انتخابی نظام کا سراب

انتخابی نظام کا سراب
انتخابی نظام کا سراب

  

سیاسی آمروں کے ڈسے، شعوری صلاحیتوں سے عاری لوگ ہر مرتبہ انتخابی نظام کے سراب کو اپنا مسیحا جان کر جوش و خروش سے ووٹ ڈالنے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانچ سال مصائب و آلام اور ذلت و رسوائی کی ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملتا۔ سیاست دانوں نے ظلم، جبر، مکاری اور کرپشن کے ایسے جال بنے ہیں کہ باوجود کوشش کے ان سے نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔

انتخابی نظام کے منفی پہلو کئی طریقے سے بتائے جا سکتے ہیں مگر ہم آسانی کے لئے 2013ء کے انتخابات کی مثال لیتے ہیں۔ ان انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 8 کروڑ 42 لاکھ 7 ہزار 5 سو چوبیس تھی جس میں سے حکومتی نتائج کے مطابق 4 کروڑ 62 لاکھ 17 ہزار 4 سو بیاسی لوگوں نے ووٹ ڈالے اور اس طرح ٹرن آو¿ٹ 52 فی صد سے کچھ زیادہ رہا۔ اب جن 37990042 لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالا اس کا مطلب ہے کہ انہیں اس نظام پر اعتماد نہیں ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان سب کا تعلق غریب خاندان سے ہو یا ان کی تعلیمی قابلیت اس قدر نہ ہو کہ انہیں انتخابات سے متعلق آگاہی حاصل نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں امیدوار بریانی کی پلیٹیں اور نوکریوں کے جھانسے دے کر غریب سے غریب کو بھی پولنگ اسٹیشن تک لے آتے ہیں اور جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ کے پسماندہ علاقوں میں جہاں سرداروں اور وڈیروں کا نظام ہے وہاں مقیم افراد کے شناختی کارڈ بھی ان کے سردار اور وڈیرے کے پاس ہوتے ہیں جو اپنی مرضی سے مہریں لگا یا لگوا دیتے ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن 3 کروڑ اناسی لاکھ لوگوں نے ووٹ نہیں دیا وہ مڈل کلاس کے باشعور لوگ تھے۔

اب 2013ء کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس میں مسلم لیگ نون نے 32.77 فی صد کے حساب سے 1 کروڑ 48 لاکھ 74 ہزار ایک سو چار ووٹ حاصل کیے جبکہ جنہوں نے نون لیگ کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیا ان کی تعداد 3 کروڑ 13 لاکھ 43 ہزار 3 سو اٹھہتر تھی۔ سادہ لفظوں میں اگر ڈالے گئے ووٹوں میں ایک کروڑ نون لیگ کے حق میں تھے تو تین کروڑ نون لیگ کی مخالفت میں تھے، پھر نون لیگ کو مقبول ترین سیاسی جماعت کیسے کہا جا سکتا ہے؟

جو فراڈ کاغذاتِ نامزدگی اور ان کی جانچ پڑتال کے دوران کیا جاتا ہے اس کی تو مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے اور الیکشن کرانے کا دورانیہ جان بوجھ کر انتہائی کم رکھا گیا ہے تاکہ کسی فراڈی اور کرپٹ کی گرفت ممکن نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کی تعداد 250 سے زائد ہے مگر اتنے زیادہ افراد کی جانچ پڑتال کے لئے ایک ماہ سے بھی کم دورانیہ ہوتا ہے۔ خانہ پری کے لئے پھر کسی سے دعائے قنوت سن کر اس کی امانت و دیانت کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کسی سے قومی ترانہ سن کر، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کے سوال کا جواب نہ بھی آئے تب بھی وہ اہل ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ مذاق آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ آرٹیکلز کرپٹ مافیا سے تحفظ کے لئے بنائے گئے تھے۔ جب لٹیرے اور ڈاکو سیاست دان اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی ان کا ساتھ دینے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی اور صادق اور امین نہیں ہو سکتا، کوئی کہتا ہے عملی طور پر اس کا نفاذ ناممکن ہے، حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ صادق اور امین کی اصطلاح کو جب ہم پاکستان کے آئین کے تناظر میں دیکھیں گے تو اس سے مراد وہ مفہوم نہیں ہوگا جو ہم اسلامی شریعت میں کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتا ہے، اس کی آف شور کمپنیاں نہیں ہیں، وہ بدعنوانی کا مرتکب نہیں ہوتا، اس کا طرزِ زندگی اس کے ذرائع آمدن کے مطابق ہے، وہ اسلامی شعار کا مذاق نہیں اڑاتا، وہ لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کرتا اور اپنے معاشرے میں ایک اچھا انسان جانا جاتا ہے تو وہ آئین کے ان آرٹیکلز پر پورا اترتا ہے ورنہ نہیں۔

پاکستانی نظامِ انتخاب کی یہی خرابیاں شاعر نے کچھ یوں بتائی ہیں:

جس میں گھوڑے گدھے سب برابر رہیں

ہوں جو کثرت میں جاہل تو برتر رہیں

جس میں علم و ہنر کا جنازہ اٹھے

کوئی مانے مگر ہم نہیں مانتے

کوئی جانے مگر ہم نہیں جانتے

ایسی جمہوریت ہم نہیں مانتے

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