ملتان میں جوڑ توڑ عروج پر، ن لیگ اور تحریک انصاف میں ون ٹو ون مقابلہ متوقع

ملتان میں جوڑ توڑ عروج پر، ن لیگ اور تحریک انصاف میں ون ٹو ون مقابلہ متوقع

ملتان (سٹی رپورٹر،نیوز رپورٹر) ملتان بھر کی سیاست میں جوڑ توڑ عروج پر ہے اورن لیگ اور پی ٹی آئی میں ون ٹوون مقابلہ متوقع ہے۔تفصیلات کے مطابق پی پی217اور پی پی 218 میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،انتخابات کی تیاریاں جوڑ توڑ کی سیاست کا سلسلہ عروج پر ہے ،پی پی217سے25 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کراکرالیکشن کے میدان میں آنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ پی پی218سے16 امیدوارمیدان میں ہیں،یہ حلقہ 13 یونین کونسلز پر مشتمل ہے جن میں سے 5 یونین کونسلز آرائیں برادری کا پاکٹ ووٹ بینک ہیں/ پی پی217میں پی ٹی آئی کی طرف سے محمدسلمان نعیم،مخدوم شاہ محمودحسین قریشی،راناعبدالجبار،مسلم لیگ ن کی جانب سے تسنیم کوثر(بیگم عبدالوحیدآرائیں )،راناشاہد، ایم ایم اے کی طرف سے خالدمنیر پیپلز پارٹی کی طرف سے آصف رسول اعوان، ارشداقبال ملک متوقع امیدوار ہیں ،دیگر امیدواروں میں ساجدحمید،نویداحمد،راضیہ رفیق،محمود،ندیم احمد،رؤف شبیر،طفیل اسحاق،محمداسلم،عبدالخالق ،محمدحسین،محمدالطاف خان، کلثوم ناز،چوہدری عبدالوحید،چوہدری عبدالخالق،مظہر عباس ساجد،عبدالاحدبھٹہ،محمداشرف ،جمیل احمدشامل ہیں،یہاں سے پی ٹی آئی کی طرف سے اب تک رانا عبدالجبار اور سلمان نعیم نے خاصی دوڑ دھوپ کی مگر اب شاہ محمود بھی اس حلقے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں جس کیوجہ سے صورتحال دلچسپ ہوچکی ہے، یہاں گزشتہ دور میں چوہدری وحید آرائیں ہی ایم پی اے تھے، عدالتی حکم پر انکی نااہلی کی وجہ سے رانا محمودضمنی الیکشن میں ایم پی اے منتخب ہوئے تاہم ن لیگ کے پارٹی ووٹ بینک کے علاوہ وحید آرائیں کا یہاں اثر ورسوخ خاصا موثر ہے اور مسز وحید آرائیں کو ن لیگ ک طرف سے پارٹی ٹکٹ کے لیئے فائنل کرلیاگیا ہے اور انکی جیت کے امکانات بھی بہت ذیادہ ہیں،واضح رہے کہ اس حلقے میں بھٹہ برادری کا خاصاووٹ بینک ہے مگربھٹہ برادری کا وو ٹ اس بر تقسیم ہوچکا ہے کیونکہ مختلف پارٹیوں کے حامی اب اس برادری میں موجود ہیں جبکہ پی پی218سے16 امیدوارمیدان میں ہیں۔ن لیگ کی طرف سے متوقع امیدوار نسیم حسین راں ہوسکتے ہیں جبکہ ملک عبدالغفارڈوگر نے بھی کاغذات جمع کرارکھے ہیں اور پی ٹی آئی کی طرف سے محمداخترملک، مظہرعباس راں پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں،پیپلز پارٹی کی طرف سے ملک محمد عباس راں ،رائے عارف منصب اور رائے منصب علی متوقع امیدواران میں شامل ہیں۔ دیگر امیدواران میں مظہراقبال، عاطف مظہر، ملک اسدعباس راں، محمد ساجد،ظفراحمد،عبدالشکور،اللہ رکھا، نسیم حسین،خرم نسیم راں، ناصرمحمود،چوہدری عبدالغفور، محمد وقاص ڈوگرشامل ہیں۔ تاہم اس حلقے ن لیگ ،پی ٹی آئی،پیپلز پارٹی نے تاحال فیصلہ نہیں کیا نہ کسی کو پارٹی ٹکٹ کیلئے فائنل کیا ہے، یہاں راں برادری کا ووٹ بہت اہمیت کا حامل ہے یہاں پہلے مظہر عباس راں ایم پی اے رہے اور اب وہ دوبارہ بھی امید وار ہیں ، پی ٹی آئی کے اختر ملک بھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے یہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ون ٹوون مقابلہ متوقع ہے‘ تاہم پیپلزپارٹی کے دیہی علاقوں کے ووٹ بینک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ پیپلز پارٹی میں حالیہ شامل ہونے والے سیاسی عمائدین ذاتی اثرورسوخ بھی بہت زیادہ رکھتے ہیں ، پارٹی ٹکٹس جاری ہونے کے بعد یہاں زبردست انتخابی مہم کی گہماگہمی دیکھنے کوملے گی ۔دریں اثنا این اے 158سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے متعدد امیدوار میدان میں ہیں جن میں پیپلزپارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی‘ سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی‘ تحریک انصاف کے محمد ابراہیم خان اور (ن) لیگ کے سید جاوید علی شاہ سمیت عمران شوکت خان‘ لیاقت علی خان‘ زین علی شاہ‘ محمد طلال زیب اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میدان میں اترچکے ہیں۔ این اے 158کے الیکشن میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کیلئے علاقہ کی رانا برادری‘ سید برادری‘ ارائیں‘ جکھڑ‘ مڑل اور راجپوت برادری اہم کردار کی حامل تصور کی جاتی ہیں۔ (ن) لیگ سے سید جاوید علی شاہ اس حلقہ سے 2013ء میں منتخب ہوچکے ہیں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس حلقہ سے الیکشن لڑنے کے اعلان نے اس حلقہ کے معروضی حالات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے امیدوار محمد ابراہیم خان بھی (ق) لیگ کے پلیٹ فارم سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں۔ اسی حلقہ سے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں اور این اے 155سے بھی امیدوار ہیں۔ انہیں تاحال مسلم لیگ ن کی جانب سے ٹکٹ کنفرم نہیں ہوئی لیکن جاوید علی شاہ جیسے مضبوط امیدوار کی موجودگی میں انہیں این اے 158کا ٹکٹ ملنے کا امکان زیادہ روشن تو نہیں ہے لیکن سیاست میں کچھ بھی ممکن ہونے کے مصداق سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اگر یوسف رضا گیلانی‘ جاوید علی شاہ‘ محمد ابراہیم خان کے بعد مخدوم جاوید ہاشمی بھی اس حلقہ سے میدان میں اترتے ہیں تو این اے 158کا الیکشن اس خطے کا انتہائی دلچسپ الیکشن قرار پائے گا۔ بالخصوص (ن) لیگ کے امیدوار جاوید علی شاہ اس جیت کو برقرار رکھنے‘ سید یوسف رضا گیلانی کو وائس چیئرمین کے عہدے کی ساکھ کو بچانے اور محمد ابراہیم خان کو تبدیلی نظام کو یقینی بنانے اور مخدوم جاوید ہاشمی کو یہ تاثر دینے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ کے محتاج نہیں۔

ملتان

مزید : صفحہ آخر