میں ون مین تھنک ٹینک ہوں !

میں ون مین تھنک ٹینک ہوں !

سوال: اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں بتائیے؟

جواب:میرے آباؤ اجداد پٹیالہ سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ میرے نانا جسٹس جمیل حسین رضوی وہاں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے ، انہیں ان کے ایک ہندو ڈی ایس پی دوست جوان کا کلاس فیلو بھی تھا ،نے بتایا کہ ان کو مارنے کا آرڈر ہونے والا ہے ، اس لئے یہاں سے نکل جاؤ۔ نہ صرف ان کے خلاف بلکہ تحریک پاکستان کے باقی سرگرم کارکنوں کے خلاف بھی آرڈر ہوئے تھے۔ یہ اگست 1947ء کی بات ہے۔

جہاں تک میرے دادا سید تجمل حسین کا تعلق ہے، وہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصے زمیندار سکول گجرات کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے تھے ۔ یہ غالباً 1920ء یا اس سے پہلے کی بات ہوگی۔ وہاں سے علیگڑھ چلے گئے تھے۔ ان کی وفات بھی تقسیم سے پہلے ہی ہو گئی تھی۔ ہماری فیملی دسمبر 1947ء میں باقاعدہ ہجرت کرکے پاکستان پہنچ گئی تھی ۔ ان کا پہلا قیام لاہور میں تھا کیونکہ ساری ٹرینیں لاہور ہی آرہی تھیں۔ خاندان کے کچھ لوگ لاہور میں رہ گئے ، کچھ منڈی بہاؤ الدین چلے گئے کیونکہ دادا کی وجہ سے وہاں کے لوگ انہیں جانتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ لیہ اور کچھ علی پور بھی گئے۔

سوال:آپ کی پیدائش کہاں ہوئی تھی؟

جواب :میری پیدائش لاہور کی لکھی ہوئی ہے۔ میرے والد کا نام سید مقبل حسین تھااور وہ میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے علیگڑھ سے فائنل ڈگری لی تھی۔ انہوں نے پاکستان آکر بھی میڈیکل پریکٹس کی۔ ہماری فیملی میں ایجوکیشن ہمیشہ سے موجود رہی۔ سارے کے سارے یا تو لاہور میں پڑھے یا پھر علیگڑھ میں ۔ میری والدہ گھریلو خاتون تھیں اور پڑھی لکھی تھیں۔ میرے دو بھائی اور ایک بہن ہے ۔

سوال:آپ کی میٹرک کی تعلیم کہاں ہوئی؟

جواب:میں نے سنٹرل ماڈل سکول لاہور سے میٹرک کیاتھا۔ ہماری رہائش ہائی کورٹ کے پاس واقع فین روڈ پر تھی جبکہ والد صاحب کی پریکٹس منڈی بہاء الدین میں تھی۔ وہ کبھی لاہور میں ہوتے تو کبھی منڈی بہاؤالدین۔ مجھے اپنے میٹرک کے دوستوں میں سے بہت کم یاد ہیں۔ ان میں سے ایک انجینئر ڈاکٹر امجد پرویز تھے جو گلوکاری بھی کرتے ہیں، وہ اور مشتاق ہاشمی مل کر گایا کرتے تھے۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود بھی میرے کلاس فیلو تھے۔ سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں غضب کا ماحول تھا۔ اس زمانے میں ایچی سن فیوڈل لارڈ ز کا سکول سمجھا جاتا تھاجبکہ سنٹرل ماڈل سکول اپر مڈل کلاس کے لوگوں کا سکول تھا۔ یہ اس زمانے میں بہت پائے کا سکول تھا۔ میں 1960ء کے اوائل کی بات کر رہا ہوں ۔ اس زمانے میں سنٹرل ماڈل سکول سے فارغ التحصیل لڑکے سیدھا گورنمنٹ کالج لاہور جایا کرتے تھے ۔ فرسٹ ایئر میں سب سے بڑا گروپ ہمارے سکول سے جایا کرتا تھا۔ ایک اعتبار سے اسے ایک بڑا ایڈوانٹج سمجھا جاتا تھا کہ یہاں پڑھیں اور سیدھے گورنمنٹ کالج چلے جائیں۔ اس زمانے میں بھی سنٹرل ماڈل سکول کے ارد گرد سرکاری بلڈنگیں ایسے ہی ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ کالج اسی طرح اس وقت بھی ہمارے سکول کے سامنے تھا۔ میں سکول پیدل یاسائیکل پر جایا کرتا تھا۔ موٹر سائیکل بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا تھا۔ میں گورنمنٹ کالج بھی سائیکل پر ہی جاتا تھا۔

