یتیموں،بیواؤں ، غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں ‘علی گیلانی

یتیموں،بیواؤں ، غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں ‘علی گیلانی

سری نگر(کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے عیدالفطر کے مقدس موقع پر پوری اُمت مسلمہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ عید کی حقیقی خوشی اسی راز میں مضمر ہے کہ جس مبارک مہینے کے اختتام پر عیدالفطر منائی جارہی ہے اسی مہینے میں تمام بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے قرآن پاک نازل کیا گیا ہے۔ حریت راہنما نے عیدالفطر منانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اُمت مسلمہ کو اس روز اس عہد کا اعادہ کرنا چاہیے کہ جس حکیمانے طریقے سے انفرادی اور اجتماعی طور ہر مسلمان اپنے جسمانی اور روحانی تزکئے کے ساتھ اس مبارک مہینے میں جس قدر مستفید ہوچکا ہے وہ اِسی عزم بالجزم کے ساتھ سال بھر کے باقی ماندہ مہینوں میں اِسی ضابطہ حیات پر چلنے کی جستجو کرتا رہے۔ حریت راہنما نے رمضان کے روزوں کا مقصد قرآن کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ روزہ داری ایک ایسا عمل ہے جِسے اللہ تعالیٰ کے سِوا کوئی اور نہیں جانتا کیونکہ اس عمل کا تعلق ظاہر داری سے زیادہ باطن سے ہے اِسی لیے روزداری تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ خود غرض انسان اپنے ظاہر اور باطن سے کِسی کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ اِسی لئے روزہ داروں کا اجروثواب اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے نوازے گا۔

حریت راہنما نے اپنی مظلوم قوم کے نام اپنے عید پیغام میں کہا کہ اگرچہ بھارت کے جبری قبضے کے نتیجے میں پوری ریاست خونِ ناحق سے نہلائی ہوئی ہے اور ظلم وجبر کی بھٹی اپنے جوبن پر ہے۔ ہر لمحہ یہاں انسانی لاشوں کے جنازے اُٹھ رہے ہیں، انسانی بستیوں کو تاراج کیا جارہا ہے، فصلیں اور میوہ باغات تلف کئے جارہے ہیں، اندھا دھند گرفتاریوں سے جیل خانوں کو بھرا جارہا ہے، والدین کو اپنے سہاروں سے محروم کیا جارہا ہے، بیواؤں اور یتیموں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جان، مال اور عزت غیر محفوظ بنائی جارہی ہے۔ ان خونچکاں حالات میں عیدالفطر منانے کا مقصد محض ضرورت سے زیادہ کھانے پینے کی اشیاء کا حصول یا مہنگے سے مہنگے کپڑوں کی خریداری نہیں ہے میں اپنی سوگوار قوم کو عید سادگی سے منانے کی دردمندانہ اپیل کرتا ہوں۔ عیدالفطر قرآن پاک کے نزول کے مناسبت سے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری بنی نوع انسان کے لیے خوشی منانے کا ایک عظیم دن ہے، جس کا انسان کی ظاہرداری، کھانے پینے اور کپڑوں کی نمائش سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق آئندہ اپنی زندگی کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے جانے کے عزمِ صمیم سے ہے۔ حریت راہنما نے قرآن پاک کے فیوض وبرکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ نسخہ کیمپا ہے جس سے جسمانی، ذہنی اور روحانی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ قرآن ہر انسان کا تعلق اپنے خالق، مالک اور رب سے جوڑتے ہوئے دوسری تمام مخلوقات کی غلامی سے توڑ دیتا ہے۔ قرآن ہر انسان کو ایک اللہ کی غلامی کے سوا کسی اور کا غلام بننے سے منع کرتا ہے۔ صرف ایک اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دوسرے مخلوق کے سامنے سرنگوں ہونے کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ ایک اللہ کے خوف کے سِوا کسی بھی دنیاوی طاقت سے مرعوب نہ ہونے کی دولت سے مالامال کردیتا ہے۔ حریت راہنما نے عیدالفطر کے مناسبت سے اپنی قوم کے نام ایک پیغام میں کہا کہ وہ بھارت کے ناجائز اور جبری قبضے کے خلاف رواں جدوجہدِ آزادی کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا بھرپور تعاون دیتے رہیں۔ بھارت اور اس کے مقامی ایجنٹوں کی طرف سے پیش کردہ مراعات اور مفادات کو ٹھکرا کر خونِ شہداء کے ساتھ وفاداری کا دامن مضبوطی سے تھام لیں۔ ان شاء اللہ کامیابی ہماری ہوگی ہمارے لیے عید الفطر کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی جدوجہد آزادی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ حریت راہنما نے عیدالفطر کے اس مقدس موقع پر تمام ائمہ وخطیب حضرات سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس روز تمام عید اجتماعات کے موقع پر اپنی آزادی کے لیے دُعا کریں۔ حریت راہنما نے اصحابِ ثروت سے دردمندانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماج کے غریب اور پسماندہ اپنے ہمسایوں، رشتہ داروں اور تحریک آزادی کے متاثرین یتیم بچوں، بیواؤں اور نادار لوگوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرنے میں پہل کریں۔ اپنے صدقات، زکوٰۃ اور صدقۂ فطرکا شرعی استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو کریں۔ اللہ ہم سب کو عید کی خوشیوں میں شامل کرے! آمین

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے خاتون وکیل سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔خیال رہے کہ نسرین سوٹویڈیو طویل عرصے سے ملکی عدالتی نظام کے خلاف تنقید کرتی آئی ہیں۔انہوں نے سیکیورٹی امور سے متعلق مقدمات میں محدود وکلا کو بطور وکیل مقرر کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی اور انہوں نے مذکورہ فیصلہ حق دفاع کے لیے ‘فیئرویل’ قرار دیا تھا۔ایران کی عدلیہ نے 60 ہزار لائسنس یافتہ وکیلوں میں سے 20 وکیلوں کی منظوری دی جنہیں سیکیورٹی سے متعلق کیسز میں دفاع کا حق دیا گیا۔جب اعتراضات کا دباؤ بڑھا تو عدلیہ نے موقف اختیار کیا کہ وکیلوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ دو بچوں کی والدہ وکیل نسرین سوٹویڈیو نے عوامی مقامات پر اسکارف اوڑھنے سے انکار کردیا تھا۔اس سے قبل نسرین سوٹویڈیو سیکیورٹی سے متعلق الزامات کے جرم میں 2010 میں تین برس کی جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔یورپین یونین نے انہیں 2012 میں خیالات کی آزادی’ پر مبنی ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4