فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر453

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر453
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر453

  

ہم نے فلمی الف لیلہ لکھنے کا جب آغاز کیا تو یہ صرف الف لیلہ تھی۔دراصل بنیادی طور پر یہ ہماری خود نوشت تھی۔ جس میں ہمیں اپنی زندگی کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرنا تھا۔ معراج رسول صاحب اور فراز صاحب کو یہ خیال سوجھا کہ اپنی زندگی کا بیشتر (اور بہترین) حصہ ہم نے فلمی صنعت اور فلمی دنیا میں گزارا ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ ہماری خود نوشت میں فلم کا احوال قدرے زیادہ ہوگا اس لیے کیوں نہ اسے ’’فلمی الف لیلہ‘‘ کا نام دے دیا جائے۔ ان کے خیال میں فلموں کے حوالے سے عام قارئین کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور اس طرح ہم تفصیل کے ساتھ فلمی دنیا سے وابستگی کے دور کے واقعات لکھ سکیں گے۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر452 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک تو ان کا طرز استدلال دوسرے اس دلیل کی معقولیت نے ہمیں قائل کر دیا اورہم اس کا عنوان’’فلمی الف لیلہ‘‘ رکھنے پر رضا مند ہوگئے لیکن ہمیں اعتراض یہ تھا کہ اس طرح تو یہ ہماری خود نوشت کے بدلے فلمی داستان بن کر رہ جائے گی لیکن فراز صاحب نے سمجھایا کہ جب لوگ پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ محض فلم تک محدود نہیں ہے۔ اس میں صحافت، ادب اور دیگر شعبوں کے واقعات اور افراد کا تذکرہ بھی ہے جو ہماری زندگی میں شامل ہوتے رہے ہیں اور جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں ہے۔

ہم سیدھے سادے بھولے آدمی ان کی باتوں میں آگئے۔ ہم نے اس آپ بیتی کے آغاز میں ہی فلموں سے اپنی دلچسپی بلکیہ والہانہ حد تک لگاؤ کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھا ۔یہ حقیقت بھی ہے کہ ہمیں بچپن ہی سے کہانی سننے اور فلمیں دیکھنے کا بہت شوق رہا ہے۔ ہماری فرمائشوں سے تنگ آکر اماں اور ہماری بڑی بہنوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ اگر کہانی سننے کا شوق ہے تو خود ہی پڑھنا سیکھو تاکہ دوسروں کی محتاجی اور روز روز کی دانتاکل کل ختم ہو۔ ہمیں یہ محتاجی واقعی بہت گراں گزرتی تھی۔ ظاہر ہے کہ کہانی سنانے کے لیے فرصت کی ضرور ہوتی تھی جب فرصت ہوتی تو دن کے وقت کوئی کہانی سنانے پر آمادہ نہ ہوتا۔ 

اماں نے کہا’’بیٹا۔ دن کے وقت کہانی نہیں سناتے ہیں اور نہ سنتے ہیں؟‘‘

ہم نے پوچھا’’کیوں؟‘‘

بولیں’’مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہیں کہانی سنانے کی وجہ سے بے چارے مسافر راستہ بھول کر بھٹکتے پھریں؟‘‘

مسافروں کے بے چارگی اور مصائب کے خیال سے ہم نے دن میں کہانی سنانے کی فرمائش ترک کر دی۔ یہ خیال ہمارے ذ ہن میں راسخ ہو گیا تھا کہ واقعی دن میں کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ کافی عرصے تک ہم اسے سچ سمجھتے رہے۔ جب کچھ عقل آئی تو سوچا کہ یہ توہمیں سراسر ے وقوف بنایا گیا ہے۔ کہانی سنانے کا مسافروں کے راستہ بھولنے سے کیا تعلق ہے؟

مگر اس وقت تک ہم نے ’’کہانی‘‘ کے شوق مینں پڑھنا سیکھ لیا تھا ور اس باب میں خود کیفل ہو گئے تھے اس لیے بات آئی گئی ہوئی۔ البتہ ہم نے اماں سے یہ شکایت ضرور کی کہ دن کے وقت کہانی نہ سنانے کی غرض سے انہوں نے ہمیں ایک غلط مفروضہ کیوں سمجھایا تھا؟

