’’ اللہ کے وہ دونبی ؑ جو ماہ رمضان کے دوران بیت المقدس میں تشریف لاتے اور روزے رکھتے ہیں ‘‘ ایک ایسی روایت جس کے بارے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ ۔۔۔

’’ اللہ کے وہ دونبی ؑ جو ماہ رمضان کے دوران بیت المقدس میں تشریف لاتے اور ...
’’ اللہ کے وہ دونبی ؑ جو ماہ رمضان کے دوران بیت المقدس میں تشریف لاتے اور روزے رکھتے ہیں ‘‘ ایک ایسی روایت جس کے بارے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری)روایات کی بنیاد پر ہر مذہب میں عقیدے جنم لیتے ہیں لیکن اسلام نے ہر اس روایت کو یکسر رد کیا ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔تاہم اسلام میں ایسی بہت سی روایت مشہور ہیں کہ جنہیں مفسرین نے اسرائیلیات کہہ کر رد کیا لیکن بہت سے مسلمان ان روایات میں فرق قائم نہیں کرپاتے اور سوچ لیتے ہیں کہ یہی بات سچ ہوگی۔حضرت مولانا عبدالرحمن نے اپنی تحقیقی’’ہدایت کے چراغ ‘‘ میں انبیاء کرام کی سوانحات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان سے منسوب اسرائیلیات کا بھی ذکر کیا ہے کہ کس طرح ایسی حکایات کی بنا پر لوگوں کا ایمان خراب کیا جاتا ہے تاہم اسلام میں اسرائیلیات کو ماننے اور ان کو جھٹلانے کے معاملے میں صرف خاموشی کا درس دیا گیاہے ۔انہوں نے کتاب میں اللہ کے دو انبیاء حضرت خضرؑ اور حضرت ادریس ؑ بارے لکھا ہے کہ اسرائیلی روایات کے مطابق یہ دونوں نبیؑ ہر سال ماہ رمضان میں بیت المقدس میں اکٹھے ہوتے اور روزے رکھتے ہیں ۔اس بارے میں محقق نے مفسرین کے دلائل بھی شامل کئے ہیں ۔

مولانا عبدالرحمن نے لکھا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کی طرح حضرت الیاس علیہ السلام کی حیات کے بارے میں بھی مؤرخین اور مفسرین نے تفصیلی بحث کی ہے۔ تفسیر مظہری میں علامہ بغویؒ کے حوالہ سے جو طویل روایت بیان کی گئی ہے اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ ’’حضرت الیاس علیہ السلام کو ایک آتشین گھوڑے پر سوار کر کے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا تھا اور وہ حضرت عیسےٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں‘‘

علامہ سیوطیؒ نے بھی ابن عساکر اور حاکم کے حوالے سے کئی ایک روایات نقل کی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔

کعب اخبارؓ سے ایک روایت منقول ہے کہ چار انبیاء کرام ابتک زندہ ہیں ۔دوزمین میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام اور دو آسمان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام۔

بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خصرؑ اور حضرت الیاس علیہ السلام ہر سال رمضان المبارک میں بیت المقدس میں جمع ہوتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں۔

لیکن مشہور ناقد حدیث حافظ ابن کثیرؒ نے اِن روایات کو صحیح قرار نہیں دیا ۔ ان جیسی روایات کے بارے میں اُن کا اپنا یہ فیصلہ ہے۔یہ اُن اسرائیلی روایات میں سے ہیں جنکی نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان روایات کی صحت بعید تر ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کعب احبار اور روہب بن منبہؒ جیسے علماء نے جو اہل کتاب کے علوم کے ماہرین میں سے تھے ۔ اس قسم کی روایات مسلمانوں کے آگے بیان کی ہونگی جس سے حضرت الیاس علیہ السلام کی حیات کانظریہ مسلمانوں میں پھیل گیا۔ ورنہ قرآن و حدیث میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی جس سے ان کی حیات کا عقیدہ قائم کیا جا سکے یا یہ کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھالئے گئے ہوں۔ البتہ ایک روایت مستدرک حاکم میں ملتی ہے جس میں یہ بات مذکور ہے کہ تبوک کی راہ میں نبی کریمﷺ کی ملاقات حضرت الیاس علیہ السلام سے ہوئی تھی۔ لیکن اس روایت کو محدثین نے موضوع (گھڑی ہوئی ) قرار دیا ہے ۔ مشہور ناقد حدیث علامہ ذہبیؒ اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’یہ حدیث موضوع ہے ۔اللہ اُس کا بُرا کرے جس نے حدیث گھڑی ہے۔ اس سے پہلے میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ امام حاکم کی بی خبری اس حد تک پہنچ سکتی ہے کہ وہ اس حدیث کو صحیح قرار دیں‘‘

الغرض کسی سند صحیح سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام بقید حیات ہیں۔لہٰذا اس معاملہ میں احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ سکوت اختیار کیا جائے اور اسرائیلی روایات کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیم پر عمل کیا جائے کہ

’’نہ اُن کی تصدیق کرو نہ تکذیب ‘‘کیونکہ قرآن حکیم کی تفسیر اور عبرت و نصیحت کا مقصد اس کے بغیر بھی پورا ہوجاتا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /روشن کرنیں