خلائی مخلوق

خلائی مخلوق
خلائی مخلوق

  

الحمدُلِلہ ، نماز تراویح میں ختم قرآن پاک ہوا، کسی ایک مسجد میں نہیں بلکہ گلی گلی اور محلے محلے کی ہزاروں، لاکھوں مساجد میں ہوا، ہرجگہ کہیں سو، کہیں دو سو اور کہیں کئی کئی ہزار نے بھی قرآن پاک کو سنا اور زیادہ تر مساجد میں ستائیسویں کی شب ختم قرآن کی مجالس ہوئیں، قرآن سنانے والوں کو دستاریں باندھی گئیں،قاری صاحبان کے ساتھ ساتھ سامع حضرات کی بھی اپنے اپنے علاقے والوں کی مالی حالت اور پسلی کے مطابق کہیں تھوڑی اور کہیں زیادہ خدمت کی گئی۔

میں نے جانا کہ میرے رب کا ذکر زندہ رہے گا، قرآن پڑھا اور سنا جاتا رہے گا جیسے دنیا میں ہر وقت کہیں نہ کہیں اذان گونجتی ہے، رب کا ذکر آسمانوں کی طرف بلند ہوتا رہتا ہے، یہ ذکر ان شاء اللہ ہمیشہ بلند رہے گا ۔ ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سے ہوں گے جن سے ہر رمضان المبارک میں مساجد آباد اور شاد ہوتی رہیں گی۔

ہم جیسے دنیا داروں کے لئے مساجد اور مدارس کی اندرونی اور حقیقی دنیا اجنبی ہے چاہے ہم جتنے مرضی دین پسند ہوجائیں کہ ہم میں سے بہت سارے نمازی ہونے کے باوجود مساجد اور مدارس کے انتظامی معاملات سے الگ رہتے ہیں، ہوتایوں ہے کہ مصروفیت کے باعث بہت ساری نمازیں تنہا ادا کر لی جاتی ہیں۔

ستائیسویں کی شب امام صاحب نے بتایا کہ ہماری چھوٹی سی مسجد میں روزانہ دو سو سے زائد بچے ناظرہ پڑھ رہے ہیں جبکہ گیارہ بچے حفظ کر رہے ہیں۔ اُن کی تقریر سے پہلے جب لبیک لبیک یا رسول اللہ لبیک کے نعرے لگے تو مجھے خادم حسین رضوی یاد آ گئے جو ووٹ کے بدلے جنت کے وعدے کر رہے ہیں۔

میرے پاس اس وقت موبائل فون ہوتا تو میں ان ڈھیر سارے بچوں کے دونوں بازو اوپر کر کے لگائے جانے والے پرجوش نعروں کو ریکارڈ کر لیتا اور آپ کو دکھاتا۔ وہ میری نظر سے خادم حسین رضوی کو نہیں دیکھتے جیسے میں ان کی نظر سے نہیں دیکھ پا رہا۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال ہے، ان کے نزدیک رضوی صاحب کی اتباع حب رسول کا تقاضا ہے ۔

میرے لئے یہ فقرہ اجنبی رہا جب تیس پاروں میں سامع سے محض دومرتبہ لقمہ لینے والے امام نے بتایا کہ اس مسجد میں پڑھنے والے بچوں کو رات کا بہت اچھا کھانا ملتا ہے اور بات کی اس وقت سمجھ آئی جب انہوں نے یہ بتایا کہ وہ چودہ برس تک جس مدرسے میں رہے وہاں انہیں پراٹھا کھانے کو نہیں ملا، کبھی دہی عیاشی کے طور پر بھی دستیاب نہیں ہوا، ایک پاو دال کئی درجن بچوں کے لئے بنتی تھی اور دال کے دانے کو پانی میں تیرتے ہوئے دیکھ کے وہ خوش ہوتے تھے اور شور مچا دیتے تھے، ’ویکھو ویکھو مچھی آ گئی اے‘۔

ہمارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اور ہم میں سے بہت ساروں کے باہر بھی نکلے ہوئے ہیں۔ ہم اس دنیا کو باہر سے دیکھتے ہیں اور اپنے اپنے فلسفے جھاڑتے ہیں۔ بھلا جس بچے نے چودہ برس تک پڑھتے ہوئے پراٹھا نہ کھایا ہو، دہی کھانا جس کی ہمارے بچوں کے میکڈونلڈ اور فیٹ برگر کھانے سے کہیں بڑی خواہش ہو، جسے پیالے میں تیرتا ہوا دال کا دانا مچھلی لگتا ہو اور وہ یہ جانتا ہو کہ جہاں بارہ ،چودہ سو لڑکے اور چھ، سات سو بچیاں دین کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں وہاں پراٹھوں اور دہی کی عیاشی بھی نہیں ہو سکتی، اسے میں اور آپ خادم حسین رضوی کی سیاست کے نقصانات نہیں سمجھا سکتے، انہیں نہیں بتایا جا سکتا کہ جس طرح دیوبندیوں کے طالبان نے تباہی پھیری اسی طرح بریلویوں کا یہ انتہا پسند طبقہ بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ وہ وقت اب بہت سارے مدرسوں پر نہیں رہا جن میں بچوں کو ایک ڈول تھما کے گاوں کے گھروں میں بھیج دیاجاتا تھا ور ہر گھر سے جو بھی پکا ہوتا، چاہے وہ دال ہوتی یا گوشت ہوتا، سبزی ہوتی یا چاول، وہ ثواب کے حصول کے لئے ایک چھوٹی سی کونڈی میں بھرا سالن اس ڈول میں انڈیل دیتے۔ ہم بھلا اس بے بسی اور بے کسی کا کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمار ے گھروں میں روٹی کے ساتھ ساتھ برگر اور پیزے تو ایک طرف رہے، کئی ہزار روپے کا انٹرنیٹ کھا لیا جاتا ہے، ہمارے اور ان کے حالات بالکل مختلف ہیں۔

