پولیس میں دھڑے بندی کے باعث قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، را ؤانوار

پولیس میں دھڑے بندی کے باعث قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، را ؤانوار

کراچی اسٹاف رپورٹر)نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سابق پولیس افسر راؤ انوار نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ذاتی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا۔سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار پھٹ پڑے اور پیٹی بھائیوں پر خود کو پھنسانے کا الزام عائد کیا۔ کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق ایس ایس پی ملیر اور قتل میں نامزد ملزم را انوار سمیت 10 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نقیب اللہ کے والد کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور کی غیر حاضری کی وجہ سے سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے را انوار نے کہا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ اور اختلافات کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں شواہد موجود نہیں ہیں، پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی۔را ؤانوار کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا، ایسا فون نمبر ڈالا گیا ہے جو میرے استعمال میں ہی نہیں، 21 مارچ کو میں سپریم کورٹ میں تھا، جبکہ جے آئی ٹی میں جو فون نمبر ڈالا گیا اس کی لوکیشن کراچی تھی، مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں میرے گھر کو سب جیل قرار دینا بے جا عنایت نہیں ہے کیونکہ مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں۔را ؤانوار نے مزید کہا کہ ایک شخص نے میرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، میرے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کو چیف جسٹس نے گرفتار کرایا، مجھے ہر تنظیم کے دہشتگرد نے دھمکی دی ہے، مجھے را اور دیگر کالعدم تنظیموں سے بھی خطرہ ہے، مجے تھریٹ لیٹر وفاق، صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ سے بھی موصول ہوئے، مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے، میں اس مقدمے میں بری ہوجاں گا۔13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر را انوار نے ایک پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد را انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

مزید : ایڈیشن 2 /پشاورصفحہ آخر