’ہمارے محلے میں مقیم حاجی صاحب اور ان کی بیگم نے شادی پر جانا تھا، وہ اپنے بیٹا بیٹی کو گھر پر چھوڑ گئے، واپس آئے تو پتہ چلا کہ لڑکے نے اپنی بہن کا ہی ریپ کردیا، اس کے بعد انہوں نے۔۔۔‘

’ہمارے محلے میں مقیم حاجی صاحب اور ان کی بیگم نے شادی پر جانا تھا، وہ اپنے ...
’ہمارے محلے میں مقیم حاجی صاحب اور ان کی بیگم نے شادی پر جانا تھا، وہ اپنے بیٹا بیٹی کو گھر پر چھوڑ گئے، واپس آئے تو پتہ چلا کہ لڑکے نے اپنی بہن کا ہی ریپ کردیا، اس کے بعد انہوں نے۔۔۔‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اسے اخلاقی زوال کی انتہا کہہ لیجئے یا کچھ اور، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب ہمیں اپنے اردگرد سے ایسی باتیں بھی سنائی دینے لگی ہیں کہ جن کے بارے میں جان کر بھی دل نہیں مانتا کہ ایسی بے حیائی اور ایسی حیوانیت ہمارے معاشرے میں ہو رہی ہے۔ گمراہی و بے حیائی اور سفاکی و درندگی پر مبنی ایک ایسی ہی سچی کہانی سوشل میڈیا ویب سائٹ ریڈٹ پر برگربوائے نامی صارف نے بیان کی ہے۔ یہ نوجوان اپنے محلے کے ایک تاریک راز سے پردہ اٹھاتا ہوئے لکھتا ہے:

’’ہمارے محلے کے تقریباً سب خاندان 70 کی دہائی سے یہاں آباد ہیں اور سب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمارے ہمسایوں میں سے ایک حاجی صاحب بھی ہیں جن کا ایک بیٹا نشے کا عادی ہوگیا تھا اور اپنے گھر والوں کے لئے بہت بڑی مصیبت بن گیا تھا۔ کئی سال تک اس کا علاج کروانے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن وہ پھر نشہ شروع کردیتا تھا۔ ایک بارحاجی صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی شادی پر گئے اور بیٹے سے کہا کہ وہ گھر پر رہے اور اپنی بہن کا خیال رکھے۔ جب رات گئے وہ واپس آئے تو پتہ چلا کہ بدبخت بیٹے نے نشے میں دھت ہوکر اپنی ہی بہن کی عصمت دری کر ڈالی تھی۔ 

حاجی صاحب نے نشے میں مدہوش اپنے بیٹے کو ایک الگ کمرے میں رسیوں سے باندھ دیا۔ پھر انہوں نے اپنی اہلیہ سے بیٹی کا خیال رکھنے کو کہا اور خود رات کے پچھلے پہر بیٹے کو گاڑی میں ڈال کر باہر روانہ ہوگئے۔ وہ ایک ویران مقام پر گئے اور بیٹے کو گاڑی سے باہر نکال کر گولی ماردی۔ 

واپس آکر وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ سیدھے ہمارے گھر آئے اور بتایا کہ اس رات ان کے ساتھ کیا کچھ ہوچکا تھا۔ انہوں نے اپنے قریبی جاننے والے کچھ دیگر بزرگوں کو بھی اعتماد میں لیا۔ سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ناخلف بیٹے کے ہاتھوں حاجی صاحب کی زندگی عذاب بن چکی تھی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ ہمارے ایک ہمسائے ایس ایس پی تھے۔ انہوں نے حاجی صاحب کے بیٹے کی لاش برآمد کروائی اور رپورٹ میں لکھوادیا کہ وہ نشہ خریدنے گیا تھا جہاں لڑائی جھگڑے پر اسے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ ان کے بیٹے کا جنازہ پڑھا کر اسے دفن کر دیا گیا اور پھر سب گویا اس بات کو بھول ہی گئے۔ میرا خیال ہے کہ اس بات کو 15 سے 20 سال گزرگئے ہیں اور میں نے کبھی اس کے متعلق کسی کو بات کرتے نہیں سنا۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس