مودی کی ہٹ دھرمی کا جواب…… مضبوط اور توانا پاکستان

مودی کی ہٹ دھرمی کا جواب…… مضبوط اور توانا پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کو امن کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لئے روس سمیت کسی بھی ثالثی کے لئے تیار ہے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، جنگ سے کسی کو بھی فائدہ نہیں، بھارت کے ساتھ تناؤ میں کمی چاہتے ہیں تاکہ ہمیں ہتھیار نہ خریدنے پڑیں ہم اپنا پیسہ انسانی ترقی پر لگانا چاہتے ہیں۔ روس کے ساتھ دفاعی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں،پاک فوج روسی فوج کے ساتھ رابطے میں ہے، اسلحے کی خریداری زیر غور ہے، تجارتی وفد جلد ماسکو جائے گا۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار بشکیک میں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے گئے ہوئے ہیں، روسی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا، بھارت بھی اس تنظیم کا رکن ہے اور مودی بھی اجلاس میں شریک ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات اس موقع پر طے نہیں، دونوں قریب قریب رہے،لیکن ایک دوسرے سے آنکھیں چار نہیں ہوئیں،وزیراعظم مودی نے پاکستان سے مذاکرات سے ایک بار پھر انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرے۔

پاکستان کی طرف سے نہ تو امن کی خواہش نئی ہے،نہ مذاکرات کی دعوت کا اعادہ کوئی پہلی دفعہ کیا گیا ہے اور نہ ہی مودی کی ہٹ دھرمی کوئی ایسی بات ہے،جس سے ہم بے خبر ہوں،گویا سب کچھ پہلے جیسا ہے نہ ہماری امن کی خواہش بدلی ہے، نہ اُن کی اٹکی ہوئی سوئی یک سر مو ہلی ہے،جس سے یہی الفاظ نکلتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرے،ایسے میں بار بار مذاکرات کی دعوت دینا بے توقیری کے مترادف ہے،اِس لئے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان اس بے کار مشق کو روک دے، کیا یہ ضروری ہے ہر بار دعوت دے کر مودی سے ایک ہی جواب سُنا جائے اور وہ بار بار دہشت گردی کے الزام کی جگالی کر کے دُنیا کو یہ بتانے کی ناکام سعی کرتے رہیں کہ پاکستان تو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

دُنیا بدل رہی ہے اور دُنیا کی پالیسیاں بھی بدل رہی ہیں، بھارت بھی خطے میں روس کی دوستی کے اثر سے نکل کر امریکی کیمپ میں جا گھسا ہے اور امریکہ بھی اس کی سرپرستی پر تُلا ہوا ہے۔امریکی لیڈر بھی بعض اوقات بھارت کی زبان بولنے لگتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا سب کچھ جھونکنے اور اپنی معیشت کو تباہ و برباد کروا لینے کے باوجود اب بھی ایسے طعنے سننے پڑتے ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف مزید اقدامات کرنے چاہئیں ایسے ہی بار بار کے اعلانات کے بعد پاکستان آرمی کے سربراہ نے برملا کہہ دیا تھا کہ ہم نے دہشت گردوں کے خلاف بہت کچھ کر لیا، ہم ڈومور نہ کریں گے کیونکہ اب ڈو مور کی باری دُنیا کی ہے،لیکن دُنیا غالباً چاہتی یہ ہے کہ اس بھٹی میں پاکستان جیسے ملک ہی ایندھن کا کام دیں اور بالآخر ان کی قربانیوں کے نتیجے میں امن کی جو فصل پک کر تیار ہو ساری کی ساری وہ کاٹ لے جائیں۔

وزیراعظم مودی موقع بے موقع پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام تھوپتے رہتے ہیں اور اگر کوئی عالمی اجتماع ہو تو اس میں بھی پاکستان پر الزام تراشی سے نہیں چوکتے، ایسی ہی ایک کانفرنس کے موقع پر مودی نے حسب ِ عادت پاکستان کے خلاف الزامات کی گھسی پٹی کیسٹ چلائی تو تقریب میں موجود روسی مندوب سے خاموش نہ رہا گیا اور انہوں نے صاف گوئی سے مودی کے سامنے کہہ دیا کہ وہ درست نہیں کہہ رہے، پاکستان دہشت گردی کا سرپرست نہیں، اس کا شکار ہے۔ اُنہی دِنوں روس اور پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں، روسی مندوب نے اس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے خود اس کا مشاہدہ کیا ہے اور اِس بات کی قائل ہو گئی ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔ مودی سے اس کا اور تو کوئی جواب نہ بن پڑا بس کھسیانے ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ پرانے دوست نئے دوستوں سے بہتر ہوتے ہیں۔

روس بے شک پاکستان کا ”نیا دوست“ ہے،بلکہ وہ خطے میں بعض نئے اقدامات بھی کر رہا ہے،جس کی وجہ سے روس اور چین کی سربراہی میں خطے کے ممالک کا ایک ایسا نیا بلاک بن سکتا ہے،جس سے بھارت اگر باہر ہی رہے تو اچھا ہے،کیونکہ اس نے اب تک شنگھائی تعاون تنظیم کو بھی آگے بڑھنے سے روکا ہوا ہے۔ سارک کو وہ پہلے ہی غیر موثر کر چکا ہے،نئی عالمی تقسیم میں بھی وہ امریکہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گیا ہے،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پوری طرح امریکہ کے سایہ عاطفت میں آ گیا ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ نیٹو میں واحد مسلمان ملک ترکی بھی امریکہ کے حلقہ اثر سے باہر نکل گیا ہے اور امریکی ناراضی کی پروا کئے بغیر اُس نے روس سے میزائلوں کا جدید دفاعی نظام ایس یو400خرید لیا ہے، روس کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں انتہائی ڈرامائی موڑ اُس وقت آیا تھا جب روسی صدر پیوٹن نے صدر رجب طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت سے اُنہیں خبردار کیا تھا جسے انہوں نے کمال مہارت و جرأت سے ناکام بنایا،اس کے بعد رجب طیب اردوان نے اظہارِ تشکر کے طور پر روس کا دورہ کیا، اور امریکہ سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا، جن کے پیرو کاروں کی ایک بڑی تعداد اُن کے خلاف ناکام بغاوت میں ملوث تھی، ابھی تک اس سلسلے میں تو کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،لیکن اردوان نے عالمی مدبر کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے ملک کو بڑی کامیابی کے ساتھ امریکی حلقہ اثر سے نکال لیا ہے اور روس سے جدید ترین ہتھیار بھی حاصل کر رہے ہیں،اس سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی ناراضی اور دھمکیوں تک کی پروا نہیں کی۔

پاکستان اگر بدلے ہوئے حالات میں روس کے قریب جا رہا ہے یا اپنی خارجہ پالیسی بدلے ہوئے حالات میں تبدیل کر رہا ہے تو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کئے جائیں اور بھارت کو بار بار مذاکرات کی دعوتیں دینے کی بجائے ملک کو دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط اور خارجہ پالیسی کو اتنا پائیدار بنا دیا جائے کہ بھارت خود مذاکرات پر مجبور ہو، بھارتی ہٹ دھرمی کا جواب مضبوط اور توانا پاکستان ہے، مذاکرات کی دعوتوں کا اعادہ نہیں، یہ وقت ہے کہ مودی کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اور وقت کے دھارے کو پاکستان کے حق میں بدلنے کی کوششیں کی جائیں، تب بھارت خود مذاکرات پر مجبور ہو گا، مذاکرات کی دعوت کو کمزوری نہ بننے دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