سوال:ایوب خان کا مارشل لاء آپ کے ہوش میں آیا ہوگا؟

جواب:جی، اس وقت میں سکول میں تھا جب ایوب خان کا مارشل لاء لگا۔ یہ 1958ء کی بات ہے ۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ گھر میں آنے والے اخبارات سے پتہ چلا کہ مارشل لاء لگ گیا۔ لیکن باہر نکلے تو ہر شے نارمل تھی۔ اس زمانے کے اخبارات و رسائل نوائے وقت کا قندیل اور پاکستان ٹائمز کا لیل و نہار شائع ہوتے تھے جو بہت مقبول تھے۔ اسی طرح شورش کاشمیری کا ہفتہ وار ’’چٹان‘‘ بھی تھا۔ اس دور کے لیل و نہار اور قندیل جیسے رسالے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ فوج کو مارشل لاء کی دعوت دی جا رہی تھی کیونکہ اس سے پہلے مصر وغیرہ میں مارشل لاء آچکا تھا ۔ اس لئے یہ باتیں اس وقت یہاں کے اخبارات میں بھی لکھی گئی تھیں۔ ہمارے گھر میں بہت سے رسالے اور کتابیں آتی تھیں جنھیں میں انتہائی شوق سے پڑھتا تھا اور یوں حالات حاضرہ سے آگاہ رہتا تھا۔ ان میں ادبی رسائل بھی ہوتے تھے لیکن مجھ میں شاعری کا شوق اس لئے پیدا نہیں ہوا کہ میری لائن بدل گئی۔

سوال:مارشل لاء دورکی کوئی خاص بات جو آپ کو یاد ہو؟

جواب: کوئی خاص نہیں سوائے اس کے اس دن بھی ہم سکول گئے تھے ۔ ہمیں بڑا افسوس تھاکہ آج چھٹی کیوں نہیں ہوئی۔ سکول میں بھی کسی کو کچھ فکر نہ تھی کہ مارشل لاء لگ گیاہے۔شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ اس زمانے میں ماحول اس قدر سیاست زدہ نہیں تھا۔ آج کا زمانہ مختلف ہے۔ اب تو ٹی وی ہر وقت چل رہا ہوتا ہے ۔ جس دن مارشل لاء لگا اس دن شہر میں ساری سرگرمیاں نارمل تھیں ۔ کہیں فوج نظر نہ آئی۔ البتہ آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ لوگوں میں خوف ہے کیونکہ قصائیوں کی دکانوں پر جالیاں لگ گئی تھیں، لوگ دفاتر وقت پر آتے اور جاتے تھے، دکانوں پر پرائس لسٹیں آویزاں ہو گئی تھیں۔ ایسی اور بہت سے تبدیلیاں بھی میں نے محسوس کی تھیں۔ اس کے باوجود مارشل لاء کے حوالے سے زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے۔

سوال: محترمہ فاطمہ جناح کو دیکھا؟

جواب: نہیں، میں نے فاطمہ جناح کو نہیں دیکھا۔ ان کی 1965ء کی انتخابی مہم سے پہلے نومبر 1964ء میں ٹی وی آگیا تھا۔ میں نے انہیں ٹی وی ہی پر دیکھاتھا۔ ویسے بھی چونکہ عام لوگوں کا سیاست سے براہ راست تعلق نہ تھا اس لئے کبھی معلوم نہ ہواتھا کہ وہ کب لاہور آئیں اور کب واپس چلی گئیں۔

سوال:گورنمنٹ کالج میں داخلہ کن سبجیکٹ میں ہوا؟

جواب:میں نے گورنمنٹ کالج سے سوشل سائنسز میں ایف اے کیا۔ یہ 1961ء یا 62ء کی بات ہوگی۔ میٹرک میں بھی میرا سبجیکٹ سوشل سائنسز ہی تھااور اس کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔ میں نے گورنمنٹ کالج سے تین سال کا بی اے آنرز کیا اور پولیٹیکل سائنس میں ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ اس زمانے میں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد تھے ، ان کے بعد اشفاق علی خان اور دیگر لوگ آئے۔ گورنمنٹ کالج اس وقت ایک انتہائی قابل فخر تعلیمی ادارہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ وہاں بہت سی سرگرمیاں سارا سال تسلسل سے ہوتی رہتی تھیں۔ کالج میں غیر منظم ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھاکیونکہ بے حد ڈسپلن ہوتا تھا۔ سردیوں میں خاکی یونیفارم ہوتا تھا ، البتہ گرمیوں میں جو مرضی پہنا جا سکتا تھا۔ میں نے سپورٹس میں کچھ خاص نہیں کھیلا سوائے کرکٹ کے ، وہ بھی گلی محلے کی سطح پر۔اس کے علاوہ کوئی اور گیم نہیں کھیلی۔ فضل محمود، امتیاز اور مقصود احمد وغیرہ ہمارے زمانے کے مشہور کرکٹر تھے۔ ہمارے گھر کے پاس پنجاب کلب کا کرکٹ گراؤنڈ ہوتا تھاجو فین روڈ پر واقع تھا۔ اب تو وہاں ایک انچ زمین بھی خالی نہیں بچی اور تعمیرات کی بھرمار ہو چکی ہے ۔ ہم اسی گراؤنڈ میں کھیلتے تھے۔ گورنمنٹ کالج کا اپنا سوئمنگ پول تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج میں پانچ سال گزارے۔

