نوشہرہ ،میاں عیسیٰ اور مغلکی کی اراضی قبضہ کرنے کی کوشش ،عوام سراپا احتجاج

نوشہرہ ،میاں عیسیٰ اور مغلکی کی اراضی قبضہ کرنے کی کوشش ،عوام سراپا احتجاج

نوشہرہ(بیورورپورٹ) ایف ڈبلیو او کا پولیس کے زریعے سی پیک سٹی کیلئے نندرک ، میاں عیسیٰ اور مغلکی کی اراضی قبضہ کرنے کی کوشش عوام سراپا احتجاج و اشتعال عید کے دن پولیس گردی اور ایف ڈبلیو او کے افسران کے خلاف احتجاج کا عندیہ احتجاج میں خون خرابے کی تمام تر ذمہ دار ی ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی نندرک ، مغلکی اور میاں عیسیٰ کی اراضی پر سیکشن فور تسلیم نہیں کرتے سیکشن فور کا فیصلہ واپس لیا جائے اس سلسلے میں نندرک کے ملک تاج ، قمرل ، وارث خان ، عزت خان میاں عیسیٰ کے نائب ناظم غلام خالق ، فیروز دین ، حاجی قماش خان ، دولت خان ، میر باز خان مغلکی کے ملک فیض اللہ خان ، تحصیل کونسلر سیف الرحمان ، سابقہ ناظم ناصر خان جنرل کونسلر صدبر خان اور زبیر نے میڈیا کو بتایاکہ سی پیک سٹی کیلئے ہمارے علاقوں نندرک ، مغلکی اور میاں عیسیٰ کی قیمتی اراضی کا انتخاب کیا گیا تھا حکومت کا یہی انتخاب ہمارا معاشی قتل عام ہے کیونکہ ان علاقوں کے عوام زراعت پیشہ ہیں اور ان کا گزر اوقات اسی سے ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہماری قیمتی اراضی پر حکومت نے نے سیکشن فور کا نفاذ کیا ہوا ہے جوکہ ہمیں کسی صور ت منظور نہیں اور نہ ہم اس سیکشن فور کو تسلیم کرتے ہیں اس لئے حکومت نندرک مغلکی اور میاں عیسیٰ کے زمینوں پر سیکشن فور کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اگر ہوسکے تو سیکشن فور کے فیصلے کو واپس لیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے علاقوں نندرک ، مغلکی اور میاں عیسیٰ کے ساتھ ہر پرویزخٹک نے ہمیشہ سوتیلی ماہ جیسا سلوک روا رکھا ہے اور آج جبکہ ہماری قیمتی اراضی بھی جب آونے پونے داموں سی پیک سٹی کیلئے خریدا جارہا ہے یہ کارستانی بھی پرویزخٹک کی ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک سٹی کا تمام ترلین دین اورکاروائی غیرقانونی ہے اس لئے ہمارے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اور تو اور اب حکومت ہماری اراضی کا قبضہ لینے کیایف ڈبلیو او اور پھر ایف ڈبلیو او والے نوشہرہ پولیس کو استعمال کررہی ہے او ر شہر سے پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور پولیس کے زریعے ہماری اراضی کا قبضہ لیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایف ڈبلیو او اور پولیس نے ہمارے گریبانو ں سے ہاتھ نہیں نکالا تو ہم اہلیان نندرک ، مغلکی اور میاں عیسیٰ عین عید کے روز پرتشدد احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔

مزید : ایڈیشن 2 /پشاورصفحہ آخر