سرینگر بھارتی فوج کی فائرنگ سے صحافی سمیت مزید 3کشمیری شہید ، مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ملنا چاہیے ، بھارتی آرمی چیف

سرینگر بھارتی فوج کی فائرنگ سے صحافی سمیت مزید 3کشمیری شہید ، مقبوضہ کشمیر ...

سری نگر،نئی دہلی(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری،تازہ کارروائیوں میں نامور صحافی شجاعت بخاری مزید تین کشمیری شہید ۔تفصیلات کے مطابقبھارت فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ‘ تازہ کارروائی کے دوران مسلح قابض افواج نے مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا،علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے نامور صحافی شجاعت بخاری کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔شجاعت بخاری کو افطار پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، فائرنگ کا واقعہ لال چوک میں پیش آیا، فائرنگ سے شجاعت بخاری کا سیکرٹری بھی شہید ہو گیا، فائرنگ کے واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ شہادت کی اطلاع ملتے ہی عوام مشتعل ہو گئے اور گھروں سے نکل آئے ‘ بھارتی فوج کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ جمعرات کو آمدہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے ضلع باندی پورہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسزنے ایک بار پھر اشتعال انگیزی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوئے آپریشن کے نام پر2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔باندی پورہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن گزشتہ 6 روزسے جاری ہے۔ نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہرنکل آئی اوربھارتی فوج کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔دوسری طرف مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ملنا چاہیے اور اس کے لیے مذاکرات نہایت ضروری ہیں۔اکنامک ٹائمز کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہم جتنے لوگ مارتے ہیں، ان سے زیادہ لوگ حریت کی تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس سلسلے کو روکنے کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم در اندازی پر قابو پاسکتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں پر نہیں۔بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ مذاکرات بہت ضروری ہیں،کوشش کرکے دیکھنی چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔ واضح رہے کہ جنرل بپن راوت نے رواں برس مئی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کشمیری نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کو 'آزادی' کبھی نہیں ملیگی اور وہ بھارتی فوج سے نہیں لڑ سکتے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کشمیری نوجوان بندوق سے نہیں جیت سکتے۔

سری نگر

مزید : صفحہ اول