اسد قیصر، پرویز الٰہی سے سیکھیں

اسد قیصر، پرویز الٰہی سے سیکھیں

پاکستان میں وفاق اور دو صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں اور ان تینوں کا رویہ بھی مختلف ہے، حتیٰ کہ پارلیمانی روایات اور قواعد کے حوالے سے بھی وفاق اور پنجاب میں فرق آیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے ابتداء میں قائد حزب اختلاف اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے داد سمیٹی اور ہر دو حضرات نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی، لیکن اب یکایک سپیکر کے رویئے میں سختی آ گئی اور انہوں نے اپوزیشن کی درخواست کے باوجود بجٹ سیشن کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے اور وفاقی محکمہ قانون سے معاونت طلب کر لی ہے۔ خواجہ سعد رفیق کے حوالے سے وہ گزشتہ اجلاس ہی سے گریز پا ہیں ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کی حلیف جماعت کے مرکزی رہنما پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے حمزہ شہباز اور خواجہ سلمان رفیق کے بجٹ اجلاس کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے اور وہ دونوں اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس پر حزب اختلاف نے سپیکر کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔جمہوریت اور خصوصاً پارلیمانی جمہوریت میں ایسے معاملات میں حاصل اختیار اور قواعد کے مطابق جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔ سپیکر اسد قیصر نے پہلے محسن داوڑ اور علی وزیر کے معاملے پر تو فوراً معذرت کرلی ہے۔ یوں تاحال آصف علی زرداری اور ہر دو اراکین قومی اسمبلی کا اجلاس میں شریک ہونا ممکن نہیں، اگرچہ آصف علی زرداری کے سلسلے میں وزارت قانون کی رائے کا انتظار ہو گا۔سپیکر اسد قیصر بھی ایوان کو پُرامن طور پر چلانے کے لئے حزب اختلاف سے تعاون مانگتے ہیں اور اکثر کامیاب بھی رہتے ہیں۔ حالیہ وفاقی بجٹ کے موقع پر بھی انہوں نے حزب اختلاف سے تعاون مانگا تو ادھر سے حامی بھر لی گئی اور بجٹ تقریر اطمینان سے سن لی گئی۔ سپیکر نے خود کہا کہ وہ پورے ایوان کے سپیکر اور کسٹوڈین ہیں تو ان کو اس کاعملی ثبوت بھی دینا چاہیے تھا، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے پارٹی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کے حوالے سے سپیکر اسد قیصر کا رویہ قابل تنقید ہے اور ان کو غور کرنا چاہیے شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر پر حکومتی رائے اور فیصلے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تو آصف علی زرداری کے لئے وزارت قانون کی رائے پوچھنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی، بہتر ہے ان کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری کر دیں اس سے آپ کو بھی فائدہ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