’میں ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھی، اچانک ساتھ بیٹھے مسافر کے موبائل فون پر نظر پڑی تو رونے پر مجبور ہوگئی کیونکہ وہ شخص میرے۔۔۔‘ خاتون مسافر نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر انسان کو اس سے ہمدردی ہوجائے

’میں ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھی، اچانک ساتھ بیٹھے مسافر کے موبائل ...
’میں ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھی، اچانک ساتھ بیٹھے مسافر کے موبائل فون پر نظر پڑی تو رونے پر مجبور ہوگئی کیونکہ وہ شخص میرے۔۔۔‘ خاتون مسافر نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر انسان کو اس سے ہمدردی ہوجائے

  

شکاگو(نیوز ڈیسک)بعض لوگ بہت ہی بے حس ہوتے ہیں، اتنے بے حس کہ کسی کے منہ پر اس کا مذاق اڑانے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ امریکی خاتون سوانا فلپس کو گزشتہ روز فضائی سفر کے دوران احساس سے عاری ایک ایسے ہی شخص سے واسطہ پڑ گیا جس نے ساتھ بیٹھتے ہی ایسی حرکت کی کہ بیچاری سوانا بے بسی کے ساتھ آنسو بہانے پر مجبور ہو گئیں۔

ویب سائٹ indy100 کے مطابق سوانا اوکلاہوما سے شکاگو کے لئے روانہ ہو رہی تھیں اور بدقسمتی سے یہ شخص ان کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ”میں اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھی ہی تھی کہ ساتھ بیٹھے مسافر نے اپنا موبائل فون نکالا اور اس پر میسج لکھنے لگا۔ اس کے فون کی سکرین خاصی بڑی تھی اور میسج کے الفاظ کا سائز بھی معمول سے کافی زیادہ تھا، گویا وہ جان بوجھ کر مجھے دکھانا چاہ رہا تھا کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ وہ اپنے فون کو اپنے سامنے بلند کر کے اس پر لکھ رہا تھا ’میں ایک موٹی بدبودار عورت کے ساتھ بیٹھا ہوں۔‘ جب میں نے یہ الفاظ دیکھے تو میرا دل ٹوٹ کر رہ گیا۔ وہ میری توہین کر رہا تھا اور میں خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ “

اگرچہ سوانا اپنے ساتھی مسافر کی بے حسی سے بہت دل گرفتہ ہوئیں لیکن پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ ان کے آنسو مسکراہٹ میں بدل گئے۔ یہ کیونکر ممکن ہوا، سوانا نے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ”میرے پیچھے بیٹھا مسافر بھی دیکھ رہا تھا کہ آگے بیٹھا شخص اپنے فون پر کیا لکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ساتھ بیٹھے شخص کے کندھے کو چھوا اور کہنے لگا ’ہم دونوں آپس میں سیٹ تبدیل کر رہے ہیں، ابھی اور اسی وقت۔‘ میرے ساتھ والے مسافر نے ایک لمحے کو بے یقینی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا اور پھر خاموشی سے اٹھ کر پچھلی سیٹ پر چلا گیا۔ اب میرے ساتھ یہ شفیق شخص بیٹھا تھا جس کا نام چیزارون تھا اور وہ نیشول میں ایک ریسٹورنٹ کا مالک تھا۔ اس نے میرے آنسو پونچھے اور مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ فضول لوگوں کی بات کو دل پر نہیں لیتے۔میں یہ پوسٹ صرف اس لئے شئیر کر رہی ہوں کہ اس بھلے مانس شخص کا شکریہ ادا کر سکوں اور اسے بتا سکوں کہ آپ میرے لئے ہیرو ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی