باجی ڈر گئی ۔۔۔

باجی ڈر گئی ۔۔۔
باجی ڈر گئی ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تاش کے باون پتے

پنجے، چھکے، ستے

اور سب کے سب ہرجائی

ذرا انگلیوں پر گنیں یہی کوئی ہزار کے قریب چہرے، جو پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان پر پنجے گاڑے بیٹھے ہیں، کبھی مسلم لیگ کبھی یونین مسلم لیگ کبھی ق لیگ کبھی پیپلز پارٹی کبھی پی ٹی آئی، تاش کی گڈی کو جتنا مرضی پھینٹتے جاؤ پتے وہی رہیں گے۔

پھر ہم کہتے ہیں ہماری تقدیر نہیں بدلتی،بھائی جو لوگ تاش کی گڈی نہیں بدل سکتے وہ تقدیر بدلنے کا گلہ ہی نہ کریں، یہی باون پتے رہیں گے کبھی کنگ اور کبھی کوئین اور مہربان ہاتھ اگر گڈی کو لگ جائیں تو جوکر بھی اوپر آسکتا ہے دوکی سے یکا بھی پٹ سکتا ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں آپ بھی محسوس کریں، چاروں طرف بین الاقوامی محاذوں پر ایک ہانکا مچا ہے، پھڑ لو پھڑ لو کی آوازیں ہیں، امریکہ گرے لسٹ میں پھینک چکا، اس نے آنے والے دنوں میں پاکستان پر کو ئی نہ کوئی چول مارنی ہے، سی پیک مریض کے بخار کی طرح کم سے کم ہوتا جارہا ہے، حالات نے سی پیک پر سکتہ طاری کررکھا ہے، بھارت ڈیم پہ ڈیم بنا رہا ہے، ایک خیال کے مطابق دو ہزار پچیس میں پاکستان شدید ترین خشک سالی کا شکار ہوسکتا ہے، پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس سکتا ہے، یعنی بھارت، امریکہ، اسرائیل، افغانستان ایک جانب اور قحط سالی ایک جانب، ہماری قیادت کو اس کا ادراک یا احساس بھی ہے، قیادت ہو تو احساس ہو، یہ چھوٹی چھوٹی خواہشوں میں قید بونے ہیں، اقتدار طاقت دولت کی طمع ان کی زندگیوں کو گھن کی طرح چاٹ گئی، قیادت نہیں خواہشات کی حریص سانس لیتے زندہ لاشے ہیں، جو بیس کروڑ زندہ قبروں پر اپنی سیاست کررہے ہیں، افسوس، داماد نے فون کیا ساس کو کہنے لگا آپ کی بیٹی ایک نمبر کی نکمی کام چور بد تہذیب ہے، ساس بولی بیٹا ٹھیک کہتے ہو اچھی ہوتی تے کوئی چنگا داماد نہ لبھ جاندا۔ جیسا منہ ویسی چپیڑ، چور، ٹھگوں، فراڈیوں پر ڈاکو لٹیرے ہی حکمرانی کرسکتے ہیں، اس عید پر کتنے سفید پوش اپنی اولادوں کی خواہشات نہ پوری کرنے پر زندہ درگور ہوئے اس منافع خور اور جانوروں کی طرح شکار کو بھنبھوڑنے والی قوم کو کبھی احساس نہیں ہوگا۔ پھلوں سے لے کر ملبوسات تک تم نے قیمتیں اتنی بڑھا دیں کہ سفید پوش طبقے کے لئے عید ایک امتحان بن کے رہ گئی، پھر تم کہتے ہو اللہ رحم نہیں کرتا، کیوں کرے رحم؟ تم اس قابل ہو۔

معاف کیجئے مجھے عید پر اتنا تلخ نہیں ہونا چاہئے اور کتنے تہوار رہ گئے جو ہم خوشی خوشی منا جاتے ہیں، قسم سے جب پانی کے بحران کا سوچتا ہوں تو میرے ہاتھوں سے بھرا ہوا لوٹا گر پڑتا ہے، پھر جلدی سے اٹھا لیتا ہوں ایک پانی اس کی ٹونٹی سے بہنے لگتا ہے دوسرا ڈر یہ ہوتا ہے کہ کہیں عمران خان نہ اٹھا لیں، میں تو یہ بات ببانگ دہل کہوں گا کہ اس ملک کا گند صرف اور صرف عمران خان صاف کرسکتے ہیں، کیونکہ ماشا ء اللہ جتنی بڑی تعداد میں انہوں نے لوٹے اکٹھے کرلئے ہیں وہ یہ انتخابی نعرہ دے سکتے ہیں کہ ہم سے جو ٹکرائے گا دھونے سے رہ جائے گا، میرا یقین ہے انتخابات میں پی ٹی آئی جیتے گی لیکن حکومت مخلوط بنے گی، یعنی بنے گی پی ٹی آئی کی لیکن مخلوط اس لحاظ سے ہوگی کہ اس کی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والوں کی اکثریت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے ہوگی، رشتہ کے لئے آنے والی خاتون نے لڑکے سے پوچھا کیا کرتے ہو بولا وڈے بھرا نال ہوتا ہوں، وہ بولیں اور بڑے بھائی کیا کرتے ہیں لڑکا بولا او وی ویہلے نیں، یقین کریں جنوں بھنے گے اوہی لال نکلے گا، یہ فارغ ویہلے نکموں کے غول ہیں اور افسوس اس بات کا ہے یہ مخلوق انہی عطائی لونڈے سے دوا لیتی ہے، لیں جی لیں ستر سال سے اور ہو کیا رہا ہے۔

