مسلمان بچی آصفہ اغوا، آبروریزی ‘قتل کیس کی سماعت 2جولائی تک ملتوی

مسلمان بچی آصفہ اغوا، آبروریزی ‘قتل کیس کی سماعت 2جولائی تک ملتوی

پٹھانکوٹ(کے پی آئی) کٹھوعہ میں آٹھ سالہ مسلمان بچی آصفہ اغوا، آبروریزی اور قتل کیس کی سماعت 2جولائی تک ملتوی ہو گئی ہے ۔پٹھانکوٹ عدالت 15جون سے گرمائی تعطیلات کے لئے بند ہو رہی ہے اور دوبارہ 2جولائی کو کھلے گی۔ گزشتہ روز عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پہلے گواہ ، جو کہ ایک پولیس اہلکار ہیں ، پر تیسرے روز بھی جرح جاری رہی جس دوران 4وکلا صفائی نے اسے بار ی باری گھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک وکیل صفائی نے بتایا کہ پانچ میں سے چار صفائی وکلا کی جرح مکمل ہو چکی ہے جب کہ صرف ایک وکیل کی طرف سے گواہ سے جرح کیا جانا باقی ہے جو غالبا آج بھی جاری رہے گی۔ یہ گواہ موقعہ واردات کا ہے جب بچی کی نعش برآمد ہوئی تھی اور اسے ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔

۔ توقع ہے کہ آج پہلے گواہ کی جرح مکمل کر لی جائے گی۔ اس معاملہ میں کرائم برانچ نے 226گواہ رکھے ہیں جن میں سے 17کو پہلے مرحلہ میں طلب کیا گیا ہے ۔ دریں اثناپٹھانکوٹ عدالت 15جون سے گرمائی تعطیلات کے لئے بند ہو رہی ہے اور دوبارہ 2جولائی کو کھلے گی۔ سپریم کورٹ نے متاثرہ بچی کے والد کی طرف سے کٹھوعہ میں معاملہ کی سماعت پر تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد یہ کیس پٹھانکوٹ سیشن کورٹ میں منتقل کر کے اس کی روزانہ کی بنیادوں پر بند کمرہ میں سماعت کا حکم دیا ہے ۔

بھارتی وزیر اعظم کی یہ ویڈیو بدھ تیرہ جون کو جاری کی گئی اور کچھ ہی گھنٹوں میں اسے دو لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ مودی کے حامی ان کی جسمانی قوت اور کم سونے کے باوجود بہترین انداز سے کام کرنے جیسی صلاحیتوں سے کافی متاثر ہیں۔ اپنی اس تازہ ویڈیو میں مودی دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ کے باغیچے میں الٹے چل کر، ورزش کر کے اور مختلف جسمانی حرکات کی مدد سے لوگوں کو قدرت سے متاثرہ ورزش کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو در اصل نامور بھارتی شہریوں کی ایسی ہی ویڈیوز کا ایک حصہ ہے۔ ایک مختلف ویڈیو میں بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی موٹاپے اور ناقص صحت کے حوالے سے بات کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔اس ویڈیو کے ایک حصے میں مودی کالے رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے دکھائی دیتے ہیں تو ایک اور میں وہ ورزش کے لیے الٹے قدموں چل پڑتے ہیں۔ کہیں وہ یوگا کے مخصوص طرز سے بیٹھے ہیں۔ مودی کی اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کے حکومت میں شامل وزرا اور دیگر اہلکار ان کی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف ہیں۔ تاہم عوام میں کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے خیال میں یہ سب کچھ زیادہ متاثر کن نہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4