کالا باغ نہیں تو متبادل ڈیمز بنائے جائیں،میاں زاہد حسین

کالا باغ نہیں تو متبادل ڈیمز بنائے جائیں،میاں زاہد حسین

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے کہا کہ چین نے دریائے سند ھ پر40ماحول دوست گریویٹی ڈیم بنانے کی تجویز دی ہے جس کی مالیت کالا با غ ڈیم سے دْگنی مگر بجلی کی پیداوار 14گنا زیادہ یعنی 50ہزار میگاواٹ ہوسکتی ہے ،میا ں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اگرتمام صوبے اتفاق رائے سے کا لا باغ ڈیم کی تعمیرکی منظوری دے دیں تو یہ ایک بہترین اقدام ہوگا ، تاہم اس دوران کا لا باغ ڈیم کے علاوہ متبادل راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں ، چین کے تجویز کردہ 40ماحول دوست گریویٹی ڈیمز کی تعمیر سے 50ہزار میگاواٹ سستی بجلی کی پیداوار سے پیداوار اور برآمدات میں زبردست اضا فہ ہوگا ،انہوں نے کہا کہ پا کستان نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہوجائیگا بلکہ بجلی برآمد کرنے والا مما لک میں بھی شامل ہوجائے گا،پاکستان چین کے تعاون سے پہلے بھی چشمہ کے مقام پر 280میگاواٹ کا ایک چھوٹا ڈیم تعمیرکر چکا ہے ،دنیا بھر میں بڑے ڈیموں کے بجائے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے ، پاکستان میں جن ڈیموں کی تعمیر پرصوبوں کو اعترا ض نہیں ان ڈیموں کی جلد تکمیل کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ با رشوں اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے اور پانی کی قلت جیسا بحران پیدا نہ ہو،میاں زاہد حسین نے کہا کہ ا سکردو کے مقام پر کٹ زارہ ڈیم کی تعمیر سے 35ملین ایکڑفٹ پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ 15ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی ،اس ڈیم کی تعمیر ی لا گت 12سے 15ارب ڈالر ہوگی ، اس کے مقابلے میں کا لا باغ ڈیم کی تعمیری لا گت 7ارب ڈالر ہے جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلا حیت 6.1ملین ایکڑ فٹ اور بجلی کی پیداواری صلا حیت 3600 میگاواٹ ہے۔

، میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کو اختلا فا ت میں پڑ کر وقت ضا ئع کرنے کے بجائے اْن ڈیمز کی تعمیرفی الفور شروع کرنی چاہیے جنکی کوئی مخالفت نہیں۔

مزید : کامرس