وکلا ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے زبردست اراضی ایکوائرنہ کی جائے ، چیف جسٹس

وکلا ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے زبردست اراضی ایکوائرنہ کی جائے ، چیف جسٹس

لاہور(نامہ نگار) چیف جسٹس پاکستان نے وکلا کی ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی ایکوائر کرنے کے بارے رپورٹ طلب کر لی،بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات سے متعلق بھی صوبوں سے تفصیلی رپورٹ طلب ، عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو جیل میں جانا ہو گا، وکلاکی جعلی ڈگریوں پر گزشتہ 10برسوں میں انرول ہونے والے وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق کرانے کا حکم ۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے وکلا ء کی ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی ایکوائر کرنے کے بارے میں رپورٹ طلب کر تے ہوئے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ حکام 6ہفتوں میں رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 4رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ وکلا ء کی سوسائٹی کے لئے اراضی ایکوائر کرنے کا عمل کہاں تک پہنچا ؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ وکلا ء کی سوسائٹی کے لئے اراضی ایکوائر کرنے کے لئے اقدامات جاری ہیں، چیف جسٹس نے باور کرایا کہ عدالتی حکم پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہیں کرایا جا رہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وکلا ء کو خوش کرنے کے لئے کسی ایسے شخص کی اراضی ایکوائر نہ کریں جو اراضی نہیں دینا چاہتا، یہ شکایت نہیں آنی چاہیے کہ زبردستی لوگوں کی اراضی ایکوائر کی جا رہی ہے، سپریم کورٹ بار کے صدر پیر کلیم خورشید نے بتایا کہ 5 ارب روپے ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے جمع کرائے ہیں اور مجموعی طور اراضی کا رقبہ 8200 کنال ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ وکلا ء سے ناراض لگتی ہے اسی لئے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ نے بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات سے متعلق بھی صوبوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 4رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد نے رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔فاضل بنچ نے پنجاب حکومت کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے دیگر صوبوں کے ایڈووکیٹس جنرل کو رپورٹ سمیت آئندہ سماعت پرطلب کرلیاہے، عدالت نے قرار یا کہ بچوں کے اغوا ء کے متعلق ہیلپ لائن 24گھنٹے چلنی چاہیے ، عوام میں ہیلپ لائن کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے،مسٹرجسٹس شیخ عظمت سعید نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی پوچھا کہ 8سے 10سال کے بچے داتا دربار میں کھانا کیوں کھارہے ہوتے ہیں؟ ماں دو تھپڑ مارے تو بچے گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں جو اچھا رویہ نہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے بچوں کے اغوا ء کی وارداتوں پر صوبوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز کی پہاڑیوں میں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات پر ڈی جی سروے جنرل پاکستان کو طلب کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو جیل میں جانا ہو گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 4 رکنی فل بنچ نے مارگلہ ہلز پر تجاوزات کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،مسٹرجسٹس عظمت سعید نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو باور کرایا اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کرنا تو عدالت کو آگاہ کر دیں۔بابا اعظم کی کہانیاں نہ سنائیں،یہ بتائیں عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ جسٹس عظمت سعید نے خبر دار کیا کہ سیدھی طرح بتائیںیا پھر جیل جانے کے لئے تیار رہیں، چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ 6 ماہ قبل مارگلہ ہلز پر سپریم کورٹ نے تجاوزات کے خاتمے اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کا حکم دیا تھا، 3مرتبہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر آگ لگ چکی ہے، کسی کو کوئی خیال ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا درختوں کی کٹائی کا عمل رک گیا ہے؟ساڑھے 3ملین دے کر ڈی جی سروے جنرل پاکستان سے سروے کر انا کا کہا تھا اور اب مہلت مانگی جا رہی ہے،چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ سروے جنرل پاکستان نے اپنی ذمے داری پوری نہیں اور 18 ویں پیشی پر آ کر بھی کہا جا رہا ہے مہلت دی جائے۔فاضل بنچ نے مذکورہ ریمارکس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ سماعت تک ملتوی کردی۔دریں اثناسپریم کورٹ نے وکلاء کی جعلی ڈگریوں کے از خود نوٹس پر گزشتہ 10برسوں میں انرول ہونے والے وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق کرانے کا حکم دے دیاہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے وکلا ء کی جعلی ڈگریوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ یونیورسٹیاں عدالت کی جانب سے مقرر کردہ وقت میں ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کریں، فل بنچ نے یہ بھی ہدایت کی کہ پنجاب کے غیر الحاق شدہ لاء کالجز کی تفصیلات پیش کی جائیں، فل بنچ نے ڈگریوں کی تصدیقی عمل میں خرچ ہونے والی رقم سے متعلق چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر تے ہوئے کارروائی 11 جولائی تک ملتوی کردی ۔

رپورٹ طلب

مزید : علاقائی