی ہے، لیکن سندھ جاکر انہیں بالکل نئے سیٹ اپ میں کام کرنا ہے، ساری بیوروکریسی نئی ہے اور ماحول بھی مختلف ہے، اس لئے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار منتظم کی حیثیت سے الیکشن کے مرحلے کو مکمل کرائیں گے، اسی طرح امجد سلیمی کو آئی جی سندھ لگایا گیا ہے، وہ بھی زیادہ عرصہ پنجاب میں ہی رہے ہیں، ان کی پنجاب پولیس میں گہری جڑیں ہیں، لیکن سندھ پولیس ان کے لئے اس حوالے سے بالکل نئی ہے، وہ اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے بغیر کسی دباؤ میں آئے صوبے میں افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کرسکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو انہیں کراچی کے تمام افسروں اور ایس ایچ اوز کو تبدیل کرکے اندرون سندھ بھیجنا چاہئے، کیونکہ کراچی میں انہوں نے اپنے مافیاز بنا رکھے ہیں اور سیاسی لوگ ان کے سرپرست ہیں، اگروہ یہ کام کرگئے تو کراچی میں انتخابات کی شفافیت یقینی ہوجائے گی۔

سب سے اہم ٹاسک پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری اکبر درانی اور آئی جی کلیم امام کو سونپا گیا ہے۔ پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے، جسے پولیس گردی کا شکار صوبہ کہا جاتا ہے۔ لاہور کے اکثر تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کے چہیتے ہیں۔

صوبے کا دارالحکومت ہونے کے باوجود لاہور میں جرائم کی شرح اس لئے تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ نچلے درجے کے پولیس ملازمین کو سیاسی سرپرستی کی وجہ سے احتساب کا خوف نہیں۔

آج کل لاہور کے علاقے مصری شاہ کی ایک فوٹیج سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بارونق علاقے میں کھڑی کار کو لوٹنے کے لئے دو موٹر سائیکل سوار آتے ہیں، گاڑی سے خواتین معصوم بچے گود میں اٹھائے خوفزدہ ہو کر نکل بھاگتی ہیں۔ جو قابو آجاتی ہے، ڈاکو اس سے بیگ بھی چھین لیتے ہیں، موبائل بھی اور فائرنگ کرتے ہوئے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ایسی دیدہ دلیری تو شاید کراچی میں بھی دیکھنے کو نہ ملے، جو ان ڈاکوؤں نے لاہور میں دکھائی۔ یہ سیدھا سادہ پنجاب پولیس کا زوال ہے۔

آئی جی کلیم امام کی شہرت اچھی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شریف برادران کے بہت قریب رہے ہیں اور ان سے متاثر ہیں۔ اپنی غیر جانبداری اور پروفیشنل ازم کو ثابت کرنے کے لئے انہیں بہت محنت کرنا پڑے گی۔ وہ اگر سال ہا سال سے لاہور کے تھانوں میں بیٹھے ہوئے ایس ایچ اوز اور انسپکٹروں سے نجات دلا کر دیگر شہروں سے اچھی شہرت کے حامل پولیس اہلکار تعینات کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو یہ شفاف انتخابات کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔ یہ ایک شہر کا حال نہیں پنجاب کے ہر بڑے شہر میں پولیس کے برسوں سے مسلط اہلکار ایک زنگ آلود نظام کے کل پرزے بنے ہوئے ہیں، انہیں ہٹانا وقت کی ضرورت ہے۔ پنجاب کا کلچر کچھ ایسا ہے کہ یہاں جو تھانیدار پر حاوی ہے، وہی ایک کامیاب سیاستدان ہے، تھانے کچہری کی سیاست جتنی پنجاب میں ہے۔

شاید ہی کسی اور صوبے میں ہو۔ اب بھی سابق ارکانِ اسمبلی یہی چاہیں گے کہ اُن کے حلقے میں من پسند پولیس والے تعینات رہیں اور وہ اُن سے لوگوں کے کام کراکے اپنی دھاک بٹھا سکیں۔

علاقے کا ایس ایچ او غریبوں کی کسی بستی میں جاکر کسی امیدوار کے حق میں اشارہ بھی کردے تو اسے ووٹ پڑجاتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوتے ہیں، اُن میں اگر ایس ایچ او کسی ایک امیدوار کی طرف جھکاؤ ظاہر کردے تو اُس کی گڈی چڑھ جاتی ہے۔

کلیم امام کے لئے سب سے اہم ٹاسک یہ ہے کہ وہ ضلعی افسروں کا انتخاب خالصتاً میرٹ پر کریں۔ سی پی اوز اور ڈی پی اوز اگر اچھے ہوں، اپنے منصب سے کمٹ منٹ رکھتے ہوں اور الیکشن کے تاریخی موقع پر اپنا فرض قومی جذبے سے ادا کرنے کا عزم لئے ہوئے ہوں تو حالات بہت بدل سکتے ہیں۔

ان سب افسران کو علم ہے کہ وہ ایک خاص مشن کے تحت تعینات کئے گئے ہیں۔ انتخابات کے بعد جو بھی نئی حکومت آئے گی، وہ اپنی صوابدید کے مطابق افسر تعینات کرے گی، تاہم انہیں اس مختصر وقت کو مال بنانے یا کسی کو نوازنے کی بجائے ملک کو شفاف انتخابات دینے کی لگن میں گزارنا چاہیے، انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، بطور افسر ہی جائیں گے، انہیں کہیں چپڑاسی تعینات نہیں کیا جاسکے گا، اس لئے مستقبل کا سوچنے کی بجائے، وہ اپنے حال کی ذمہ داری کو محسوس کریں اور قائد اعظمؒ کے فرمان کے مطابق ریاست کے ملازمین بن کر فیصلے کریں۔

یہ درست ہے کہ وہ کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے، اسی ملک میں مختلف جگہوں پر کام کرتے رہے ہیں، دوستیاں بھی ہوں گی اور تعلق داریاں بھی، لیکن انہیں ان سب کو پس پشت ڈال کر صرف میرٹ پر کام کرنا چاہیے۔

الیکشن کمیشن ہو یا صوبائی و وفاقی نگران حکومتیں، وہ کچھ بھی نہیں اگر سرکاری مشینری اُن کا ساتھ نہیں دیتی۔ یہ واحد موقع ہوتا ہے، جب افسران پر کسی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہوتا اور انہیں آزادانہ فیصلوں کا اختیار بھی دیا جاتا ہے۔۔۔مگرپاکستان کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں عام انتخابات شفاف نہیں ہوتے۔

ہر بار دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں اور پہلے دن سے انہیں مشکوک بنادیا جاتا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ پولنگ سٹیشنوں کو آزادانہ انتخابات کا ایک ایسا ماحول فراہم کریں، جس پر بعدازاں کوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔ اندر جو پولنگ سٹاف تعینات ہو، اس کی بھی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت پر حرف نہ آنے دے۔

نتائج وصول کرنے والے ریٹرننگ افسران اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور ہر ریکارڈ کو محفوظ بناتے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہی نظام ایک ایسے فول پروف سسٹم کا روپ اختیار نہ کرسکے، جس میں سرے سے دھاندلی کی گنجائش رہتی ہی نہیں،مگر بدقسمتی سے ہر بار قوم کی حقیقی رائے کو ہائی جیک کیا جاتا رہا ہے، جس کے نتائج بھی قوم نے بھگتے ہیں، اس بار اگر شفاف انتخابات کی نئی تاریخ رقم ہو جاتی ہے تو واقعتاً یہ تبدیلی لانے والے انتخابات ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم