وہ دعا جس میں اسم اعظم پوشیدہ ہے , یہ کس نبیؑ سے منسوب ہے ،جان کر آپ بھی اس کو اپنے مسائل کے حل کے لئے استعمال کرسکتے ہیں 

وہ دعا جس میں اسم اعظم پوشیدہ ہے , یہ کس نبیؑ سے منسوب ہے ،جان کر آپ بھی اس کو ...
وہ دعا جس میں اسم اعظم پوشیدہ ہے , یہ کس نبیؑ سے منسوب ہے ،جان کر آپ بھی اس کو اپنے مسائل کے حل کے لئے استعمال کرسکتے ہیں 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگر کوئی بندہ مومن اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ سے اپنی مغفرت کا طلب گار ہو تو اْسے دعائے یونسؑ کا سہارا لینا چاہئے ۔ کیونکہ اس دعا میں کلمہ توحید بھی ہے، تسبیح بھی اور استغفار بھی ہے۔موجودہ دور میں ہر کوئی گھر کاروبار اور روحانی و جسمانی تکالیف میں گرفتار ہے تو اس دعاکے وسیلہ سے ہرکوئی اپنی خطاوں کی معافی مانگ کر اللہ سے اپنے حق میں بہتر دعا کرسکتا ہے ۔

مصائب اور رنج والم میں حضرت یونس ؑ کی یہ دعا پڑھنا اہل اسلام میں معمول رہا ہے ۔ اس دعا کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو عراق موصل کے علاقے نینویٰ والوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ آپؑ اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن آپؑ کی قوم آپؑ کی تکذیب کرتی رہی اور کفر و عناد پر اڑی رہی۔ ایک مدت کی تبلیغ کے بعد جب آپؑ بالکل مایوس ہوگئے کہ قوم ایمان لانے والی نہیں اور عذابِ الٰہی کا وقت قریب آگیا تو آپؑ اپنی قوم کو تین دن کے بعد عذابِ الٰہی کی وعید سنا کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے نکل گئے اور مشکل سے دوچار ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا۔اس پر سورہ القلم میں ارشاد باری تعالٰی ہے’’ پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اْس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا‘‘

حضرت یونس ؑ کو جلد اپنی غلطی کا ادراک ہوگیا توآپؑ نے اپنے آپ کو ملامت کیا اور مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے قید خانے سے اللہ کو پکارا۔ان الفاظ میں پکارا جوکہ سورہ الانبیا میں موجود ہیں ۔

لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الضالمین 

یہ دعا بھی کلمہ توحید ہے اور اس بات کی گواہی دیتی اور اعتراف کراتی ہے کہ انسان خطاکار ہے اور اللہ ہی خدائے واحد ہے جس کی شان کبریائی سے انسان مصائب سے بچ سکتا ہے ۔اسکے سوا دنیا کا کوئی انسان اسکی مدد نہیں کرسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےﷺ نے فرمایا۔ ’’یعنی یونس علیہ السلام کی وہ دعاء جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر مانگی تھی ، جو مسلمان اپنے کسی بھی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعاء کرے گا اللہ تعالٰی اس دعاء کو قبول فرماویں گے۔‘‘

جو کوئی بھی کسی بھی قسم کی مصیبت میں گرفتار ہو اسے چاہئے کہ ایک تسبیح روزانہ اس دعا کو پڑھا کرے اور اہل خانہ کو بھی اس میں شریک کیا کرے ۔کیونکہ احادیث میں موجود ہے کہ جو بھی اس دعا کے وسیلہ سے مانگ گا ،اللہ اسکی مراد پوری فرمائیں گے ۔ مشائخ کرام نے اس دعا کو اسم اعظم بھی قراردیا ہے ۔ پیر ابو نعمان رضوی سیفی فی سبیل للہ روحانی رہ نمائی کرتے اور دینی علوم کی تدریس کرتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پررابطہ کیا جاسکتا ہے۔peerabunauman@gmail.com 

مزید : روشن کرنیں