سوال:پولیٹیکل سائنس پڑھنے کا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا تھا؟

جواب:کسی کے کہنے پر نہیں کیا تھا۔ خود ہی فیصلہ کیا اور داخلہ لے لیا۔ میں نے شروع سے ایسے سبجیکٹ پڑھے تھے جیسے اردو لٹریچر اور جیوگرافی وغیرہ اور بالآخر میں نے پولیٹیکل سائنس میں داخلہ لے لیا اور آگے بڑھتا چلا گیا۔ میں نے ایم اے میں ایک تھیسس بھی لکھا تھا لیکن اس کی کیا حیثیت ہوگی۔ میرا ڈاکٹر منیرالدین چغتائی صاحب سے واسطہ تھا۔ اس کے بعد میرا کیریئر تب بننا شروع ہوتا ہے جب میں ملک سے باہر جاتا ہوں۔ میرا اپنا خیال ہے اگر میں باہر نہ جاتا تو میرا کیریئر ایسا نہ بنتا۔ ایم اے کے ایک سال بعد باہر چلا گیا۔ پہلے میں انگلینڈ گیا، اس سے چند ماہ پہلے میں نے 1968ء یا 1969ء میں چند مہینے گورنمنٹ کالج میں پڑھایا بھی تھا۔ میری تعیناتی بھی ایڈہاک تھی جو ہر چھے ماہ بعد ریوائز ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ایسی تعیناتیاں کیا کرتا تھا ۔ مجھے ایڈمیشن ملا تو فوراً چلا گیا۔

سوال:ملک سے باہر جا کر پڑھنے کا موقع کیسے ملا؟

جواب: میں خود دلچسپی رکھتا تھا۔ جب میں آنرز میں پڑھ رہا تھا تب ہی فیصلہ کر چکا تھا کہ ملک سے باہر جا کر پڑھوں گا، خواہ کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے۔ میں سپیشلائزیشن کرنا چاہتا تھا جو ملک سے باہر جائے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ ملک سے باہر جا کر پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے ۔ یہاں کے انتہائی قابل اور ٹاپ کرنے والے طلباء بھی وہاں ہونقوں کی طرح لیکچر سنتے نظر آتے ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔ انگلینڈ میں میں نے یونیورسٹی آف لیڈز سے دوسال میں سیاسیات میں ایم فل کیا۔ وہاں پہلے تین چار ماہ تو ہوش نہ آئی کیونکہ ان کے اور ہمارے لیول میں بڑا فرق تھا۔ لیڈز میں دو سال رہا۔ اس زمانے کے ایک دو لوگوں سے اب بھی رابطہ ہے ۔ ایک کراچی سے تھے جنھوں نے ٹیکسٹائل میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ ان کا پچھلے سال ہی انتقال ہوا۔ اسی طرح انگلینڈ میں ایک دو لوگ ہیں جو پاکستانی بیک گراؤنڈ کے ہیں اور اسی زمانے میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ انتہائی مقابلے کا ماحول تھا اور ہر کام ٹائم ٹیبل کے مطابق کرنا پڑتا تھا۔ شروع میں ایک پرائیویٹ اپارٹمنٹ میں رہا پھر یونیورسٹی ہاسٹل میں جگہ مل گئی ۔ ہاسٹل کا ماحول بہت کھلا تھا، واپسی کے وقت کی کوئی پابندی نہ تھی کہ سات بجے یا نو بجے گیٹ بند ہو جائے گا۔ میرا سنگل کمرہ تھا اور تھوڑی جگہ بیٹھنے، کھانے پینے کی جگہ تھی۔ ایک فلور پر آٹھ سے دس لوگ رہتے تھے۔ لیڈز میں لیکچر اور اسائنمنٹ ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ ریڈنگ کا بڑا پریشر رہتا ہے ، لائبریریوں میں بہت سہولت رہتی ہے جو رات گئے تک کھلی رہتی ہیں ۔ ایسی کتاب یا آرٹیکل جو ان کے پاس نہ ہووہ منگوا دیتے ہیں۔ مجبوری میں بہت کچھ پڑھا کیونکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تھا۔ لیڈز کی بلڈنگ پرانی طرز کی تھی۔ آکسفورڈ جائیں تو گورنمنٹ کالج یاد آجاتاتھا۔ اس زمانے میں گزارہ ہو جاتا تھا اور رہن سہن زیادہ مہنگا نہ تھا۔ میں انگلینڈ میں زیادہ گھوما۔ اس وقت کے وزیر اعظم ولسن تھے اور ان کے بعد کوئی اور آیا تھا۔ بہت ساری جگہوں پر آنا جانا ہوا۔ بھرپور طریقے سے سیاحت کی۔

