’ساتھ والے گھر میں جو انکل رہتے ہیں انہوں نے مجھے بلایا اور۔۔۔‘ 8 سالہ بچی نے اپنے باپ کو ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ واقعی پورے خاندان کے پیروں تلے زمین نکال دی، اس کی۔۔۔

’ساتھ والے گھر میں جو انکل رہتے ہیں انہوں نے مجھے بلایا اور۔۔۔‘ 8 سالہ بچی نے ...
’ساتھ والے گھر میں جو انکل رہتے ہیں انہوں نے مجھے بلایا اور۔۔۔‘ 8 سالہ بچی نے اپنے باپ کو ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ واقعی پورے خاندان کے پیروں تلے زمین نکال دی، اس کی۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی(نیوز ڈیسک)بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات کے بارے میں ہم ہر روز سنتے ہیں لیکن شاید کبھی اس بھیانک جرم کے اسباب و عوامل کے بارے میں غور کی زحمت نہیں کرتے۔ یہ سفاک درندے ہمارے ارد گرد ہی موجود ہوتے ہیں، اور اکثر اوقات والدین اور ان کے بچوں کی ناصرف ان سے شناسائی ہوتی ہے بلکہ وہ ان پر بھروسہ بھی کرتے ہیں۔ ان کی اصل حقیقت اسی وقت کھلتی ہے جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی المناک واقعہ بھارت سے سامنے آیا ہے جہاں ایک 53 سالہ شخص اپنے ہمسائے کی کمسن بچی کو کئی ماہ سے ہوس کا نشانہ بنا رہا تھا اور بچی کے والدین کو اس معاملے کی خبر تک نا تھی۔ 

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آٹھ سالہ بچی اپنی کم سنی اور کم فہمی کے باعث کئی ماہ سے زیادتی کا نشانہ بننے کے باوجود خاموش تھی۔ چند دن قبل جب وہ ایک فلم دیکھ رہی تھی تو اس میں ایک بچی کے ساتھ جنسی جرائم کی منظر کشی دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ یہ سب کچھ تو خود اس کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ تب ہی اس نے اپنے والد کو بتایا کہ ہمسائے میں رہنے والا ادھیڑ عمر شخص، جسے وہ انکل کہتی تھی، اس کے ساتھ کیا کچھ کرتا تھا۔ یہ بدبخت 53 سالہ ونود اوپادھے ہے جو آٹھ ماہ سے بچی کو حیوانیت کا نشانہ بنارہا تھا۔

بچی کے والد نے یہ تمام ماجرا جاننے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا جس پر ونود کو گرفتارکرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شیطان صفت شخص بچی کو چاکلیٹ اور ٹافیوں کا لالچ دے کر اپنے پاس بلاتا تھا اور پھر اسے ڈرائنگ سکھانے کے بہانے اپنے کمرے میں لیجاتا تھا جہاں اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔ مزید شرمناک بات دیکھئے کہ اس بے حیا شخص کی اپنی 24 سالہ بیٹی ہے جو اسی گھر میں مقیم ہے جہاں یہ ننھی بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتا تھا۔ اس کے ہمسائے اور آس پاس کے لوگ بھی اسے ایک بھلے مانس شخص سمجھ کر اس پر اعتماد کرتے تھے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بتانے کے لئے یقیناً بہت کافی ہے کہ بطور والدین یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ بچوں کے معاملے میں ہرگز کسی پر اعتبار نا کریں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس