قیدیوں کے لواحقین پیاروں کی عیدیاں لے کر جیلوں کے دروازوں پر خوار

قیدیوں کے لواحقین پیاروں کی عیدیاں لے کر جیلوں کے دروازوں پر خوار

لاہور(رپورٹ: یونس باٹھ‘ عکاسی: حاجی ند یم احمد) عید الفطرکے سلسلے میں پنجاب بھر بالخصوص لا ہور کی دونوں جیلوں میں قیدیوں کے لواحقین اور ورثاء جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے، کا عیدکے کپڑے او رسامان پہنچانے کے لیے تانتا بندھا رہا، اس دوران کئی رقت آمیز منا ظر بھی دیکھنے کو ملے جیل کے دروازوں پر تعینات بعض اہلکار’’عیدی ‘‘وصول کرکے ملاقاتیں اور سامان اندر پہنچانے کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ، قیدی اپنے بیوی بچوں کو دیکھ کرسلاخوں کے پیچھے آنسو بہاتے رہے ،اہل خانہ کے ہمراہ عید کی خوشیاں منانے کے لیے جوڈیشل احکامات پر درجنوں جبکہ جرمانے کی ادائیگی کے ذریعے چند ایک قیدی رہائی حاصل کرسکے ۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم کو کیمپ جیل لاہور میں انسپکشن کے دوران جیل میں بند قیدیوں کے دور دراز سے آئے ورثاء اور رشتے داروں نے بتایا کہ وہ صبح سے جیل کے مین گیٹ کے باہر بیٹھے ہیں جبکہ گیٹ پر تعینات اہلکار انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے صرف ان افراد کو اندر جانے دیا جارہا ہے جو جیل اہلکاروں کی مٹھیاں گرم کرتے ہیں یا جن کے پاس سفارشی چٹیں موجود ہیں ۔ جمیلہ نامی خاتون جس کی معصوم بچی بھی اس کے ہمراہ تھی ، نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے صبح سے خجل خوار ہورہی ہے بڑی مشکل سے ہال میں جانے کی اجازت کے ملنے کے بعد اس کی ابھی تک ملاقات نہیں ہوسکی ، اس نے بتایا کہ اسے کبھی کسی اہلکار کے پاس بھیج دیا جاتا ہے اور کبھی کسی جیل وارڈن کو ملنے کو کہا جارہا ہے اس بھاگ دوڑ میں اب وہ ملاقات کا ارادہ ترک کرکے واپس گھر جانے کا سوچ رہی ہے ۔ رحمان نامی شخص نے بتایا کہ وہ جیل میں قید اپنے بھائی شفیق احمد کو عید کے کپڑے اور پھل وغیرہ دینے کے لیے شیخوپورہ سے آیا ہے جبکہ اہلکار سامان اندر پہنچانے کے عوض اس سے اپنی عیدی مانگ رہے ہیں ، قتل کیس میں ملوث عبدالرزاق نامی قیدی کے رشتے دار محمد جاوید نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے ملاقات کے لیے آتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جیل کے اہلکاروں سے جان پہچان ہوگئی ہے ،پہلے وہ گیٹ پر کھڑے اہلکاروں کو دو سو روپے دیتا تھا اب سو روپے دے کر کام چلا لیتا ہے ۔ ہال میں ڈیوٹی پر تعینات اہلکارنے بتایا کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی قیدیوں کے لیے عید کی ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق چل رہا ہے ۔ ملاقاتی قطار میں لگنے کے بعد اپنی باری سے اندر جاتے ہیں جس کے دوران ان کی مکمل چیکنگ کی جاتی ہے ،کھانے پینے کا سامان بھی چیک کیاجاتا ہے جس کے بعد انہیں ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے ۔ جیل انتظامیہ کے مطابق ہر سال کی طرح ا س سال بھی عید الفطر کے موقع پر کیمپ جیل میں بند معمولی نوعیت کے جرم میں قید درجنوں قیدیوں کو عدالتی احکاما ت کے نتیجے میں آزاد کیا گیا جبکہ چند ایک قیدیوں کو ہزاروں روپے فی کس کے حساب سے جرمانے ادا کرکے رہا کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں ۔

جیل رپورٹ

مزید : صفحہ آخر