1970ء کے اوائل میں واپس آگیا۔ واپس آکر مجھے پنجاب یونیورسٹی نے تین ماہ کی ایڈہاک تعیناتی آفر کی۔ اس زمانے میں علامہ علاؤالدین صدیقی وائس چانسلرہوتے تھے۔ میں ان سے ایک بار ہی ملا تھا، میرے انٹرویو میں انہوں نے سلیکشن بورڈکی سربراہی کی تھی۔ یہ تعیناتی ریوائز ہوتی رہی اور جب پوسٹ ایڈورٹائز ہوئی تو میں مستقل ہوگیا۔ تب میرا ارادہ ہوا کہ پی ایچ ڈی کی جائے۔ میں ٹیچنگ کے شعبہ میں دو چیزیں سوچ کر آیا تھا۔ پہلی بات یہ کہ میں چاہتا تھا کہ میری پہچان میری تحریروں سے ہواور تحریریں وہ ہوں جن کا معیار اونچا ہو کیونکہ میرا ارادہ انٹرنیشنل لیول پر جانے کا تھا۔ چنانچہ میں نے انٹرنیشنل سٹائل میں لکھنا سیکھا۔ دوسری بات یہ کہ آپ کتنے ہی پڑھے لکھے کیوں نہ ہوں یہی کہا جاتا تھا کہ یہ پنجاب یونیورسٹی کے لیکچرر ہیں، یعنی آپ کو اہمیت یونیورسٹی کا نام لے کر ملتی تھی۔ میرے ذہن میں تھا کہ میں ایسا مقام حاصل کروں کہ تعارف کے لئے یونیورسٹی کے نام کی ضرورت نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس زمانے میں ہم پڑھتے تھے تب 80فیصد کتابیں غیر ملکی رائٹرز کی تھیں، سارے لیکچر انگریزی میں ہوتے تھے ۔ ایف اے یا بی اے میں پرچہ اردو میں حل کرنے کی اجازت تھی لیکن لیکچر سارے انگریزی میں ہوتے تھے ۔یہ عام رواج تھا کہ اگر آپ اجنبی ہیں اور ایک دوسرے سے بات کرنی ہے تو انگریزی میں کریں گے ، ہاں اگر بے تکلفی اور دوستی ہے تو اردو میں بات ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کالج میں انگریزی کا زور تھا۔ اس کے برعکس سنٹرل ماڈل اردومیڈیم تھا۔ چنانچہ میرے ہاں جو سوچ پیدا ہوئی اس کے پیچھے ایسے ہی عوامل کارفرما تھے کہ میں نے ایف اے، بی اے اور ایم اے میں انگریزی مصنفین کی کتابیں پڑھی تھیں۔ اردو کے علاوہ ساری کتابیں امریکیوں یا برٹش رائٹرز کی تھیں۔ میں سوچتا تھا کہ میں اس شخص کو نہیں جانتا لیکن اس کی کتاب سے میرا اس سے تعارف ہے ۔ چنانچہ تب سے میرے ذہن میں تھا کہ میں بھی اسی سطح کی تعلیم حاصل کروں گا اور میری چیزیں بین الاقوامی معیار کی ہوں گی۔ میں اپنے کام کو اپنا تعارف بنانا چاہتا تھا۔ شروع سے میرا ایک ٹارگٹ تھا اور انگلینڈ کا موقع ملا تو میں بھاگ گیا اور خجل خواری کرکے تعلیم لیکر آیا۔ میں نے نوٹ کیاکہ برٹش رائٹر اختصار پسند ہوتا ہے جبکہ امریکی پھیلاتا ہے، جو بات برطانوی مصنف ایک پیراگراف میں کہے گا، امریکی اسے دو صفحات پر پھیلائے گا۔ البتہ اب امریکی بھی اختصار پسندی کے قائل ہو رہے ہیں۔ ایک برٹش بزنس مین تھا ’ہربرٹ فیلڈمین ‘ جوپاکستان بننے کے بعد کراچی ٹک گیا۔ برٹش سٹیزن شپ اس نے رکھی اور پہلی کتاب لکھی Revolution in Pakistan پھر اس کے بعد Crisis to crisis From آئی۔ اس کے بعد The End & the Beginning Pakistan 1969-1971 آئی۔ اس کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔ میری اس سے ایک آدھ دفعہ ملاقات ہوئی تھی۔ میری لارنس زائرنگ سے بھی بہت اچھی واقفیت تھی۔ سینئر ہونے کے باوجود میری سب سے واقفیت تھی۔ اسی طرح امریکی تھنک ٹینکس میں جتنے بھی جنوبی ایشیا کے ماہرین ہیں ان سب کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ سٹیون کوہن میرا ذاتی دوست ہے ، پاکستان آئے اور آفیشل وزٹ پر نہ ہو تو میرے ہاں ہی ٹھہرتا ہے۔

