ملتان میں انتخابی مہم شروع جوڑ توڑ اور سیاسی گہما گہمی ، عوام میں جوش و خروش

ملتان میں انتخابی مہم شروع جوڑ توڑ اور سیاسی گہما گہمی ، عوام میں جوش و خروش

 ملتان (نیوز رپورٹر،سٹی رپورٹر) ملتان میں کاغذات نامزدگی کے بعد انتخابی مہم شروع، سیاسی گہماگہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ، این اے 157میں تحریک انصاف کے مخدوم زین حسین قریشی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سیدعلی موسیٰ گیلانی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ۔ تفصیلات کے مطابق پی پی 215 اور پی پی 216 ،پی پی 215کا حلقہ 14 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جبکہ پی پی 216کا حلقہ 19 یونین کونسلز پر مشتمل ہے ، نئی حلقہ بندی سے قبل پی پی 215 اس کا بیشتر حصہ پی پی 194 میں تھا 14 یونین کونسلوں میں یوسی 9,10,11,12,13,14,15,16,63,64,65,66،شامل ہیں ۔ پی پی 215 سے20 امیدوارکاغذات نامزدگی جمع کراکر میدان میں اترنے کااعلان کرچکے ہیں جن میں پی ٹی آئی کی طرف سے،جاوید اخترانصاری، محمدعدنان ڈوگر، قربان فاطمہ،خالد جاوید وڑائچ،پیپلز پارٹی کی طرف سے بابونفیس احمدانصاری،مسلم لیگ ن کی طرف سے عامر سعید انصاری،ملک انور علی،حافظ معین الدین خالد،ایم ایم اے کی طرف سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما علامہ عبدالرحیم گجر،صوفی محمد صدیق،جماعت اسلامی سے ڈاکٹر حفیظ انور گوہر،دیگر امیدوارواں میں اشفاق احمد بخاری ،محمد عمران،محمد عمار،محمد عامر منظور انصاری،محمد عمران،مشتاق احمد،عادل ، طارق نسیمی،عمران حسین ارشدشامل ہیں تاحال ن لیگ ،پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے کسی امید وار کو فائنل نہیں کیا،اس حلقے میں لیگ کی طرف سے امیدوار ملک انور علی کی ورکنگ بہت ذیادہ ہے ، بیشتر یوسی چیئرمین ملک انور علی کی حمایت میں ہیں جسکی وجہ سے یہاں ملک انور علی کی پوزیشن مضبوط ہے ، جبکہ عامر سعید انصاری کو اگرٹکٹ ن لیگ کا مل بھی جاتا ہے تو انہیں خاصا ٹف ٹائم ملے گا ،پی ٹی آئی کی طرف سے جاوید انصاری تاحال ممکنہ امیدوار دکھائی دے رہے ہیں کہ انہیں پارٹی ٹکٹ دے دیا جائے اسی حلقے سے پی ٹی آئی کی متحرک خاتون رہنما قربان فاطمہ بھی ٹکٹ کی خواہشمند ہیں وہ مخصوص نشست کے لیئے بھی ٹکٹ کی خواہشمند تھیں مگر انہیں وہ بھی نہیں جاری کیا گیا جس پروہ سخت نالان ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے مخصوص نشست کا ٹکٹ نہ ملنے پر وہ دلبرداشتہ ہیں اور اسی وجہ سے اسی حلقے سے آزاد امیدوار کے طورپر الیکشن لڑنے کاارادہ رکھتی ہیں ،پی ٹی آئی کی طرف سے اس حلقے میں اگر جاوید اختر انصاری کو ٹکٹ دیا جاتاہے تو یہ حیران کن بھی ضرور ہوگا فائدہ مند ذیادہ نہ ہوگا ،اس حلقے میں یوسی 9 سے ریواڑی محلے کامذہبی ووٹ خاصا اہمیت کا حامل ہے پی پی 216 سے32امیدواروں نے کاغذات جمع کرارکھے ہیں پی ٹی آئی کی طرف سے مخدوم شاہ محمودحسین قریشی ،اعجازحسین جنجوعہ،محمدندیم قریشی،ملک رضوان عابد تھہیم،اسلم سعیدقریشی،محمدخالدخاکوانی،محمداکمل،ن لیگ کی طرف سے اس حلقے میں سابق ایم پی اے وصوبائی وزیر حاجی محمداحسان الدین قریشی،عادل احسان قریشی،تاجر اتحاد کی طرف سے خواجہ محمدسلیمان صدیقی، دیگر امیدواروں میں محمدجاویداسلم،ساجداسمعیل،حافظ حسین جاوید،شکیل حسین،محمدسلیم شاہ بخاری،عبدالخالق،محمدجاوید،حمادحسن گیلانی،محموداحمد،چوہدری محمدیعقوب،محمدوقاص اکرم،عون