پولنگ سٹشینز کے اند باہر فوج تعینات ہوگی ، بیلٹ پیپرز کی چھپائی ، ترسیل فوج کی نگرانی میں ہوگی ، حساس پولنگ سٹیشنوں پر کیمرے نصب ہونگے ، نگران حکومتوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی کی اجازت

پولنگ سٹشینز کے اند باہر فوج تعینات ہوگی ، بیلٹ پیپرز کی چھپائی ، ترسیل فوج ...

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی زیر صدارت عام انتخابات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز سمیت چاروں آئی جیز بھی شریک تھے۔اجلاس میں چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کی جانب سے کمیشن کو انتظامات سے متعلق بریفنگ دی گئی اور اس موقع پر اہم فیصلے بھی کیے گئے۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر پاک فوج کے اہلکار تعینات ہوں گے اور 20 ہزار انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے جو صوبائی حکومت لگائے گی جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔ترجمان نے بتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور ترسیل فوج کی نگرانی میں ہوگی، پاک فوج تمام پرنٹنگ پریسوں کو 27 جون سے 25 جولائی تک فول پروف سیکیورٹی فراہم کریگی، سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے الیکشن کمیشن ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرے گا وہ اس کے پابند ہوں گے جب کہ سیکیورٹی کے حوالے سے نیکٹا کو بھی آن بورڈ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پریزائیڈنگ افسران کی ٹریننگ کے دوران صوبائی حکومتیں سیکیورٹی دیں گی اور سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی بھی صوبائی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق مرتب کیا ہے اس حوالے سے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو باروا کرایا گیا ہے کہ اس پر عملدرآباد بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ اجلاس میں عام انتخابات کی تیاریوں اور اب تک کیے گئے انتظات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے دریں اثناالیکشن کمیشن نے نگران حکومت کو سرکاری اداروں میں بھرتیوں کرنے کی اجازت دید ی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگران وفاقی اور صوبائی حکومتیں ماتحت اداروں میں ضرورت کے مطابق ملازمین بھرتی کر سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نگران وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ماتحت اداروں میں ملازمین کی بھرتی کی اجازت دیتے ہوئے کہا گیا کہ نگران حکومتیں ماتحت اداروں میں جہاں ضروری ہو ملازمین بھرتی کر سکتیں ہیں لیکن اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ملازمین بھرتی کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل سابق حکومت کے آخری دو ماہ میں وفاق اور صوبوں میں ہر قسم کی بھرتی پر پابندی عائد کردی تھی تاکہ سرکاری ملازمتوں کو انتخابی دھاندلی کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں ڈیوٹی سے استثنا ء کی درخواستوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کرانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے،لہذا کوئی ایسی درخواست استثناء کیلئے الیکشن کمیشن کونہ بھیجی جائے۔جمعرات کو ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف محکموں اور افراد سے انتخابات میں ڈیوٹی سے استثنا ء کی درخواستوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کرانا ہم سب کا ایک قومی فریضہ ہے جسے ہم سب نے ملکر پورا کرنا ہے اور اپنے ملک وقوم کو ایک صاف شفاف الیکشن دینا ہے۔لہذا کوئی ایسی درخواست استثناء کیلئے الیکشن کمیشن کونہ بھیجی جائیدریں اثنا الیکشن کمیشن آ ف پاکستان کی جانب سے ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ امیدواران جماعتی وابستگی کا سرٹیفکیٹ کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک کریں تاہم اگر کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت کسی بھی وجہ سے جماعتی وابستگی کا سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا جا سکا تو یہ سرٹیفکیٹ انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ سے پہلے متعلقہ ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کراویا جا سکتا ہے اس ضمن میں ریٹرننگ افسران کو تحریری ہدایات بھی جاری کی گئیں تھیں تاہم الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے اطلاعات ملی ہیں کہ امیدواران سے ریٹرننگ افسران دوران سکروٹنی جماعتی وابستگی کا سرٹیفکیٹ طلب کر رہے ہیں لہذا اس بات کی از سرنو وضاحت کی جاتی ہے کہ امیدواران جماعتی وابستگی کا سرٹیفکیٹ انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ سے پہلے یعنی مورخہ 29جون2018ء تک دفتری اوقات میں متعلقہ ریٹرننگ افسرکے پاس جمع کروا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن

مزید : صفحہ اول