واپس ستائیسویں شب کی ختم قرآن کی محفل میں آتا ہوں،مجھے بتائیں ، جب ہمارے بہت سارے بچے آواز اور بازو بہت بلند کئے ہوئے پورے جوش و خروش کے ساتھ لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نعرے لگا رہے ہوں تو آپ کے جذبے اور وابستگی پر کیسے شک کر سکتے ہیں، توبہ توبہ، یہ کفر سمجھا جائے گا، میں نے ان کے درمیان بیٹھ کے سوچا کہ انہیں اپنے ہی کالموں میں لکھے اپنے تئیں بہت ہی پرمغز اور مفیدسیاسی فلسفے نہیں سمجھائے جا سکتے۔

مجھے اس روز بھی حیرت ہوئی تھی جب ایک روز قاری صاحب نے نماز تراویح کے بعد باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ رات بارہ بجے گڑھی شاہو لاہور میں عظیم الشان دینی کانفرنس شروع ہوجائے گی جس سے مولانا خادم حسین رضوی خطاب کریں گے ( حیرانی مجھے قرآن کے ایک عالم سے رضوی صاحب کے لئے امیر المومنین جیسے بعض عظیم الشان القابات اور خطابات پر بھی ہوئی تھی) یعنی ان کا ایک نیٹ ورک اندر ہی اندر کام کر رہا ہے جس کو آپ فی الحال نہ روک سکتے ہیں اور نہ ٹوک سکتے ہیں ورنہ آپ پر توہین رسالت کا الزام ایک لمحے میں لگ سکتا ہے۔

مجھے جامعہ نعیمیہ کی جامعہ مساجد کے خطیبوں اور اماموں کے لئے منعقد کی گئی وہ ورکشاپ بھی یاد آ گئی جس میں اس امر پر مختلف خطاب کروائے گئے تھے کہ مساجد کے اماموں اور زندگی کے دیگر شعبوں کے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، یعنی یہ فکر اور تشویش ہمارے معاشرے کے چند اہل علم میں موجود ہے، میں خدانخواستہ مدرسوں اور وہاں کی تعلیمات کی مخالفت نہیں کر رہا ، میں تو صرف وہ فرق واضح کر رہا ہوں جو ہمارے مدرسوں کے طالب علموں اور ہمارے معاشرے میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

مدارس میں پڑھنے والے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں ان سب سے مختلف سوچتے ہیں جو ان مساجد اور مدارس سے باہر ہیں۔ مجھے علم ہے کہ مساجد اور مدارس سے باہر سیانوں کی بڑی بھاری تعداد بھی اماموں اورخطیبوں کے بارے بہت اچھی رائے نہیں رکھتی، آپ کو یقین نہ ہو تو انٹرنیٹ پر ہی مولویوں کے لطیفے تلاش کر کے دیکھ لیں اور یہ دیکھ لیں کہ جس کے گھر بھی چار دانے ہوتے ہیں یا جس کے بچے کے بارے میں دنیاوی سکولوں والے کند ذہن ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کرتے، ان کے والدین انہیں حافظ بنانے کے لئے نہیں بھیجتے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے خلائی مخلوق کا لفظ اسٹیبلشمنٹ کے لئے استعمال کیا تھا اور میں محسوس کر رہا تھا کہ مساجد ، مدارس کے مکینوں کے لئے مساجد اور مدارس کے اجنبی خلائی مخلوق ہیں اور یہی درجہ مساجد اور مدارس کے اجنبی ان مساجد اور مدارس کے مکینوں کو دیتے ہیں۔

کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے درمیان فاصلے ہی نہیں ایک خلا موجود ہے اور اب اس خلا کو آپس کے تعلق سے بھرنا ہے اور کیسے بھرنا ہے اس کے بارے ڈھیر سارا سوچنا ہے، ہم ایک دوسرے کے لئے ایلینز ہیں اور بتائیں بھلا کبھی ایلینز بھی ایلینز کو سمجھا پائے ہیں ۔۔۔ مگراس کے باوجود ہمیں انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی خلوص دل کے ساتھ کوشش کرنی ہے اور مسلسل کرنی ہے۔

مزید : رائے /کالم