رہی سہی کسر ہماری میڈیا نے پوری کردیا، وہ آج تک یہ طے نہیں کرسکا کیا ملک کی سپریم عدالت کے فیصلوں کے بعد کوئی چور چور ہے یا نہیں، اگر چور ہے تو پھر اس کی اتنی پروجیکشن کیوں اور اگر چور نہیں ہے تو مطلب سپریم عدالت جھوٹ بول رہی ہے؟ بس ایسا ہی ہے ہم شروع سے ایک کنفیوز قوم ہیں، ادے تتر ادے بٹیر ہیں، ایک بے سمت وحشیوں کی طرح بھاگتے پھرتے ہیں۔ کوئی پیروں تلے کچلا جائے، کوئی الاماں الاماں پکارتا مرجائے سانو کی، ہم نے اپنی تجوریاں بھرنی ہیں، جنکی تجوریاں نہیں اپنے غلق بھریں، غلق نہ ہو تو پاٹے کھیسے بھریں، بس ہم نے چھیننا ہے جھپٹنا ہے، گریٹ علامہ اقبال پلٹ کر جھپٹنا کسی اور سینس میں کہہ گئے، اے اوچیاں شاناں تے پٹھے دھیاناں والی مخلوق نے سمجھا کہ وہ ہمیں ذخیرہ اندوزی گراں فروشی رسہ گیری ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے کا حکم دے گئے ہیں۔

بابا رحمتے نے تو بڑی کوشش کی کہ ہمارا کمانڈو مکا لہرانے والا دیسی سنیل شیٹھی کسی طرح وطن واپس آجائے لیکن پھولی بھولی ضرور ہے لیکن اتنی بھی بھولی نہیں کہ رضیہ بن کر غنڈوں میں پھنس جائے اور اس کی حالت وہ ہوجائے کہ کہنا پڑے ہائے باجی ہم تو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، خاتون بولیں تم نے چار کلو سیب دیئے تولے دو کلو تھے، دکاندار بولا باجی اپنے منڈے نوں وی تول کے ویکھو، بھئی ہم اپنے لاڈلے منڈے کو کیوں تولیں اگر اس نے دو تین کلو سیب کھا بھی لئے تو کیا فرق پڑتا ہے، آپ روزانہ سگنل توڑتے ہیں، بادام توڑتے ہیں، گٹک توڑتے ہیں، اگر اس نے آئین توڑ دیا تو کیا فرق پڑتا ہے، یہ اسمبلیاں سارا سال کونسا آئین کو سامنے رکھ کر روز دلدار صدقے لکھ وار صدقے گاتی ہیں، آئین تو بھیا غریب کی جورو ہے جس کا جب دل چاہے اسے چھیڑ چھاڑ دے یا زیادہ طاقتور ہو تو چیر پھاڑ دے۔

ویسے بھی مائٹ از رائٹ، بھیا یہ عدالت شدالت یہ آئین شائین آپ ان ٹٹ پونجئے سیاست دانوں کے لئے رکھیں، ہم تو اپنے پیارے مشو بھیا کی تصویر سامنے رکھ کر روز مالا جپیں گے، کہ وے سب توں سوہنیا ہائے وہ من موہنیا، میرے دوست امانت چن نے ایک ٹوٹکا بتایا تھا کہ اگر یہ دیکھنا ہو کہ آپ کی کزن آپ میں دلچسپی لے رہی ہے یا نہیں تو جب وہ کچن میں کام کررہی ہو تو آپ پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے کہیں ہاؤ، اگر وہ ہنس پڑے تو سمجھیں معاملہ ٹھیک ہے، ورنہ آپ زورگھن زور سے تالیاں بجاتے ہوئے کہیں باجی ڈرگئی باجی ڈر گئی، بابا رحمتے نے تو صرف چیک کرنے کے لئے مشرف بھیا کو ہاؤ کیا تھا، لیکن اب تازہ صورتحال دیکھ کر ساری قوم کو تالیاں بجاتے ہوئے کہنا چاہئے اوئے اوئے باجی ڈر گئی باجی ڈر گئی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے کالمز، بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : رائے /کالم