یہ معصوم سی بچی فہد مصطفی کا ’خاکہ‘ بنا کر پروگرام میں لائی تو انہوں نے ایسا کام کر دیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، پورا پاکستان غصے سے آگ بگولہ ہو گیا، جان کر آپ بھی غصے میں آ جائیں گے

یہ معصوم سی بچی فہد مصطفی کا ’خاکہ‘ بنا کر پروگرام میں لائی تو انہوں نے ایسا ...
یہ معصوم سی بچی فہد مصطفی کا ’خاکہ‘ بنا کر پروگرام میں لائی تو انہوں نے ایسا کام کر دیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، پورا پاکستان غصے سے آگ بگولہ ہو گیا، جان کر آپ بھی غصے میں آ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فہد مصطفی لالی ووڈ انڈسٹری کا بڑا نام بن چکے ہیں جو کئی کامیاب ڈراموں میں مختلف کردار ادا کر چکے ہیں جبکہ کئی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔ لیکن انہیں گیم شو ”جیتو پاکستان“ کے باعث پاکستان بھر میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔بھارتی اداکارہ سارہ خان کی بہن نے ان کی برہنہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی، جس نے دیکھی شرم سے آنکھیں ہی بند کر لیں، انٹرنیٹ پر طوفان برپا ہو گیا 

کئی سالوں سے جاری یہ گیم شو اس وقت پاکستان کے مقبول ترین شوز میں سے ایک ہے جس میں سونے اور گاڑیوں سمیت کئی قیمتی انعامات دئیے جاتے ہیں لیکن اگر تنازعات کی بات کی جائے تو ان کا یہ پروگرام بالکل بھی ”دودھ کا دھلا“ نہیں ہے جس میں مذاق کے نام پر حاضرین کی بے عزتی بھی کر دی جاتی ہے۔

پروگرام میں مختلف طریقوں سے لوگوں کو مذاق کا نشانہ بنانے پر کئی مرتبہ تنقید کی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر پروگرام میں زیادہ وزن والی خواتین کیلئے ایسے ایسے فقرے استعمال کئے جاتے ہیں کہ سننے والے کے شرم سے گال لال ہو جاتے ہیں، اب بھلا وزن کی وجہ سے کسی کو شرمندہ کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟

فہد مصطفی نے مزاحیہ بننے کے چکر میں ایک ایسی ہی معصوم بچی کیساتھ وہ شرمناک سلوک کر دیا کہ پورا پاکستان اس وقت آگ بگولہ ہے اور فہد مصطفی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ یہ لڑکی فہد مصطفی کا ایک بہت ہی خوبصورت ”خاکہ“ تیار کر کے پروگرام میں لائی۔

فہد مصطفی نے تعریف کرنے کے بجائے بچی کو شرمندہ کرنا شروع کر دیا اور مذاق ہی مذاق میں ایسا جملہ بول دیا کہ بچی کے چہرے پر شرمندگی واضح نظر آنے لگی۔ فہد مصطفی نے یہ بھی نہ سوچا کہ جب اس لڑکی کی سہیلیاں یہ پروگرام دیکھیں گی تو وہ اس کا کیسے مذاق اڑائیں گے اور اس بچی پر کیا بیتے گی۔

فہد مصطفی نے چند منٹ تک خاکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور حاضرین کو دکھانے کے دوران اپنے چہرے کے ایسے تاثرات دئیے کہ لڑکی نے بہت ہی برا خاکہ بنایا ہے اور ساتھ ہی میوزک بھی کچھ ایسا ہی بجایا گیا جبکہ فہد مصطفی نے خود بھی یہ کہہ دیا کہ کیا میں ایسا نظر آتا ہوں؟

یہ سب کچھ ہونے کے بعد بچی کے چہرے پر شرمندگی بالکل واضح تھی جس نے اس ملک کے ایک ’مہان‘ اداکار اور میزبان کا خاکہ تیار کرنے کیلئے دل و جان سے محنت کی اور یہ سوچ کر پروگرام میں لائی کہ اس کی تعریف ہو گی۔ اس لڑکی کی حالت ذیل میں دی گئی تصویر میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔

اب بھلا کوئی معصوم سا دل کیسے توڑ سکتا ہے؟ فہد مصطفی نے بچی کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے مذاق کی آڑ میں ایک طرح سے اسے حاضرین کے سامنے شرمندہ کر کے رکھ دیا اور اس کا دل توڑ دیا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ شائد وہ اس کے بعد ڈرائنگ کرنا ہی چھوڑ دے۔

 

اس پروگرام کو دیکھنے والا ہر شخص ایک ہی سوال کرنے پر مجبور ہے کہ یا فہد مصطفی نے ایسا کر کے آخر بچی کو کیا سمجھانے کی کوشش کی ہے؟ بہتر تو یہ تھا کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور دو چار تعریفی الفاظ بول کر اسے انعامات دے کر پروگرام آگے بڑھا دیا جاتا لیکن یہاں معصوم بچوں اور نوجوانوں کی خود اعتمادی اور کچھ کر دکھانے کے عزم سے زیادہ ’ریٹنگ‘ ضروری ہے۔