سوال:امریکہ کیسے گئے؟

جواب:یہاں پر سنٹرل اوورسیز سکالرشپ ہوتا تھا۔ میں نے دو دفعہ اپلائی کیا۔ میرا خیال ہے اب بھی ہوگا۔ تاہم مجھے کبھی نہیں ملا کیونکہ اس کا فیصلہ پنجاب یونیورسٹی کو کرنا ہوتا تھا۔ یہ گورنمنٹ یونیورسٹی کو دیتی تھی اور یونیورسٹی باقاعدہ انٹرویو کیا کرتی تھی۔ جب میں یہ سکالر شپ حاصل نہ کرسکا تو فل برائٹ سکالرشپ کے لئے اپلائی کیا جو مجھے مل گیا۔ اس زمانے میں ہم چار پاکستانیوں کو فل برائٹ ملا جن میں صرف مجھے پی ایچ ڈی اور باقیوں کو ایم فل کے لئے ملا۔ یہ 1976ء کی بات ہوگی۔ یہ سلیکشن پورے پاکستان سے ہوئی تھی۔ چاروں میں سے ایک امریکہ رہتا ہے جبکہ ایک خاتون کراچی سے جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ٹی وی اینکر بھی تھی۔ مجھے یونیورسٹی آف میسوچوسس میں ڈال دیا گیا جہاں ڈاکٹر انوار سید ہوتا تھا لیکن میں نے خود ہی یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے رابطہ کیا جو کہ آئی وی لیگ میں تھی یعنی امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں سے تھی۔ انہوں نے مجھے داخلہ دے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے پی ایچ ڈی پر جانے سے پہلے میرے ایک دو آرٹیکل چھپ چکے تھے جو پاکستا ن سے باہر چلے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ آجاؤ۔ وہ آرٹیکل پاکستان کی سیاست پر ہوں گے ، اب تو یاد بھی نہیں ہے ۔میں فلاڈلفیا یونیورسٹی چلا گیا۔ میری عمر اس وقت تیس برس کے قریب ہوگی۔ جب بھٹو کی پھانسی ہوئی تو اس وقت میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ مجھے وہیں پر اطلاع ملی تھی۔ میں 1970ء کے انتخابات کے دوران بھی پاکستان میں نہیں تھا۔

سوال:ذوالفقار علی بھٹو سے کبھی آپ کی ملاقات ہوئی ؟

جواب:بھٹو سے ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ 1972ء میں پنجاب یونیورسٹی کے دورے پر آئے تھے۔ تب میری ان سے مختصر سی ملاقات ہوئی تھی۔ میں اس وقت شعبہ سیاسیات میں لیکچرر تھا۔ ایک عام لیکچرر کو کون گھاسڈالتا ہے۔ وہ طالب علم راہنما راشد بٹ کا زمانہ تھا۔ بھٹو کی شخصیت اور بہترین سوچ کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ انہوں نے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔ تب تک وہ صدر بن چکے تھے اور جوابات دینے میں بہت تاک تھے۔ ویسا ہی انداز میں نے بے نظیر بھٹو میں بھی دیکھا تھا۔ اس موقع پر بہت سے سوال جواب بھی ہوئے لیکن میں نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ، بس بیٹھ کر ان کو سنتا رہا۔ انہوں نے تقریر تو پورے مجمع کو کی تھی لیکن بعد میں چائے پر بھٹو سمیت ہم تیس پینتیس لوگ تھے۔ اس زمانے میں بھٹو کی کرشماتی اپیل تھی ، کوئی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ عالمی فورمز پر بھی ان کا امیج بہت بڑا تھا۔ میں بھٹو کو appreciateکرتا تھا اور ان کا اثرو رسوخ بہت زیادہ تھا۔

سوال:بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی کے بارے میں بات چیت تو ہوتی ہوگی ؟

جواب:بحیثیت پولیٹیکل سائنس کے ٹیچر کے یہ بات ہماری گفتگو میں رہتی تھی۔ اس زمانے میں سوشلزم کا بول بالا تھا۔ اس زمانے میں لوگ ماؤ کی ٹوپیاں پہنتے تھے ۔ البتہ میں نے کبھی نہیں پہنی ۔ سٹوڈنٹس کو ضرور پہنے دیکھا۔ میرے اندازے کے مطابق اسلام کو بھی کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یہ کوئی خطرہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک سوشلسٹ سٹیٹ بن جائے گالیکن ایک نظریاتی جھگڑا 1969ء سے شروع ہو چکا تھا۔ اخبارات و جرائد تقسیم شدہ تھے ۔ ’’الفتح‘‘، ’’نصرت‘‘ لیفٹ کی اور ’’زندگی‘‘، ’’چٹان‘‘ وغیرہ رائٹ کے نمائندہ رسالے تھے۔

سوال:لیکن تاثر یہی تھا کہ یہاں مصر اور عراق کی طرز کا انقلاب آجائے گا۔

جواب:مجھے تو اس کے کچھ ایسے اثرات نظر نہیں آئے تھے۔ نیشنلائزیشن آغاز میں بہت پاپولر ہوئی تھی لیکن اس پراسس میں ملیں پروفیشنلز کودینے کی بجائے بیوروکریٹس کے حوالے کردی گئی تھیں جو انڈسٹری چلانے کا ہنر ہی نہ جانتے تھے۔ انہیں کوئی تجربہ ہی نہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نیشنلائزیشن counter productiveہو گئی ۔ دوسرا پرابلم بھٹو کا یہ تھا کہ اس نے لیبر کو بہت pamperکیا تھا جس نے جا بے جا ہڑتالیں شروع کردی تھیں۔ ایک طرف بیوروکریٹ انڈسٹری چلا نہیں پا رہا تھا اور دوسری جانب ہڑتالیں ہو رہی تھیں اور یہ صورت حال جھگڑوں پر منتج ہوئی۔

سوال:پاکستانی فوج پر آپ کوکتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ کیا پہلے بھی ایسی کتابیں موجود تھیں؟

جواب:اس وقت تک صرف ایک فوجی نے آٖفیشل ہسٹری لکھی تھی لیکن وہ کسی پرائیویٹ شخص کا پہلا کام تھا اور مارکیٹ میں اس سے پہلے ایسی کوئی کتاب نہ تھی۔ اس کے باوجود کہ وہ کتاب اب آؤٹ ڈیٹ ہو چکی ہے اس کے باوجود چھپ رہی ہے کیونکہ بنیادی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ جب میں نے کتاب لکھی وہ بھٹو کا دور تھا، اس زمانے میں آزادی تھی۔ جمہوریت تھی اور فوج کے متعلق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ فوج demoraliseتھی۔ اس وقت سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ پیش آئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس کا دوسرا ایڈیشن میں نے ضیاء الحق کے جانے کے بعد شائع کیا تھا۔

سوال:بے نظیر بھٹو صاحبہ کو کیسا پایا؟

جواب:وہ گفتگو میں اپنے باپ کی طرح شارپ اور گہری سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ ان کے مقابلے میں نواز شریف بونگا ہے ، جلد سمجھتے نہیں ہیں۔ میں نے ایک امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آدمی سے پوچھا کہ دونوں میں کیا فرق ہے؟ اس نے کہا کہ بے نظیر سے گفتگو کرنا آسان ہے، فوراً فیصلہ کرتی ہے جبکہ نواز شریف کے ساتھ حتمی بات نہیں ہو سکتی ۔ تھوڑی سی گفتگو کے بعد ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے ، ہمیں ان کے نمبر ٹو سے بات کرنا پڑتی ہے۔

سوال: زرداری صاحب کو کیسا پایا؟

جواب:ان سے بہت مختصر سی بات چیت ہوئی تھی۔ وہ بس آئے اور آکر بیٹھ گئے۔ لیکن ان کا انٹیلیکچوئل لیول نہیں ہے ، ویسے بہت تیز آدمی ہے ۔ شروع سے بہت گیم کھیلتا رہا ہے۔

سوال:اس دوران آپ کا کبھی شادی وغیرہ کا ارادہ نہیں بنا؟

جواب:میری مصروفیت ہی اس قدر رہی کہ شادی کا سوچ نہیں سکا۔ گھر سے پریشر تو تھا لیکن میں اس زمانے میں پاکستان زیادہ ٹھہرا ہی نہیں تھا۔ باہر بھی پڑھائی پر توجہ دی اور سمجھتا تھا کہ شادی کی وجہ سے کیریئر متاثر ہو سکتا تھا اور یونیورسٹی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود تھیں۔

اِدھر میں پاکستان آتا اور اُدھر واپس چلا جاتا۔ اس سلسلے میں بہت پڑھائی کرنا پڑتی تھی۔ میرے آرٹیکل ان کے سٹینڈرڈ پروفیشنل میگزینوں میں شائع ہو رہے تھے۔

سوال:جنرل ضیاء الحق سے کبھی ملاقات ہوئی تھی؟

جواب:میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ اردو ڈائجسٹ والے انہیں بلاتے تھے اور کانفرنسیں کرتے تھے ، اس میں میں بھی جاتا تھا لیکن ملاقات نہیں ہو تی تھی۔ اب تو پی آئی ڈی والوں کو پتہ چل گیا ہے ، تین سال پہلے میرے پیچھے پڑے ، میں نے بتایا کہ میں کسی اخبار کانمائندہ نہیں ہوں کہ شام کو رپورٹ شائع کروں۔ میں کمنٹری لکھتا ہوں جو شائع شدہ رپورٹیں پڑھ کر لکھی جا سکتی ہے۔ میں نواز شریف سے ایک دو دفعہ ملا ہوں۔ شہباز شریف سے ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی۔

سوال:نواز شریف کو کیسا پایا؟

جواب:وہ بہت politeہیں اور محبت سے باتیں کرتے ہیں ۔

سوال:ملٹری کالجز میں کورس کروانے جاتے ہیں ۔ یہ تجربہ کیسا رہا؟

جواب:وہ ایک مختلف کام ہے ۔ ابھی اگلے ہفتے مجھے جانا ہے ۔ مجھے مختلف موضوعات پر بات کرنا ہوتی ہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ایک اوپن فورم ہے ۔ دلائل کے ساتھ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ سامنے کرنل اور بریگیڈیئر لیول کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔

سوال:جمہوری اور آئینی فریم ورک میں رہتے ہوئے سول ملٹری تعلقات میں بہتری کیسے ممکن ہے؟

جواب:اس ضمن میں آٹھ دس باتیں انتہائی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے تو فوجی قیادت اپنے ذہنوں میں موجود سیاسی رجحانات پر مزاحمتی بند باندھے اور اپنی پیشہ وارانہ حدود میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دے۔ سول قیادت کو بھی فوجی کی اندرونی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیاسی قیادت کو ایک مستحکم گورنینس اور مبنی بر انصاف سیاسی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کی سعی کرنی چاہئے۔تیسرے نمبر پر سول اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے ذاتی اغراض و مقاصد سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے اور مبنی بر میرٹ اقدامات سے یقینی بنانا ہوگا کہ سول ادارے سیاسی و ذاتی مقاصد کے تابع استعمال نہ ہو سکیں۔ چوتھے نمبر پر شہریوں کی سہولتوں اور خدمات کی ڈیلیوری کو سول اداروں کے ذریعے ممکن بنانے کے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ پانچوں نمبر پر شہریوں میںیہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات میں بھرپور شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور معاشرے میں ایک ایسا سماجی و معاشی نظام مبنی بر انصاف یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی آسان اور سہل ہورہی ہو۔ چھٹے نمبر پر سیاسی قائدین میں اس پر اتفاق ہونا چاہئے کہ وہ ذاتی خواہشات کے تابع حصول اقتدار کی خاطر فوج سے درپردہ تعلقات رکھنے کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ ساتویں نمبر پرسول معاملات میں فوج کی مدد کے رجحان کو کم سے کم رکھنا چاہئے اور اور حکومتوں کی مدد کے لئے فوج کو بلانے کے رجحان کو کم کرنا پڑے گا۔ آٹھویں نمبر پر ملک کے خارجی تنازعات اور اندرونی مسائل بشمول دہشت گردی پر جلد ازجلد قابو پانا چاہئے تاکہ فوج کے سیاسی امیج کو محدود کیا جا سکے اور نویں نمبر پر خارجہ، ڈیفنس اور داخلی محاذ پر اہم پوسٹوں پر اچھی ساکھ کے حامل سیاستدانوں کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔

