قطب جنوبی پر موجود برف پگھلنے کی رفتار تین گنا تیزہوچکی ہے، مطالعاتی رپورٹ

قطب جنوبی پر موجود برف پگھلنے کی رفتار تین گنا تیزہوچکی ہے، مطالعاتی رپورٹ

لندن (اے پی پی) قطب جنوبی پر موجود برف پگھلنے کی رفتار گذشتہ عشرے کے دوران تین گنا ہوچکی ہے اور اس وقت سالانہ دو سو ارب ٹن برف پگھل کر سمندروں میں شامل ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح سالانہ آدھ ملی میٹر کی شرح سے بلند ہو رہی ہے۔ یہ بات دنیا کے 14 ممالک سے تعلق رکھنے والے80 ماہرین کی طرف سے تیار کر دہ مطالعاتی رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ کے مطابق قطب جنوبی پر برف پگھلنے کی اس شرح کے نتیجہ میں سمندروں کے کنارے آباد کئی نشیبی شہروں اور آبادیوں کے پاس اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت ہی کم وقت بچا ہے۔ قطب جنوبی کے صرف ایک پائن لینڈ گلیشیئر سے 45 ارب ٹن برف پگھل کر سمندری پانی میں شامل ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ دس سال میں ماحول کے لئے نقصان دہ گیسوں کے اخراج پر کنٹرول میں ناکامی کی صورت میں ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔’’آئس شیٹ ماس بیلنس انٹر کمپیریزن ایکسرسائز‘‘ کے عنوان سے جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق قطب جنوبی پر برف پگھلنے کی رفتار میں تیزی کا آغاز 2002 ء میں ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق قطب جنوبی کے گلیشیئرز سے 1992ء سے اب تک 30 کھرب ٹن برف پگھل کر سمندری پانی میں شامل ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح 8 ملی میٹر تک بلند ہو چکی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس 30 کھرب ٹن برف کا 40 فیصد گذشتہ پانچ سال کے دوران پگھلا ہے جس سے برف کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی ایک وجہ چونکہ سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز نیچے سے بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں اس لئے پگھلنے کے ساتھ ساتھ یہ گلیشیئرز غیر مستحکم بھی ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق قطب جنوبی پر موجود دو بڑے گلیشیئرز میں سے ایک ثویٹیز بہت جلد پگھل کرایک نئے سمندر کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مذکورہ دو گلیشیئرز سے تقریباً 95 ارب ٹن برف سالانہ سمندری پانی میں شامل ہونے کے علارہ بحر منجمد جنوبی کے مشرقی حصے سے سالانہ 28 ارب ٹن برف بھی سمندری پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہر سال سمندری پانی میں شامل ہونے والی مجموعی برف سمندر کی سطح میں تیزی سے اضافہ کرسکتی ہے جس سے سب سے زیادہ خطرہ امریکی ساحلی شہروں کو ہوگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4