’ہم نے یمن سے سعودی عرب پر فائر کئے جانے والے میزائلوں کے ملبے کا معائنہ کیا ہے جس سے پتہ لگا ہے کہ۔۔۔‘ اقوام متحدہ نے انتہائی خطرناک انکشاف کردیا، پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ۔۔۔

’ہم نے یمن سے سعودی عرب پر فائر کئے جانے والے میزائلوں کے ملبے کا معائنہ کیا ...
’ہم نے یمن سے سعودی عرب پر فائر کئے جانے والے میزائلوں کے ملبے کا معائنہ کیا ہے جس سے پتہ لگا ہے کہ۔۔۔‘ اقوام متحدہ نے انتہائی خطرناک انکشاف کردیا، پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(نیوز ڈیسک)سعودی پر یمن سے داغے جانے والے میزائلوں کے بارے میں سعودی مؤقف تو شروع سے واضح ہے کہ ان کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے مگر اب پہلی بار اقوام متحدہ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ان میزائلوں میں ایرانی ساختہ پرزے استعمال ہوئے ہیں اور ان کا ڈیزائن بھی ایرانی میزائلوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ 

خلیج ٹائمز کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے پرزے ایرانی ساختہ ہیں جبکہ ان کا ڈیزائن ایرانی میزائلوں سے ملتا جلتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سکیورٹی کاؤنسل کو بھیجی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایرانی میزائلوں کے پرزے ایران پر 16جنوری 2016ء کو عائد کی جانے والی پابندیوں سے پہلے منتقل کئے گئے یا اس کے بعد۔مزید یہ کہ حال ہی میں ایک لاوارث کشی سے برآمد ہونے والے اسلحے اور بارودی میزائل کا الزام بھی ایران پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم اس اسلحے اور بارودی مواد کے بارے میں بھی واضح نہیں کہ یہ ایران پر عائد کئے جانے والی پابندیوں کے بعد باہر منتقل ہوا یا اس سے پہلے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس