اندیشوں میں گِھری عید مبارک

اندیشوں میں گِھری عید مبارک
اندیشوں میں گِھری عید مبارک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عالم اسلام میں پہلی دفعہ 2018ء کا رمضان ایک ہی دن شروع ہُوا۔ امت مسلمہ خوش ہے عالم اسلام اپنی تمام تر مسلکی فروعی اختلافات کو بھلا کر نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کے فیوض و برکات سمیٹتی رہی۔ماہ رمضان کا مقدس ماہ اپنی تمام تر رحمتوں برکتوں کے ساتھ ایک بار پھر ہم سے الوداع ہو رہا ہے۔

ماہ رمضان کا مقدس مہینہ اختتام پذیر ہوا۔ عید آ پہنچی، عیدالفطر بہت سے سوالات لے کر آئی ہے۔ ڈالر کی بے لگام اڑان پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، وطن عزیز کی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات،اداروں کے خلاف جاری مہم جوئی ، الزامات کے ساتھ خواتین کے ذریعے ایک دوسرے کی کردارکشی، شام، برما میں بہتا مسلم خون، قبلہ اول کے گرد تنگ ہوتا گھیرا، پارہ پارہ ہوتی قومی وحدت اور بہت سے جنم لیتے خطرات، خدشات کے دوران عید منائیں گے۔

مسرتوں اور خوشیوں کا دن ، ایک دوسرے سے ملنے، باہمی رنجشوں کو دور کرنے اور مسرتوں کو بانٹنے کا دن۔۔۔ مسلمان معاشرے کی روایت رہی ہے کہ اس دن لوگ آپس میں ملتے ہیں، رشتے دار ایک دوسرے کے ہاں جاتے ہیں، چھوٹے بڑوں سے دعائیں لیتے ہیں اور بڑے چھوٹوں کے سرپر دست شفقت پھیرتے ہیں، سال بھر کی ناراضگیاں ختم ہوتی ہیں، بیماروں کو حوصلہ ملتا ہے، بزرگوں کو بڑھاپے کی مایوسی میں ایک قوت آس اور ایک نشاط تازہ حاصل ہوتی ہے، مسافر گھروں کو آتے ہیں اور گھروں کی اداسیاں، رونقوں میں بدل جاتی ہیں، والدین کا اپنی اولاد کے ساتھ، بہنوں کا بھائیوں کے ساتھ اور رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے ساتھ قربتوں کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔

خاندان آپس میں جڑ جاتا ہے اور خاندانی رشتوں میں قدرت نے جو شیرینی اور مٹھاس رکھی ہے، اسے پانے اور بڑھانے کا ایک موقع میسر آ جاتا ہے۔ خاندان سے نکل کر عام معاشرے کی سطح پر جان پہچان، رکھنے والے مسلمان بھی اس دن ایک دوسرے سے ملتے ہیں، خوشیاں تقسیم کرتے ہیں اور زندگی کے دکھ درد کو کم کرتے ہیں۔

مسلمان معاشرے کے لئے عید کا یہ دن ان خوبیوں کے ساتھ آتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: ’’ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ دن ہماری عید ہے‘‘۔۔۔ یہ صرف خوشیوں کے اظہار کا ایک تہوار نہیں، بلکہ مسلم معاشرے میں خاندانی، ملی اور قومی سطح پر قربتوں کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ یہ جو لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ ’’عید تو صرف بچوں کی ہوتی ہے‘‘ یہ ایک خلافِ حقیقت بات ہے۔

اسلام میں عید کے دن کی بہت ساری مصلحتیں اور حکمتیں موجود ہیں۔ اسلام نے مغربی اقوام کی طرزِ زندگی کی طرح معاشرے میں ضعیف العمر بزرگوں کو زندگی کی خوشیوں کے دھارے سے الگ نہیں کیا، مغرب کے اندر بڑھاپا عذاب ہے۔

ہمیں اپنے اسلامی معاشرے کی عید کی خوبصورت روایات کو زندہ تابندہ رکھنا چاہیے کہ ان میں بہت سی معاشرتی الجھنوں کا حل موجود ہوتا ہے، اسلام میں دو عیدیں ہیں، ایک عید الفطر اور دوسری عیدالاضحی۔ رمضان ختم ہونے کے بعد یکم شوال کا دن عید الفطر کہلاتا ہے، اس میں سورج نکلنے کے بعد دو رکعت نماز عید ہے جو عیدگاہ یا علاقے کی کسی جامع مسجد میں عموماً پڑھی جاتی ہے۔

نماز عید سے پہلے صدقہ الفطر ادا کرنے کا حکم ہے، رمضان کے روزوں میں جو کوتاہیاں اور کمزوریاں رہ جاتی ہیں، صدقہ الفطر ان کی تلافی کا سبب ہے، اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھانے پینے کا دن ہے۔

عید کے لئے عمدہ لباس پہننا سنت ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق بہتر سے بہتر لباس پہننا افضل ہے، لیکن کپڑوں کی خریداری میں حد سے زیادہ تجاوز اصراف کے زمرے میں آتا ہے جو منع ہے۔

آج ہماری انفرادی، ملی اور قومی زندگی میں اصراف اورفضول خرچی کی گنجائش نہیں۔ہماراملک بحران کی زد میں ہے اور عالم اسلام مصائب و آلام کے گھیرے میں ہے، آج کے اس جدید دور میں آپ کو شامی مہاجرین کے اجڑے گھر نظر آئیں گے، برما کے مسلمانوں کی تڑپتی لاشیں دیکھ سکیں گے، عراق کے مسلمانوں کی کربناک داستان سب کے سامنے ہے، کشمیر جل رہا ہے۔ مسلمان زخمی ہیں اور عالم اسلام زخمی ہے، ایسے میں ہمیں عید کے موقع پر امت مسلمہ اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔

پاکستان جن خطرات سے دوچار ہے ان سے بچنے کے لئے تدابیر کرنی ہے اور25جولائی کو ہونے والے قومی الیکشن کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو دور کرنا ہے۔ نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک میں ہونے والی ٹریننگ کو اپنی زندگی پر عمل درآمد کے لئے منصوبہ بندی کرنی ہے، باہمی محبت اور فرقہ واریت اور کردار کشی کی مہم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بننا ہے۔وطنِ عزیز کی سلامتی اور تاقیامت قائم رہنے کی دُعا کرنی ہے، پاکستانی قوم اور اُمت مسلمہ کو اندیشوں میں گھری ہوئی عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔

مزید : رائے /کالم