ان کا جواب یہ تھا ’’دیکھو بیٹا۔ دن کا وقت کام کا ہوتاہے۔ ہزاروں کام اور مسئلے ہوتے ہیں۔ اس لیے اطمینان سے بیٹھ کر کہانی سنانا مشکل ہے۔ کہانی سنانے کے لیے سنانے والے کی مکمل توجہ اور یک سوئی ضروی ہوتی ہے ورنہ کہانی کا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔ رات کے وقت کھانا کھا کر اور سب کاموں سے فارغ ہو کر اطمینان سے بیٹھ کر کہانی سنانے اور سننے کا جو مزہ ہے وہ دن کے وقت کہانی سنانے میں نہیں آسکتا۔ نہ سنانے والے کو نہ سننے والے کو تو پھر اسکا فائدہ؟‘‘

اماں کی یہ دلیل ہمارے ذہن میں بیٹھ گئی۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے بچپن میں کہانی سنانا اور سننا بھی روز مرہ کی زندگی کا حصہ تھا۔ رات کو کھانا جلدی کھا لیا جاتا تھا۔ اس کے بعد لالٹین لیمپ یا شمع کی مدھم خواب ناک روشنی میں سب لوگ ایک ہی کمرے میں اکٹھے ہو جاتے تھے۔ اس زمانے میں بھوپال میں ہمارے گھر میں بجلی نہیں تھی۔ کچھ عرصے بعد ہمارے گھر تک بھی بجلی کی رسائی ہوگئی لیکن بجلی کے بلب کی روشنی میں ’’داستان گوئی‘‘ کا وہ لطف ہی نہیں تھا۔ اس لیے کہانی سناتے وقت بجلی کا بلب بجھا دیا جاتا تھا لیمپ یا لالٹین روشن کر دی جاتی تھی۔ سب لوگ اماں کے اردگرد بیٹھ جاتے یا لیٹ جاتے ۔ گرمیوں کے موسم میں وہ بچوں کو دور بیٹھنے کی ہدایت کرتی رہتی تھیں مگر کون سنتا ہے۔ کوئی ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ہے۔ کوئی پشت سے لگا بیٹھا ہے۔ سردیوں میں داستان گوئی کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔ انگیٹھی سلگ رہی ہے۔ بچے بڑے سب شالیں، رضائیاں، دلائیاں اوڑھے بیٹھے یا لیٹے ہیں۔ اماں اپنے نرم اور عطر سے مہکتے ہوئے لحاف میں بیٹھی ہیں۔ اماں کو عادت تھی کہ وہ لحاف اور بستر میں ہلکی سی خوشبو ضرور لگا دیتی تھیں۔ ہمارے بستر کو بھی وہ پاکستان آنے کے بعد مہکاتی رہیںَ۔ عطر کی یہ خوشبو موسم کے اعتبار سے ہوتی تھی۔ گرمی میں بہترین اور پسندیدہ خوشبو خس کی ہوتی تھی۔ چنبیلی اور عطر شمامہ بھی ان کی پسندیدہ خوشبوئیں تھیں۔

سردیوں میں خشک میوے کھانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ بادام، کشمش، انجیر، اخروت، مونگ پھلی اور بعض اوقات ریوڑیاں اور گزک(گجک)بھی اس مینیو میں شامل ہوتی تھی۔ بچے اور جوان ان میوؤں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اماں چند دانے کھانے کے بعد کلی کرکے اپنا منہ صاف کرتیں اور پھر پاندان کھول کر بڑے اہتمام سے اپنے لیے پان بناتیں تو بڑی عمر کی لڑکیوں کی فرمائشیں بھی شروع ہوجاتی تھیں۔ بچے اور نو عمر لوگ میوہ خوری کو ترجیح دیتے تھے۔ انجیر کھانے کا طریقہ یہ تھا کہ جو بھی سیانی لڑکی انگیٹھی کے پاس بیٹھی ہوتی اس کی ڈیوٹی تھی کہ انجیر گرم کرکے بچوں کو دیتی رہیں۔ اس کا فلسفہ یہ تھا کہ گرم کیا ہوا انجیر نزلہ زکام کے لیے بہت مفید ہوتاہے۔ اماں اس کے مختلف طبی فوائد بھی بتاتی رہتی تھیں۔ ہر چیز جو ہم لوگ کھاتے تھے اس کے فوائد سے ہمیں ضرور آگاہ کیا جاتا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر454 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