ملکی تجارتی خسارہ خطرناک حد تکبڑھ گیا،ٹھوس اقدامات کی ضرورت

ملکی تجارتی خسارہ خطرناک حد تکبڑھ گیا،ٹھوس اقدامات کی ضرورت

کراچی (رپورٹ/غلام مرتضی ) ملکی تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات تاحال ناپید۔ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال 34 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ملکی درآمدات میں روزافزوں اضافے اور خصوصاً پرتعیش اشیاء کی درآمد کو روکنے کے حواے سے کوئی مناسب حکمت عملی اختیار نہ کرنے کے باعث تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اگر یہی روش اختیار کی جاتی رہی تو اس میں تیزی سے مزید اضافہ متوقع ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران تجارتی خاسرے میں گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بلکہ درآمدی بل گذشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد اضافے سے 55.3 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ مذکورہ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے معیشت کے اہم ترین شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جس کے نتائج سامنے آتے جارہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق جب تک ملکی برآمدات کو بڑھانے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جائیں گے۔ تجارتی خسارے پر قابو پانا انتہائی مشکل ترین امر ہوگا۔ پاکستان نے کبھی بھی اپنے آپ کو مقابلے اور مسابقت کیلئے تیار کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ملکی برآمدات 21.00 سے 23.5 ارب ڈالر ز رہنے کی توقع ہے۔ اگر ملکی برآمدات میں ہر سال 25 فیصد اضافہ کیا جائے تو برآمدت کے حجم کو 60 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے دورحکومت میں بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگا واٹ اضافہ ہوا ہے لیکن مناسب ڈسٹری بیوشن نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں مذکورہ اضافے کا ملکی معیشت پر کوئی مثبت ا ثر نہیں پڑا ہے۔ دوسری جانب صنعتی شعبے کے انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اس وقت تک اضافہ نہیں کیا جاسکتا ہے جب تک صنعتی شعبے کا مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل نہ کیا جائے ، برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتکاروں کو بجلی بلا تعطل اور سستے داموں دی جائے، اس کے علاوہ ’’ریفنڈز‘‘ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صنعتکاروں کے پاس کاروبار کو چلانے کیلئے سرمایہ موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی حد تک اگر دیکھا جائے تو یہاں پانی کی شدید ترین قلت ہے اور صنعتی شعبوں کو اس سے بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ (ڈی سیلیٹیشن) پلانٹ لگائے جائیں تاکہ سمندر کے پانی کو صنعتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ اس وقت پاکستان کا صنعتی شعبہ ویلیو ایڈڈ اشیاء بنانے کے لحاظ سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ویلیو ایڈٹس پر بھرپور توجہ دی جائے اور ریسرچ ایند ڈیویلپمنٹ کو فروغ دے کر نام کے بجائے تیار اشیاء کی پیداوار کو بڑھایا جائے۔ مذکورہ تمام اقدامات پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اگر مضبوط بنیادوں پر ایسا نہ کیا گیا تو برآمدی شعبہ مقابلے کی عالمی دور سے باہر ہو جائے گا اور پاکستان ایک درآمدی ملک بن کر رہ جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 2 /کراچی صفحہ اول