بچے کو آئس کریم کیوں نہیں کھلائی؟حکومت ماں سے اس کا بچہ ہمیشہ کیلئے چھیننے والی تھی کہ عدالت نے روک دیا ، اصل کہانی جان کر آپ کو یقین نہیں آ ئے گا 

بچے کو آئس کریم کیوں نہیں کھلائی؟حکومت ماں سے اس کا بچہ ہمیشہ کیلئے چھیننے ...
بچے کو آئس کریم کیوں نہیں کھلائی؟حکومت ماں سے اس کا بچہ ہمیشہ کیلئے چھیننے والی تھی کہ عدالت نے روک دیا ، اصل کہانی جان کر آپ کو یقین نہیں آ ئے گا 

  

لندن(نیوز ڈیسک) بچوں کا خیال رکھنا بہت اچھی بات ہے لیکن اہل مغرب تو بچوں کے حقوق کے معاملے میں کچھ ایسے جذباتی ہو ئے ہیں کہ اس چکر میں بیچارے والدین کے حقوق بری طرح پامال ہونے لگے ہیں۔ برطانیہ میں پیش آنے والے اس انوکھے واقعے کو دیکھ لیجئے جہاں ایک سوشل ورکر نے ایک ماں کو اس بناء پر بچے کی پرورش کے حق سے محروم کر دیا کہ وہ اپنے بچے کو آئس کریم لے کر نہیں دے رہی تھی۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق خاتون سوشل ورکر نے جب دیکھا کہ بچہ ضد کر رہا ہے اور اس کی ماں اسے آئس کریم لے کر نہیں دے رہی تو اس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی۔ اس تفتیش کے دوران ایک اور ’خوفناک‘ انکشاف سامنے آیا کہ وہ تو بچے کے بال بھی اس کی مرضی کے مطابق نہیں کٹواتی تھی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اس سے بڑھ کر ایک بچے کے ساتھ کیا ظلم ہو سکتا ہے؟ تو جناب اس سوشل ورکر نے خاتون کو عدالت لے جانے کا فیصلہ کیا اور زیریں عدالت کے جج نے بھی فیصلہ سنا دیا کہ مذکورہ خاتون کو بچے کی پرورش کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں بچے کو تحویل میں لے کر ایک سرکاری ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔

جب یہ کیس اپیل کے لئے اعلٰی عدالت میں پہنچا تو سماعت کرنے والے جج نے یہ بات سن کر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ آئس کریم نہ دلوانے پر ایک ماں سے اس کا بچہ چھین لیا گیا۔ اس کے باوجود خاتون سوشل ورکر بھی کہاں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والی تھی۔ اس نے اپنے دفاع میں 44 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا کہ کس طرح آئس کریم نا ملنے اور مرضی کی کٹنگ نا ہونے سے بچے کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے تھے، بلکہ اس پر جذباتی و نفسیاتی تشدد ہو رہا تھا۔ اس رپورٹ پر جج کہنا تھا ’’یہ بہت طویل اور لفاظی سے بھرپور مگر دراصل بہت مختصر ہے کیونکہ اس میں ایسی ٹھوس مثالوں کی بہت کمی ہے جن سے ثابت ہو کہ ماں اپنے بچے کی اچھی پرورش میں ناکام ہو رہی تھی۔‘‘ عدالت نے خاتون سوشل ورکر کے مؤقف کو رد کیا اور یوں بصد مشکل بالآخر بچہ ماں کو واپس مل سکا۔

مزید : بین الاقوامی