موبائل ری چارج کرنے پر تمام اضافی ٹیکسوں کی وصولی معطل کرنے کا خیر مقدم

موبائل ری چارج کرنے پر تمام اضافی ٹیکسوں کی وصولی معطل کرنے کا خیر مقدم

فیصل آباد ( بیورورپورٹ) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے موبائل ری چارج کرنے پر تمام اضافی ٹیکسوں کی وصولی معطل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پٹرولیم سمیت دیگر مصنوعات پر بھی سیلز ٹیکس کی وصولی کا سلسلہ ختم کرائے تاکہ لوگوں کو سستے نرخوں پر تیل مل سکے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ موبائل فون کا سو روپے کا ری چارج کرنے پر صارف کو صرف 65.5 روپے ملتے تھے اس میں سے 5.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس 19 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 فیصد سروس چارجز کے نام پر کاٹا جاتا تھا جبکہ نجی دوکانداروں سے بیلنس حاصل کرنے پر مزید سروس چارجز وصول کئے جاتے تھے۔ یہ ٹیکس کاٹنے کے بعد بھی کال کرنے پر متعلقہ کمپنیاں سیلز ٹیکس کاٹتی تھیں جو کہ غریب صارف پر ظلم کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ان کو ٹیکس نادہندہ قرار دے کر ان کو ہر قسم کی مراعات اور سہولتوں سے محروم کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف ان سے صرف موبائل پر ہی نہیں پٹرول ، گھی ، صابن اور ٹوتھ پیسٹ سمیت دیگر گھریلو استعمال کی درجنوں اشیاء پر سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جار ہا تھا۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اس موقف کی بھی سختی سے تردید کی کہ ٹیکس دہندگان ادا کر دہ سیلز ٹیکس کو اپنے ٹیکس واجبات میں ایڈجسٹ کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کی شرح 12 لاکھ روپے کرنے کے بعد ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد اس کیٹگری میں آتی ہی نہیں ۔

اس طرح نہ وہ ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں اور نہ ہی انہیں حکومت ان سے وصول شدہ سیلز ٹیکس کی واپسی کا بندوبست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور موبائل کمپنیوں نے اب تک جو سیلز ٹیکس کاٹا ہے اس کی فوری واپسی کا بندوبست کیا جائے اور اس کی مکمل تفصیل بھی انہیں بتائی جائے۔ اس طرح دیگر اشیاء کی خریداری پر وصول کردہ سیلز ٹیکس موبی کیش کے ذریعے اسی روز ان کے اکاؤنٹ میں واپس کیا جائے۔

مزید : کامرس