زلفی بخاری یا ظفر سپاری؟

زلفی بخاری یا ظفر سپاری؟
زلفی بخاری یا ظفر سپاری؟

  

کل ایک نجی چینل کے مشہور اینکرپرسن کی زبان پر باربار زلفی بخاری کی جگہ ظفر سپاری کا نام آرہا تھا جس نے مجھے خاصی تشویش میں مبتلاء کر دیا۔ تھوڑی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ دراصل ظفر سپاری انڈین فلموں کا وہ منفی کردار ہے جو اپنے مضموم عزائم کی تکمیل کے لئے ممکنہ منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، سب سے پہلے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ضمیر فروش تلاش کرتا ہے جن کے ضمیر وہ خرید لیتا ہے اور اگر اسے کوئی ضمیر فروش نہ ملے اور اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی مکمل ایمانداری سے کرتا ہو تو ظفر سپاری نامی کردار اسے ڈراتا دھمکاتا ہے، اس کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی میں مشکلات حائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہرسیاستدان اپنے پاس ظفر سپاری جیسا کیریکٹر لازمی رکھتاہے جو کہ انکے تمام معاملات کا فرنٹ مین ہوتا ہے ، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور انتخابات کے موسم میں انہیں با آسانی بے وقوف بنایا جا سکتا ہے، مگر ایک بات پیش نظر رہے ۔اگر آپکی سابقہ بیوی کتاب لکھ سکتی ہے تو وقت آنے پر آپکا فرنٹ مین بھی کتاب لکھ سکتا ہے جو اتنی ہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جتنی کہ سابقہ اہلیہ کی لکھی ھوئی کتاب۔

اگر اس طریقے سے بھی بات نہ بن پائے تو وہ اس کی جان تک لے لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، یہ ظفر سپاری کے کردار کا مختصر تعارف ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں کئی ظفر سپاری جیسے کردار اپنے اردگرد نظر آئیں گے، جن میں سرفہرست وہ طبقہ ہے جو کسی نہ کسی صورت میں صاحب اقتدار ہے یا رہ چکا ہے، وہ اقتدار کی مسند تک پہنچتا ہی ظفر سپاری کے کردار کے لوازمات پورے کرنے کے بعد ہے، ہمارے موجودہ نظام میں کوئی بھی بڑا عہدہ حاصل کرنے کے لئے ظفر سپاری بننا لازم ہے۔

اگر بات زلفی بخاری کی کریں تو ہنگامی بنیادوں پر اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوا کر عمرہ کرنا زلفی بخاری کے لئے اتنا نقصان دہ ثابت نہیں ہوا جتنا عمران خان صاحب کی سیاست کو ہوا ،اگر وہ سمجھیں تو۔ جو خواب خان صاحب نے اس قوم کو دکھائے ہیں اور جس ’’ایک پاکستان‘‘ کا وہ سب سے وعدہ کر رہے ہیں یہ عمل اس وعدے اور خوابوں کے بالکل برعکس ہے، زلفی بخاری تو صرف خان صاحب کا دوست ہے اگر اس کی جگہ خان صاحب کا کوئی فیملی کا فرد بھی ہوتا تو بھی خان صاحب کو میرٹ اور قانون کو ترجیح دینی چاہئے تھی۔ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹڈ ہے یا ای سی ایل میں ہے ،اس کا علم تو یقیناً خان صاحب کوہو گا اور اگران کو نہیں بھی تھا تو زلفی بخاری کو تو پتا تھا مگر پھر بھی اس نے ساتھ جانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ہمارے نظام کی بے بسی کا مذاق اڑایا اور خان صاحب اس میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینئر راہنماء علی محمد خان کل ایک پروگرام میں یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ایک وکیل ہیں قانونی حوالہ دے رہے تھے کہ یہ زلفی بخاری کا قانونی استحقاق ہے کہ وہ سفری استثناء مانگے مگر حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے نگران وزیراعظم جو کہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ بھی ہیں کو اس قانون کا علم نہیں تھا۔ شاید اسی لئے انہوں نے اس سارے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا؟ کیا پاکستان میں سارے قانون غریبوں کے لئے اور استثناء امیروں کے لئے؟ عام پاکستانی تو شاید اس استثناء کے لفظ سے بھی ناواقف ہو ۔

پاکستان میں ایک مشہور جملہ کہا جاتا ہے ‘‘ امیر اگر جرم کرے تو جج کرتا ہے اور اگر گناہ کرے تو حج ’’ یہی کچھ زلفی بخاری والے معاملے میں ہوا ہے۔ پتا نہیں کب پاکستان سب طبقات کے لئے مساوی حقوق کی ضمانت والی ریاست بنے گی، پتا نہیں اس معاشرے سے زلفی بخاری اور ظفر سپاری جیسے کردار ہمیشہ کے لئے دفن ہونگے، اب دیکھنا یہ ہے کہ سب کے لئے ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والے کس حد تک اپنے دعوؤں پر پورا اترتے ہیں یا وہ بھی دیگر سیاستدانوں کی طرح صرف حصول اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں، اللہ رب العزت سے یہ دعا ہے وطن پاکستان کو مخلص اور باکردار قیادت عطاء فرمائے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