ایک صارف نے لکھا ”میں قسم کھاتا ہوں! یہ بہت ہی بے ہودہ انسان ہے۔ میں نے کل اس کا فضول سا پروگرام دیکھا جب میرے چھوٹے کزن دیکھ رہے تھے۔ میں تو بہت زیادہ بیزار ہو گیا۔ پورے شو کے دوران یہ مذاق کے نام پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو ذلیل کر رہا تھا۔ کبھی ’موٹی آنٹیوں‘ کو سٹیج پر بلا رہا تھا تو کبھی مضحکہ خیز طریقے سے لوگوں سے ڈانس کروا رہا تھا۔ پروگرام بہت ہی زیادہ بدمزہ تھا۔ یہ حاضرین کیساتھ جیسا سلوک کرتا ہے، میں تو دیکھ کر پاگل ہو جاتی ہوں“

ایک صارف نے کہا ”کامیڈی کے چکر میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں“

ایک صارف نے لکھا ”اوہ میرے خدا! ہاں۔ میرا مطلب ہم سب کو کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ کتنا گھٹیا ہے۔ اف، میرا تو خون کھول رہا ہے“

ایک اور صارف نے کہا ”یہ بہت ہی گھٹیا حرکت ہے اور اس کے علاوہ بچوں سمیت پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس کا پروگرام دیکھ رہی ہے۔ ہم کیسے اپنے بچوں کو آداب سکھائیں گے اور انہیں یہ بتائیں کہ دوسروں کیساتھ اچھے طریقے سے بات کرنی چاہئے جب ایک مشہورشخصیت ہی قومی چینل پر آئے اور 5 سال سے 50 سال کی عمر تک کے تمام افراد سے ایک ہی جملہ کہے کہ ”تو جا“ ۔ یہ بچوں کیساتھ بھی ایسے ہی بات کرتا ہے۔ بچوں کیساتھ کوئی ایسے کس طرح بات کرسکتا ہے۔“

ایک صارف نے لکھا ”یہ کتنا ہی گھٹیا انسان ہے“

ایک صارف نے کہا ”میں تو سمجھنے سے قاصر ہوں۔۔۔ یہ کامیابی کیساتھ انسانیت کیوں بھول جاتے ہیں“

ایک صارف نے لکھا ”الو کے پٹھے کیوں بن جاتے ہیں“

سوشل میڈیا صارفین بچی کا دفاع کرتے نظر آئے جیسا کہ ایک صارف نے لکھا ”ڈرائنگ بہت ہی خوبصورت تھی!!! کیسا ہی گھٹیا انسان ہے! اس نے ناپختہ ٹیلنٹ کو رسوا کرنے کی جرات بھی کیسے کی!“

ایک صارف نے کہا ”سکول جانے والی بچی تھی۔ جب وہ اگلی مرتبہ سکول جائے گی اور بچے نے اگر اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا تو؟ کون ذمہ دار ہو گا اس کا؟؟“

ایک صارف نے لکھا ”ایک مرتبہ اس نے حاضرین میں سے بولنے والے ایک شخص سے کہا تھا کہ ”پہلے نہا کے تو آ جا!“، میں بہت غضبناک ہو گیا تھا،اگر اس کی جگہ میرا باپ، بھائی حتیٰ کہ کوئی دوست بھی ہوتا تو میں پریشان ہو جاتا۔ حاضرین میں بیٹھے بہت سے لوگ عام طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، صرف اس لئے یہ ان کا فائدہ اٹھاتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ بغیر نتائج کے لوگوں کو ذلیل کر سکتا ہے“

ایک صارف نے لکھا ”اس سب نے میرا دل توڑ دیا ہے۔ میں تو اب!!!“

ایک صارف نے کہا ”میں نے ہمیشہ اسے لوگوں کی بے عزتی کرتے دیکھا ہے۔ وزن، قد اور حتیٰ کے رنگ و معاملے پر بھی یہ لوگوں کو بے عزت کرتا ہے۔ لوگوں کو بھی اس بے عزتی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جب انہیں بعد میں انعام مل جاتا ہے۔ یہ لوگوں کا اپنا قصور ہے جنہوں نے اسے ایک چھوٹی سے معصوم بچی کو بھی بھرے مجمعے میں شرمندہ کرنے کی اجازت دیدی ہے“

ایک صارف کا کہنا تھا ”یہ میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ جب میں بچی تھی تو ایک خاکہ بنایا جس پر تنقید ہوئی۔ میں نے اس کے بعد سے ڈرائنگ کرنا ہی چھوڑ دی۔ کئی سالوں بعد، میں نے اپنے بچوں کے خاکے بنائے جو اتنے اچھے تھے کہ لوگوں نے اپنے خاکے بنانے کیلئے فرمائشیں شروع کر دیں۔ مجھے دوبارہ کوئی خاکہ بنانے کی ہمت کرنے میں 30 سال لگے کیونکہ کئی سالوں پہلے کسی نے بہت معصوم سا دل توڑ دیا تھا“

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح /علاقائی /پنجاب /لاہور /سندھ /کراچی