سوال:فوج کے سیاسی کردار پر کیا کہیں گے؟

جواب:فوج کا سیاسی کردار پاکستان میں رہے گا۔ اس لئے بھی رہے گا کہ ایک قابل اعتماد سویلین متبادل قائم نہیں ہو سکا یا تو اچھی سویلین حکومت ہو جو پرفارمنس دکھائے تاکہ فوج کا عمل دخل کم ہو سکے۔ ہم ہر کام کے لئے فوج کے پاس چلے جاتے ہیں ، بیرونی اور اندرونی سیکورٹی فوج کے پاس ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فوج کاروائیاں کررہی ہے ، مردم شماری فوج کر رہی ہے۔ اس لئے جب اتنا زیادہ انحصار ہو تو فوج میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ہی کیوں نہ آجائیں۔اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے تصادم نہیں باہم مل کر کام کرنا پڑے گا۔ کیونکہ خطرات اتنے بڑے ہیں کہ کوئی بھی اکیلا مسائل کو حل نہیں کر سکتا ہے ۔ تکنیکی طور پر فوج قبضہ کر سکتی ہے لیکن کل کیا کریں گے ۔ فوج کے پاس بھی پاکستانی مسائل کا حل نہیں ہے۔ جیوڈیشری بھی اس لئے مضبوط ہے کہ جمہوری ادارے اور سول ادارے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔

سوال:نیا سوشل کنٹریکٹ کیا ہو سکتا ہے؟

جواب:آئین ہی آپ کا سوشل کنٹریکٹ ہوتا ہے۔ اس کے ہوتے کسی شے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس پر صدق دل سے عمل کریں ۔ نواز شریف آج معترض ہیں لیکن ماضی میں خاموش تھے۔ آج عمران خاموش ہے ، کل چلائے گا۔

سوال:حل کیا ہے ؟

جواب:ان مسائل کاحل یہ ہے کہ فوج اور سول ادارے مل کر کام کریں۔ سول لیڈر شپ کو انڈونیشیا، ترکی ، برازیل اور ونزویلا سے سبق لینا چاہئے۔ وہاں فوج قابض تھی لیکن اب سائیڈ پر ہو گئی ہے کیونکہ سوسائٹی کو ہینڈل کرنا مشکل ہوگیا ہے اور حکومتوں نے پرفارم کرکے دکھایا ہے۔ پاکستان میں جب تک معاشرتی اور معاشی مسائل حل نہیں کریں گے، کوئی بھی سویلین گورنمنٹ کام نہیں کر سکتی۔ فوج رضاکارانہ طور پر سرنڈر نہیں کرے گی۔

سوال:بہترین سیاستدان؟

جواب:قائد اعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ہی ہیں۔

سوال:بہترین ڈکٹیٹر؟

جواب:ایوب خان، کیونکہ وہ ملٹری ڈکٹیٹر بھی تھا لیکن اقتصادی ترقی بھی زیادہ اسی کے دور میں ہوئی ۔ باقیوں میں ایسانظر نہیں آتا۔

سوال:دس سال بعد کا پاکستان کیسا ہوگا؟

جواب:زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ کسی میں معاملات کو تبدیل کرنے کا جذبہ نہیں۔ہر کوئی اپنا وقت پاس کرنا چاہتا ہے۔ البتہ سی پیک پر عملدرآمد ہوگیا تو کوئی فرق پڑ سکتا ہے ۔ خطے کے ساتھ زمینی روابط قائم کرنے میں پاکستان کا مستقبل ہے۔

سوال:اپنے نام سے تھنک ٹینک بنانے کا خیال نہیں آیا؟

جواب:میں ون مین تھنک ٹینک ہوں، میرے پاس سرمایہ نہیں ہے اور میرے کوئی تعلقات بھی نہیں ہیں۔ آرمی کی ٹاپ کمانڈ مجھے نام سے جانتی ہے کیونکہ دس بارہ سال سے ان کو پڑھا رہا ہوں۔ سویلین لیڈرشپ بھی مجھ سے بہت کام لیتی ہے لیکن یہ تعلقات صرف پروفیشنل بنیادوں پر ہیں، ذاتی مفاد کے لئے نہیں ہیں۔

سوال:پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی جانب سے کوئی آفر ہوئی ہو؟

جواب:مجھے لمز سمیت بہت سی یونیورسٹیوں کی طرف سے آفر رہی ہے ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے بھی آفر کی تھی ۔ لیکن میں نے بتایا کہ اگر کسی کو جوائن کرنا ہوتا تو پنجاب یونیورسٹی کیوں چھوڑ تا۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ جو بھی کرنا ہے اپنے طور پر کرنا ہے۔ جب تک صحت ہے ، کام کروں گا۔ ابھی تک صحت ٹھیک ٹھاک ہے ۔ فری لانسنگ ڈیلی ویجر والا حساب ہوتا ہے ۔ میں ڈیلی ویجر تھنکر ہوں۔

(بشکریہ: قومی ڈائجسٹ)

مزید : ایڈیشن 2