عباس،محمدجواد،محمدعقیل اعجاز،عمران حسین ارشد،شہربانو،عبدالاحد،محمدیوسف، وقاص جاوید،کامران علی،اللہ دتہ،ارسلان قذافی شامل ہیں ،پی پی 216 کا حلقہ شہر کا سب سے ذیادہ یونین کونسلز پر مشتمل ہے جہاں اب پی ٹی آئی کاخاصا ووٹ بینک بن چکا ہے تاہم حاجی احسان الدین قریشی اب بھی مضبوط اور وننگ پوزیشن میں ہیں انہیں پارٹی ٹکٹ جلد جاری ہوجائے گا ،شاہ محمود قریشی کے اس حلقے میں لڑنے کے اعلان نے صورتحال خاصی دلچسپ بنا دی ہے حاجی احسان الدین قریشی کا یہاں وسیع وعریض کام ہے اور وہ عوامی سیاستدان ہیں جسکی وجہ سے عوام انہیں ایک بار پھر ایم پی اے کے طور پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور اس کے لئے اندرون پورا حاجی احسان کے ساتھ ہے تاہم اس حلقے میں نئی حلقہ بندیوں کا فائدہ پی ٹی آئی کو مل سکتا ہے مگر صورتحال پارٹی ٹکٹس جاری ہونے کے بعد واضح ہوگی تاہم اگر شاہ محمود کو ٹکٹ جاری ہوگیا تو حاجی احسان قریشی اور شاہ محمود میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا ۔ دریں اثنا این اے 157سے تحریک انصاف کی جانب سے مخدوم زین حسین قریشی ٗپیپلزپارٹی سے سیدعلی موسیٰ گیلانی اور (ن)لیگ سے ملک عبدالغفار ڈوگر سمیت دیگرسیاسی ومذہبی جماعتوں کے امیدواران محمد رمضان، عامرالیاس ڈوگر، اصغر حسین شاہ، محمد وقاص ڈوگر، طاہر الیاس، چوہدری محمددین، اور رانا شاہد الحسن میدان میں اتر چکے ہیں۔ این اے 157میں تحریک انصاف کے مخدوم زین حسین قریشی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سیدعلی موسیٰ گیلانی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ 2016ء میں منعقد ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز رٹی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ بڑی تعداد میں چیئرمین منتخب ہوئے تھے جس کے باعث الیکشن 2018ء میں ان بلدیاتی چیئرمینز کے اپنی اپنی سیاسی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی میں ایک موثر کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ دوسری طرف (ن)لیگ کے امیدوار ملک عبدالغفار ڈوگر کی اس حلقہ سے کامیابی اس لحاظ سے بھی مشکوک ہوگئی ہے کہ این اے 157کے حلقہ میں متعدد علاقہ جات حلقہ بندی کے دوران تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں ٗان حالات میں ملک عبدالغفار ڈوگر کیلئے این اے 157کا الیکشن جیتنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ قبل ازیں اسی حلقہ سے علی موسیٰ گیلانی اور ملک عبدالغفارڈوگر الیکشن جیت چکے ہیں تاہم حالیہ الیکشن میں حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے باعث معروضی حالات اور حلقہ سے تحریک انصاف کی حمایت سے بلدیاتی انتخابات میں چیئرمین منتخب ہونیوالے دلیرخان، دلبرخان، چوہدری نویدآرائیں، چوہدری الیاس آرائیں، ملک جہانزیب دھرالہ، چوہدری جاوید آرائیں سمیت اس حلقہ میں آرائیں برادری ٗاٹھنگل برادری، ڈوگر برادری، راں برادری اور مہاربرادری امیدوار کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ مخدوم زین حسین قریشی پہلی بار این اے 157سے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں جبکہ عبدالغفار ڈوگر اورعلی موسیٰ گیلانی اس حلقہ سے ایک ایک الیکشن جیت چکے ہیں ٗ حلقہ کے عوام پرانے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں یا پھر تبدیلی کا ساتھ دیتے ہیں یہ وقت بتائے گا ۔

انخابی مہم

مزید : صفحہ اول