بائیو میٹرک لازمی ہے یا نہیں؟ سعودی عرب کی طرف سے واضح پالیسی نہ آ سکی

بائیو میٹرک لازمی ہے یا نہیں؟ سعودی عرب کی طرف سے واضح پالیسی نہ آ سکی

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)عازمین حج2018ء بائیو میٹرک لازمی ہیں یا نہیں سعودی عرب کی طرف سے کلیر پالیسی نہ آنے کی وجہ سے وزارت مذہبی امور نے احتیاطی اقدام کے طور پر ملک بھر کے ڈائریکٹر زکا ہنگامی اجلاس 22 جون کو اسلام آبا میں طلب کر لیا ،وزارت مذہبی امور نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے اگر سعودی حکومت نے اچانک بائیو میٹرک کا فیصلہ مسلط کر دیا تو سرکاری سکیم کے عازمین کے پاسپورٹ جو ملک بھر سے وزارت نے اکٹھے کر لیے ہیں ان کو بائیو میٹرک کے لیے حاجی حضرات کو کیسے دئیے جائیں گے ،حاجیوں کے فنگر پرنٹس فوری کیسے کروائے جائیں گے اور کہاں سے کروائے جائیں گے لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔وزارت مذہبی امور کے ذرائع نے بتایا کہ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے سعودی وزیر داخلہ سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ پاکستانی عازمین حج کے بائیو میٹرک بھی ملائشیاء کی طرز پر لیے جائیں پاکستانی ائیر پورٹ پر ہوں سعودی عرب میں حاجی کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے،سعودی عملہ پاکستانی ائیر پورٹ پر سعودی عرب میں انٹری کی مہر لگالے تا کہ وقت بھی بچے اور خواری بھی نا ہو،معلوم ہوا ہے کہ سعودی وزیر نے رضا مندی ظاہر کی تھی ،معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے حج2018ء میں جانے والے ایک لاکھ 84ہزار210عازمین کے فنگر پرنٹس اعتماد کے ذریعے نہ لینے کی بھی درخواست کی تھی جس پر اب تک جواب نہیں آیا ،سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے عازمین کے لیے بائیو میٹرک کرانے کے حوالے سے مارکیٹ میں خبریں سب افواہیں ہیں ان افواہوں کی وجہ سے مجبوراََ وزارت کو احتیاطی اقدام کے طور پر انتظامات کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر